پاکستان کا جشن آزادی اور ہماری ذمے داری تحریر : رانا سعید یوسف


  • پیر
  • 2018-10-16
میرے کالم کاآج کا عنوان ہے پاکستان کا جشن آزادی اور ہماری ذمے داری پاکستان کا یوم آزادی ہم جوش وخروش اور جذبہ حب الوطنی سے مناتے ہیں اوراس میں کسی قسم کی کسر نہیں چھوڑتے چاہے بچے ہوں،جوان اور ہماری بیٹیاں کیونہ ہوں اسے بھرپور انداز سے مناتی ہیں اور اس کی مثال دیدنی ہے۔ سب سے زیادہ بچے اور بچیاں سب سبز ہلالی پرچم کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ ہر طرف ہرے رنگ اور چاند ستارے کی بہار آ جاتی ہے۔ پرچم پاکستان کے رنگ کے کپڑے سلوائے جاتے ہیں لڑکیاں اسے بڑے شوق سے زیب تن کرتیں ہیں ہر طرف عید کا سماں نظر آتا ہے۔در حقیقت یہ ہماری عید آزادی بھی ہے جسے ہم نے ایسے ہی حاصل نہیں کیا بلکہ اس کی بہت بڑی قیمت چکائی ہے ہجرت کے وقت لاکھوں لوگوں کی قربانی دی ہے آزادی کی قیمت کا اندازہ کرنا ہوتو ان کشمیریوں سے پوچھیں پھر کیوں نہ ہم اس ارض پاک کو حاصل کرنے اور اس دن کی نسبت سے خوشی منائیں۔ ہمارے گلی محلے اور بازار سبز ہلالی پرچم کی جھنڈیوں سے سج جاتے ہیں اور ہر طرف خوشی کا سماں ہوتا ہے۔ ایک پاکستانی شہری ہونے کے ناتے 14اگست اور 23 مارچ کو ہمارا جذبہ حب الوطنی اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔ جیسے ہی یہ دن گذر جاتے ہیں ہمارا جذبہ ماند پڑنا شروع ہو جاتا ہے ہم پھر وہی پرانی ڈگر پر چلنا شروع ہو جاتے ہیں جبکہ ہمارا جوش وجذبہ جو ایک پاکستانی کی حیثت سے تھاپھر اس کو کیا ہو گیا۔ کیا اس کو کسی کی نظر لگ گئی؟ یا صرف اسی دن کیلئے ہماراجذبہ حب الوطنی امنڈ آتا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا ہم اپنے قائد جناب قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے ارشادات کو اپنے اندرسموتے اور اپنی روز مرہ زندگی میں اس پر عمل کرتے اوراپنے ملک کو ایک عظیم ملک بناتے جو قائد ہمارے لئے چھوڑ گئے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے ہم اس کی الٹی سمت چل رہے ہیں۔ قائد کا فرمان ہے ہمیں صرف کا م۔ کام اور کام کرنا ہے تاکہ اس ملک کو عظیم ملکوں کی صف میں کھڑاکرسکیں ہمارا آبادی کا سب سے بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جو بے روزگار ہے۔نوجوانوں کو نوکریاں دینے کے تمام بڑے بڑے دعوے کرنے والی جمہوری حکومتوں نے پروگرام دیے صرف الیکشن کمپین چلانے کیلئے لیکن درحقیقت کیچھ نہیں کیا اگر کیا ہے تو اس پر عمل نہ ہونے کے برابر ہے جسکی وجہ سے نوجوان طبقہ آج بھی بے روزگار ہے اور کیچھ مختلف جرائم میں ملوث ہو گیا ہے آخر کار اتنی تعلیم حاصل کرنے کے بعدوہ اپنے اخراجات کہاں سے پورے کریں۔ گورنمنٹ کو چاہیے تھا ان کے لئے نوکریوں کا بندوبست کیا جاتا یا ان کو بے روزگاری الائنسز دیے جاتے تاکہ وہ کسی غلط سمت میں قدم نہ اٹھاسکیں لیکن ہر حکومت نے صرف دعوے کیے جو وفا نہ ہوئے۔ موجودہ تحریک انصاف کی حکومت نے بھی ایسے دعوے کیے ہیں دیکھیں کہاں تک سچ ثابت ہوتے ہیں۔ میں اب اصل نقطہ کی طرف آتا ہوں جب ہم اپنے قومی دن کے حوالہ سے جشن آزادی منا لیتے ہیں تو اس کے بعد ان قومی پرچم والی جھنڈیوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ صد افسوس ہماری وہ جھنڈیاں اگلے دن کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر پڑی ہویئں نظر آتیں ہیں جو ہمارے جذبہ حب الوطنی کا منہ چڑانے کے لیے کافی ہے کاش ہم ایک اچھے اور ذمے دار پاکستانی ہوتے اور ان جھنڈیوں کو اتار کر محفوظ کرتے لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہمارے بڑے گھر کے بزرگ اور ہمارے اساتذہ کا فرض بنتا ہے وہ بچوں کو تلقین کریں کہ یہ عام سالگرہ والی جھنڈیاں یا شادی کے پھولوں کے استعمال شدہ ہار نہیں ہیں یہ پاکستانی پرچم والی جھنڈیاں ہیں اور ہمارے قومی پرچم کی حرمت ہے۔ اس پرچم کی حرمت کے لیے سرحدوں پر ہمارے فوجی جوان اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں ایک ذمے دار پاکستانی ہونے کی حیثیت سے ہمیں اپنے بچوں کو بتانا چاہیے جب جشن آزادی منانے کے لیے پیسے دیتے ہیں تو اس بات کی تاکید کرنی چاہیے بیٹا جب آپ لوگ آزادی کی خوشی منا لوتو ان قومی پرچم والی جھنڈیاں کو اتار کر سنبھالنا ہے تاکہ کسی گندی جہگہ پر پڑی نہ نظر نہ آئیں۔ اسی طرح اسکولوں میں اساتذہ کا بھی فرض ہے وہ اپنے طالب علموں کو اپنے قومی جھنڈے کی عزت اور احترام کرنا سکھائیں۔ ایک اچھا پاکستانی بننے کیلئے جشن آزادی کے دن اپنے آپ سے عہد کرنا ہے ہم اپنے قائد محمد علی جناحؒ کے بتائے ہوئے اصولوں پر کاربند ہوں گے اور اپنے اندر تبدیلی لائیں گے تاکہ ہم اپنے قائد کی روح کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔