"حجاب " تحریر:مہوش منیر ڈسکہ


  • پیر
  • 2018-10-15
"حجاب " تحریر:مہوش منیر ڈسکہ مجھے خزاں کا موسم بہت پسند ہے،پت جھڑ،اداسی....کہ اس موسم میں دھوکہ نہیں ہے جھول نہیں ہے احتمال نہیں ہے---جیسا نظر آتا ہے ویسے ہی اثرات مرتب کرتا ہے -بہت سے لوگوں کو توڑ دیتا ہے ،پرندوں کو بے ٹھکانہ کردیتا ہے ،پتے قدموں تلے روندھے جاتے ہیں -میرے خیال میں یہ موسم ہمارے بہت قریب کا ہے....ہماری ذات کا آئینہ دار ہمارا پرستار جو ہر لمحہ ہمیں فالو کرنا چاہتا ہے جیسے ہی ہم اداس ہوتے ہیں کوئی پنچھی نغمئہ بے رخی سنا کر چلا جاتا ہے، اپنوں کی بے رخی یاد آتی ہے تو ہر طرف پھیلا ہوا سناٹا روح کو سکون سا دیتا ہے ،ان لمحوں کی یاد آتی ہے جب اس نے اپنے سیل و رواں،پری پیکر، اور تندور وجود سے مجھے کسطرح اتار پھینکا تھا،ٹھیک اسی لمحے، یقین مانو اسی لمحے ایک پتا پیروں تلے روندھا جاتا اور اسکی چرچراہٹ سے دل بوجھل ہو جاتا ہے ،اگلے کئی منٹوں تک اسکی آواز سماعتوں کو مفلوج سی کرتی ہے-اور پھر جیسے ہی سورج غروب ہونے لگتا ہے نارنجی ،سیاہ،آسمانی،نیلے ،سفید اور پیلے رنگ کی آمیزش سے بنی قوس وقزح آسمان کے ساتھ آنکھوں میں ٹھہر جاتی ہے دور کہیں کسی جنگل سے سنائی دینے والی پتوں کی سرسراہٹ ہوا کو نوحوں میں بدل دیتی ہے،اسی لمحے ایک مجھ جیسی لڑکی کچھ ٹھان لیتی ہے ،کہیں کچھ سوچ لیتی ہے پھر وہ رکتی نہیں قریب کے کسی بینچ کے پاس کچھ دیر سستانے کے لیے----وہ چلتی جاتی ہے اس پر آوازے کسے جائیں، اسکے حجاب اوڑھنے کو برا بھلا کہا جائے ،اسکی چال پر مستانے امڈے چلے آئیں وہ پرواہ نہیں کرتی---بنو قریظہ میں پہنچتے ہی وہ بالکل نارمل ہوجاتی ہے یہی تو وہ ٹھان کر آئی تھی---یہیں تو اس نے یو ٹرن لیا تھا- نمرہ احمد کی طرح میں بھی اس بحث میں نہیں پڑتی کہ حجاب واجب ،مستحب ہے یا فرض ہے میں بس یہ جانتی ہوں یہ فیشن نہیں ہے ایک نیکی ہے روز محشر ایک ایک نیکی کے لیے ترسنے والی عورت سوچے گی کاش کوئی ایسا عمل کرلیتی کہ ایک نیکی مل جاتی کاش وہ حجاب یا نقاب کرلیتی ،کاش وہ پردہ کرلیتی خود کو ڈھانپ لیتی درندوں کی خونخوار نظروں سے--- آپ حجاب کریں، نقاب کریں، عبایا پہنیں، چادر لیں،بس جو بھی کریں مستقل کریں-آپکے خاندان والے آپکو برا بھلا کہیں، جابجا تنقید کا نشانہ بنائیں پروا نہ کریں آپ سب االلہ کے لیے کررہے ہیں سب،روز حشر ماں باپ ،خاندان کوئی کام نہیں آئے گا سوائے ہماری نیکیوں کے،ہماری نیتوں کے،ان محفوظ آنکھوں کے جنہوں نے خود کو روکے رکھا ہو غلط دیکھنے سے، ان کانوں کے جنہوں نے کبھی بیہودہ آواز نہ سنی ہو ،اس دل کے جس میں کبھی غلط خواہش پیدا نہ ہوئی ہو اگر کبھی ہو بھی جائے تو سب سے پہلے رب سے رجوع کرنے والے التجا کرنے والے دل کے مالک ہوں ،ان ہاتھوں کے جنہوں نے کچھ غلط نہ چھوا ہوا،ان قدموں کے جو غلط راستے کا اختیار ہونے کے باوجود اس راہ کو نہیں چنتے، اس زبان کے جس نے حرام اور غلیظ نہ چکھا ہو اور اس پیٹ کے جس نے حرام اور ناحق ایک لقمہ نہ کبھی اندر رکھا ہو ہو یا رکھنے سے پہلے ہی باہر اگل دیا ہو-بے شک اللہ زمین و آسمانوں کا نور ہے اور اپنا نور وہ انکو دیتا ہے جنہیں اسے خالص کرنا ہوتا ہے ،جنہیں نکھارنا ہوتا ہے اور نور دل مارے بغیر نہیں ملا کرتا انسان کا اندر خالی ہوجاتا ہے اس نور کے آتے ہی،بہت کٹھن سفر ہے نور حاصل کرنے کیلئے جو طے کرنا ہوتا ہے -