imageshad.jpg

This Page has 11854viewers.

Today Date is: 10-12-18Today is Monday

منرل واٹر کمپنیوں کا عوام سے دھوکا پانی صاف کرنے کیلئے کو نسا کیمیکل استعمال کر رہی ہیں۔

  • بدھ

  • 2018-12-05

منرل واٹر کیس میں چیف جسٹس میا ں ثاقب نثارصاحب نے ریمارکس دیے کہ منرل واٹرکمپنیوں کو ہر صورت زیر زمین پانی نکالنے کی قیمت دینا ہو گی۔تما م منرل واٹر کمپنیوں کو چاہیے جلد از جلد اپنا نظام ٹھیک کر لیں وگرنہ ان کو بند کر دیں گے ان کے بندہونے سے کوئی پیاسا نہیں مرے گا۔منرل واٹر کمپنیوں والے رحم کریں دریائے سندھ اور نہروں کا پانی لے کر صاف کر کے بیچ رہے ہیں وہ پانی کی قیمت ادا کریں ا ور پانی کا معیاربہتر کریں۔ اس وقت قرشی اور گورمے کے پانی کا معیار بہتر ہے۔ ماہرین نے عدالت کو بتایا سات ارب لیٹر پانی منرل واٹر کمپنیاں زیر زمین سے نکالتی ہیں اورپانی کو صاف کرنے کیلئے لاشوں کو لگانے والا کیمیکل استعمال کیا جاتا ہے۔ آبی ماہرین کا کہنا ہے ایک لیٹر منرل واٹر پانی بنانے کیلئے تین لیٹر پانی ضائع کیا جاتا ہے۔ اس میں سے قدرتی منرل نکال کر مصنوعی منرل ڈال دیے جاتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا قوم کے ساتھ ہونے والا یہ دھوکا بند کیا جائے۔ ڈی جی ماحولیات نے کہا ان منرل واٹر کمپنیوں کے پاس ناکارہ آلات ہیں جس کی وجہ سے پانی کا معیار بہتر نہیں ہے انھوں نے اس کے ساتھ ہی پانی کا نمونہ عدالت میں پیش کر دیا۔ چیف جسٹس صاحب نے کہا 7 ارب روپے ماہانہ کے حساب سے سالانہ 84ارب روپے بنتا ہے اور 9 سال میں 756ارب روپے منرل واٹر کمپنیوں سے جمع ہونگے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دہے اگر منرل واٹر کمپنیوں سے پیسے مل جائیں تو ڈیم بنانے کیلئے ہمیں کسی سے لینے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ کمپنیاں 50 روپے کی بوتل کا ایک روپیہ بھی ٹیکس نہیں دیتی عوام کو چاہیے ان کمپنیوں کا بائیکاٹ کر دیں اور گھڑے کا پانی استعمال کر جو ان کے پانی سے بہتر ہے۔

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے