imageshad.jpg

This Page has 11871viewers.

Today Date is: 10-12-18Today is Monday

تھل کی حقیقتیں. تحریر جاوید محرم گھلو

  • پیر

  • 2018-11-19

اسلام آباد میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں احتساب انتقام یا حقیقی پر اپوزیشن جماعتوں اور حکومتی ارکان کے مابین ایک گرما گرم جملوں کا تبادلہ ہورہا تھا ایوان میں غیر جمہوری زبان کا استعمال کیا جارہا تھا میں اسی روز ضلع جھنگ اور خوشاب سے متصل صحرائے تھل کے دور دراز علاقوں میں تھا۔ اس روز تحصیل نورپور تھل کے نواحی علاقے میں لوگوں سے تھل کے حوالے سے ایک ڈاکومینٹری بنانے کے لیے معلومات لے رہا تھا۔موقع کی مناسبت سے اس گاؤں کے مکینوں نے اپنے مسائل میرے سامنے بیان کرنا شروع کر دیے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس علاقے میں ٹائیفیڈ اور ٹی بی کے ساتھ کالے یرقان کے مریض بھی کافی تعداد میں موجود ہیں اس نوعیت کے سنگین امراض اس گاؤں کے لیے نئے نہیں ہیں کئی نوجوان عورتیں اور مرد ان سنگین نوعیت کے امراض میں مبتلا ہو کر جان کی بازی ہار چکے ہیں خصوصاً ٹی بی کے مریضوں کی تعداد تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے علاقے سے قریب ترین ڈاکٹر بائیس میل پر ہے۔ گاؤں تک سڑک سفر کرنے کے قابل نہ ہونے کے باعث عموماً مریض لاعلاج ہی رہتے ہیں یہ کہ بہت ہی سنگین مرض لاحق ہو۔ ایسے میں اتنا لمبا سفر ویسے ہی مریض کو ہلکان کر دیتا ہے نورپور تھل کے کچھ علاقوں میں۔ پینے کا پانی گاؤں سے چھ میل کے فاصلے پر ہے۔ ہر گھر کی ایک عورت صبح سویرے پانی بھرنے نکلتی ہے تو دن چڑھے لوٹتی ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے اس صحرا میں اس زور کی بارش نہیں ہوئی جیسا کہ پہلے سال میں کم از کم ایک بار ہوا کرتی تھی۔ نتیجہ یہ ہے کہ زیرزمین پانی کی سطح مزید نیچے چلی گئی ہے اور جو آمدنی چنے کی کاشتکاری سے ہوتی تھی اب وہ بھی آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے۔حکومت نے ہرگاؤں میں پرائمری اسکول تو بنا دیئے ہیں لیکن ان میں بھی کہیں استاد نہیں تو کہیں شاگرد غائب جس پر گزشتہ حکومت نے بیشتر سکول کے پیف کے حوالے کر دیئے تھے جہاں پر غیر تربیت یافتہ سٹاف تعینات ہے جس کے نتیجے میں بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے بہت ہی کم قصبوں میں ہائی سکول موجود ہیں میٹرک کے بعد تعلیم جاری رکھنے کی واحد صورت قریبی شہر ہیں جو اتنے بھی قریب نہیں روزانہ آنے جانے کے لیے کوئی معقول سواری کا انتظام کیا جاسکے کیونکہ غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے تھل کے باسی شدید مالی بحران کا شکار ہیں یہی وجہ ہے تھل کے بسنے والے بہت ہی کم خاندان بچوں کو میٹرک کے بعد تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیج پاتے ہیں جب تھل کے اس گاؤں میں ان مسائل پر بات ہو رہی تھی، اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شریک اراکین ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر رہے تھے ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا تھل کے مکینوں کا اس اجلاس سے کوئی تعلق بنتا ہے،مگر پھر بھی کچھ نوجوان اور بڑی عمر کے لوگ سیاست پر بحث کرنے میں مصروف تھے ارادہ تو میرا یہی تھا کہ اس گاؤں کے لوگوں سے سیاست کے حوالے سے بحث کی جائے لیکن میری نالائقی کہیے لیکن سچی بات یہی ہے کہ میں ایسا کرنا بھول ہی گیا۔ ویسے بھی تھل کے صحرا کی حقیقتوں کا قومی اسمبلی میں کیا کام کیونکہ منتخب نمائندوں نے تھل کو نظر انداز کرنے کی روایت کو برقرار رکھا ہوا ہے جس پر آج تھل بہت سارے سنگین مسائل سے دوچار ہے مسائل کے حل کے لیے تو مقامی لوگ آواز بلند نہیں کرتے مگر نام نہاد سیاسی نمائندوں کیلئے ایک دوسرے سے جھگڑا اور فضول بحث کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ تھل کے علاقوں سے منتخب ہونے والے نمائندے ہر گاوں میں موجود اپنے ناجائز معززین کے ذریعے لوگوں کو استعمال کرتے ہیں اور قومی اسمبلی ہو یا پنجاب کہیں بھی تھل کی بات کوئی نہیں کرتا اب بھی وقت ہے تھل کے عوام خصوصاً نوجوان طبقہ تھل کو درپیش مسائل حل کراونے کے لیے منتخب نمائندوں پر دباؤ ڈالے ان کو باور کرائے کہ اب روایتی سیاست قصہ پارینہ بن چکی ہے اگر ایسا نہ ہوا تو آنے والے دنوں میں تھل بھی سندھ کے علاقے تھر پارکر کی طرح اجاڑ اور سنسان جنگل کا منظر پیش کرنے لگے گا

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے