finalishtihaartop.jpg

This Page has 64662viewers.

Today Date is: 24-05-19Today is Friday

جرمنی کے شہر برلن میں موجود پاکستانی سفارتخانے میں تمغہ امتیاز حاصل کرنے والے مصنف کے اعزاز میں ایک تقریب کا انعقاد

  • ہفتہ

  • 2019-05-04

برلن ( رپورٹ مہوش خان سے) برلن میں موجودپاکستانی سفارت خانے میں مسٹر Jurgen Wasim کے اعزاز میں ایک تقریب کا اہتمام گیا گیا جس میں انھوں نے اپنی کتاب A Thausend cups of tea سے متعلق آگاہی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ جرمنز چونکہ چائے نہیں پیتے لہذا اسی کی دہائ میں میں جب پاکستان گیا تب کافی سے چائے کی طرف راغب ہوا۔ میں نے اس کتاب کو لکھنے سے قبل پاکستان کے مختلف شہروں میں سفر کیا وہاں مختلف چائے کے ہوٹلز ۔ڈھابے اور چائے کیفیز میں جاکر وقت گزارا ۔لوگوں سے ملا مختلف اقسام کی چائے کے ذائقوں سے لطف اندوز ہوا۔تب مجھے پتہ چلا کڑک چائے،دودھ پٹی چائے،ڈھابہ چائے اور دیوانی چائے مختلف قسم کی اقسام ہیں۔ پاکستان میں رہنے ولے افراد کے لئے چائے پیٹرول کا کام کرتی ہے۔ان کے موڈ بھی چائے پینے نہ پینے اور اس کے ذائقہ پر منحصر ہوتا ہے ۔ پاکستان کے کلچر میں میں نے مہمان نوازی کے عنصر کو بہت زیادہ پایا اور اس کہ وجہ یہاں ان کا مذہب ہے کیونکہ مہمان نوازی مسلمانوں میں ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے آئ ہے۔ اور مہمان کو چائے پلانا بہترین مہمان نوازی سمجھا جاتا ہے۔ مہمان گھر آئے تو اس سے یہی پوچھا جاتا ہے کہ چائے یا جوس ٹھنڈا یا گرم چائے تو چلے گی۔ پاکستان میں چائے صرف گھروں میں ہی بنا کر نہیں پلائ جاتی بلکہ آج اکثریت لوگوں کی دوستوں کے ساتھ جمع ہو کر کسی ہوٹل یا ڈھابے پر چائے پینا پسند کرتے ہیں۔ چائے دراصل پاکستانی معاشرے میں دوستوں سے ملنے کا ایک بہانہ ہے۔ اور پاک ٹی ہاوس جیسی جگہیں تاریخ میں بڑی اہمیت کی حامل ہیں ۔ تقریب سے پاکستانی سفیر جوہر سلیم نے ۔۔۔۔۔ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان کے لئے ان کی کی گئ کاوشوں کو سراہا ان کا کہنا تھا کہ یوں کسی ملک میں جاکر اس کے کلچر کو اتنے قریب سے دیکھ کر اس پر کتاب لکھنا واقعی قابل تعریف ہے ۔

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے