finalishtihaartop.jpg

This Page has 116183viewers.

Today Date is: 23-10-19Today is Wednesday

یورپ میں مقیم مسلمانوں کو درپیش چیلنجز اور ان کی ذمہ داریوں کے عنوان سے جرمنی کے دارلحکومت برلن میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

  • منگل

  • 2019-04-23

برلن سے مہوش خان کی رپورٹ ۔ پروگرام کے مہمان خصوصی اسلامی اسکالر محمد خالد صاحب تھے جن کو خاص طور پر لندن سے مدعو کیا کیا تھا۔جنھوں نے یہاں رہتے ہوئے اپنے تجربات سے تمام پہلوں پر بات کی۔اور یورپ میں آباد امت مسلمہ کو اس وقت یا مستقبل قریب میں درپیش آنے والے چیلنجز اور پھر ان کے حل سے متعلق آگاہی دی۔جن میں سب سے پہلا چیلنج یہاں موجود مادہ پرستانہ نظام ہے جس کی بدولت عیسائی مذہب ان کی زندگی سے نکل گیا ہے۔ان کے ہاں اب خدا کا کوئ تصور باقی نہیں رہا۔ اگر ہم نے اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہ کیا تو وہ وقت دور نہیں جب اس امت میں بھی یہ فتنہ پیدا ہوجائے گا۔ یہاں جنسی آزادی اور الکوحل ازم نے خاندانی نظام کو تباہ کیا ہوا ہے۔ اسکے بعد نسلی تعصب،و منافرت ایک بڑا چیلنج ہے یہاں کے مسلمانوں کے لئے۔ مولانا محمد خالد صاحب نے ان مسائل کے حل بھی بتائے جن میں سرفہرست اعلی تعلیم کا حصول ہے ۔اگر کوئ مثبت موقع ملے تو اسے پوری منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال کیا جائے۔مقامی آبادی کے ساتھ میل جول بڑھائیں۔ یہاں موجود علماء کا فرض ہے کہ وہ دین اسلام کے متعلق مثبت باتیں ان تک پہنچائیں تاکہ ان کی اسلام اور مسلمانوں سے متعلق غلط فہمیاں دور ہوں۔ اس سوسائٹی کی خدمت کرنے کی کوشش کریں۔ چیرٹی پر پیسہ لگائیں۔ایسے ادارے قائم کریں جن میں ہمارے کیا جرمن قوم کے بچے بھی پڑھنے آئیں۔ یہاں رہتے ہوئےہمارا اخلاق ،کردار اور ان سے مثبت انداز میں میل جول ہی ہماری سب سے پہلی اور افضل دعوت ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم پر واجب ہے کہ ہم پوری انسانیت کی خدمت کریں۔ اب ہمیں یہاں رہتے ہوئے اس معاشرے کو ترجیح دینی ہوگی۔انی تمام تر صلاحیتوں کو یہاں مثبت طور پر لگانا ہوگا۔ ملین بلین یورو کی مساجد بنانے کے بجائے تعلیمی اداروں پر توجہ دینی ہوگی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مجھے ہی یہ فضیلت دی گئ کہ پوری زمین کو میرے لئے مسجد بنا دیاگیا۔ عبادت تو کہیں بھی کی جاسکتی ہےخدا کی معرفت کے لئے علم ضروری ہے۔ہم ایک ٹرسٹ بناکر وہاں لوگوں کو تعلیم دیں۔ اس وقت برمنگھم شہر میں 260 مساجد ہیں مگر علم کے لئے ہم نے ایک پیسہ بھی انویسٹ نہیں کیا ہمیں راویتی مذہبیت سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔اصل اسلام لوگوں کو دینا ہوگا۔ اسلام کی دعوت محبت سے شروع ہوتی ہے۔ مسلک نفرتیں پر قائم ہیں۔ اختلافات کو ختم کر کے باہمی اتفاق قائم کرنا ناممکن ہے اختلافات کو برداشت کرتے ہوئے اتفاق و اتحاد قائم کیا جائے اور یہ ذمہ داری ہمارے علماء کی ہے۔ ان ممالک میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں کے بڑے بڑے راہنماؤں کو دعوت دیں اور پھر ان کے سوالات کے جوابات دے کر غلط فہمیوں کو دور کیا جانا چاہئے۔ ان کے علاوہ دیگر مقررین نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یورپ میں موجود مسلمانوں کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالی۔جن میں سرفہرست امت مسلمہ کو درپیش اندرونی مسائل ہیں جن میں فرقہ واریت، لسانیت اور تعصب ہیں دوسری بڑی وجہ یورپ میڈیا کا منفی پروپیگنڈہ ہے۔ تہذیبوں اور تنظیموں کا اختلاف، اسلام سے نابلد لوگ، حجاب و نقاب کا مسلہ، لفظ جہاد کی غلط تشریح کا کیا جانااور اسی طرح کے دیگر عوامل شامل ہیں۔ پروگرام میں پاکستانی نژاد جرمن بچوں نے نہ صرف مختلف حفظ کی ہوئ سورتیں کی تلاوت کی بلکہ نعت رسول مقبول اور اسماء حسنہ بھی پڑھے۔تقریب میں پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔۔ ۔ ۔

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے