imageshad.jpg

This Page has 11869viewers.

Today Date is: 10-12-18Today is Monday

سانجھی بیٹیاں تحریر :عمارہ کنول

  • جمعرات

  • 2018-11-22

سنا کرتے تھے بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں اور کافی عرصے تک اس کی عملی تفسیر سے لطف اندوز بھی ہوئے ہیں۔ ہماری والدہ سرکاری معلمہ تھیں اور ان کا تبادلہ پنجاب کے مختلف شہروں میں ہوتا رہتا تھا اب یہ ان کی طفیل زیادہ تھا یا واقعی زمانہ سادہ تھا کہ ہم گھر سے باہر پہروں کھیلتے بچے بچیاں ساتھ ہوتیں، سورج سے چاند کی روشنی ہو جاتی ایسے میں جس کے گھر کے بڑے سے صحن میں ہم کھیلتے ان کا بڑا ہمیں گھرکتا تو اس بات پر کہ چلو کھانا کھاو۔بلا تمخیص کہ کتنے بچے ہیں اور کس کس کے بچے ہیں سب کو ٹھونس ٹھونس کر کھانا کھلایا جاتا اور دودھ کا گلاس بھر کہ دیا جاتا، شکم سیری اور تھکاوٹ سے چور کوئی بچہ وہیں سو جاتا تو کبھی اس کے گھر والے آتے اور یا تو بچے کو لے جاتے یاوہ وہیں سویا رہتا۔ ہمیں اپنے ذہن پر لاکھ زور دینے کے باوجود ایسا کوئی واقعہ یاد نہیں آرہا جس میں کسی لڑکی کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی یا کسی نے گھر سے بھاگ کر شادی کر لی جیسا معاملہ سامنے آیا ہو۔ شبو آپی اور سلیم بھائی اگر ایک دوسرے کو جوان ہونے پر چھپ چھپ کر دیکھتے پائے بھی جاتے تو شبو آپی چپ چاپ وہیں شادی کر لیتیں جہاں ماں باپ کہتے چار دن آنسو بہا لیتیں اور سلیم بھائی بس ہیں بھرتے خاموش ہو جاتے۔ مجھے یاد ہے اوائل عمری یہی کوئی دس گیارہ سال کی عمر میں گاؤں کے ایک لڑکے نے ہمیں ایک لو لیٹر تھمایا جس پر کچھ دل کی ٹیڑھی میڑھی سی شکلیں بنی ہوئیں تھیں، ہمیں شدید غصہ آیا تنتناتے ہوئے اس کے گھر پہنچے اور اس لڑکے کے ابا کو وہ خط تھما دیا، سارے خاندان نے اس کی پٹائی کی اور ہم سے بھی اس کو تھپڑ رسید کروائے گئے اور یہ جملہ کوئی سو بار کہلوانے پر لڑکے کی جان خلاصی ہوئی کہ یہ میری بڑی بہن ہے۔ کسی نے خط کھول کر دیکھنے کی زحمت ہی نہیں کی کہ آخر اس معصومانہ سے خط میں تھا کیا؟ بس سب کے لیے اہم یہ بات تھی کہ یہ بیٹی ہے اور بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں اور ان کے سگے بچے نے ان کی ناک کٹوا دی ہے۔ غیرت کا یہ پیمانہ اس لیے تھا کہ وسائل کم تھے لیکن شکر گزاری اور اللہ کا خوف تھا۔ یہ ڈر کہ آج جو بوئیں گے کل وہی کاٹنا پڑے گا لوگوں کو ہلکان کئے رکھتا تھا کہ برا نہیں کرنا۔ بیٹیوں کے لحاظ میں اپنی کملی بچھانے والے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کا مان اور غرور جو تھا۔ جبکہ آج کے دور میں یہ شرم جھجھک دور ہو چکی ہے کوئی ہمارا کیا بگاڑ لے گااور تم کون ہوتے ہو میرے معاملات میں دخل اندازی کرنے والے کا فلسفہ ہمارے معاشرے کو ایک عجیب طرف لے چلا ہے۔ وہ میڈیا جو ڈراموں میں ڈوپٹے کی پالیسی کو مدنظر رکھتا تھا اور رات بارہ بجے ٹرانسمشن بند کر دیا کرتا تھا اب ریٹنگ کے چکر میں بارہ بجے کے بعد مخصوص چینلز پر مخصوص مواد لگاتا ہے، اور نام دیا جاتا ہے پبلک ڈیمانڈ کا۔ لیکن اگر آپ مستقل ایک چیز چلائی جا رہے ہیں تو چھوٹے بڑے بلا تمخیص اسے دیکھیں گے اور اس کے عادی ہو جائیں گے۔ میڈیا پر باآسانی رسائی نے جھجھک اور شرم اور لحاظ ختم کر دیا ہے تین چار دن پہلے ایک وڈیو میری نظر سے گزری جس میں ایک چھ سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی اور اس کے خون آلود کپڑے اسی بے بس کی ماں دیکھا رہی تھی مقصد بے حیائی نہیں انصاف کا حصول تھا کہ سوشل میڈیا پر اس کے وائرل ہونے کے بعد ہی اعلی حکام کی توجہ اس جانب مبذول ہو گی اور یہ عمل بار آور بھی ثابت ہوا تازہ اطلاعات کے مطابق ایف آئی آر درج ہو چکی لیکن ملزمان گرفتار نہیں ہو سکے۔ دوسرا واقعہ ایک تین سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کا تھا۔ دل دہل کر رہ گیا ان دونوں واقعات سے جہاں ایک جانب ننھی کلیوں کے مسلے جانے کا دکھ تھا وہیں اس امر کا افسوس بھی کہ انصاف کے لیے ماں کو کیا راستہ اپنانا پڑا۔ اور انصاف ملا بھی یا نہیں تاحال یہ ایک معمہ ہے۔ اخبار اٹھا کر دیکھ لیں، کوئی ٹی وی چینل دیکھ لیں روزانہ کی بنیاد پر بچوں کے ساتھ زیادتی کے معاملات کی کوریج نظر آئے گی۔ دماغ تناؤ میں آجاتاہے کہ آخر یہ سب کرنے والے ہیں کون؟ یہ ذہنی مریض ہم میں سے نہیں ہو سکتے بلکہ انسان بھی نہیں ہو سکتے۔یہ وہ حیوان ہیں جنھیں حیوان بھی اپنانے سے انکاری ہو جائیں۔ ایسے لوگ کس منہ سے خود کو مسلمان بلکہ انسان کہتے ہونگے۔ ایک سلوگن میری اور آپ کی نظر سے گزرتا ہے نفرت جرم سے، مجرم سے نہیں۔بجا ہے کیونکہ چوری ڈکیتی اور قتل جیسے عوامل غربت یا غصے کی وجہ سے سر زد ہو جاتے ہیں میری دانست میں اس قبیح فعل کو انجام دینے والا پورے ہوش و حواس میں ہوتا ہے اور مغلوب کو بے چارگی کی کیفیت میں دیکھ کر لطف اٹھاتا ہے، فتح کا احساس اس کو اور ظلم پر اکساتا ہے۔ اسلام میں اس فعل کی سزا سنگ باری ہے کیونکہ جس طرح جسم کا ہر عضو محظوظ ہوتا ہے اسی طرح ہر عضو پر چوٹ لگنی چاہئیے۔ میں کہتی ہوں کہ ایک یا دو سزائیں ایسی واقع ہو جائیں تو اگلی بار بچی ہو یا جوان اس گناہ کی طرف کوئی جانا درکنار سوچے گا بھی نہیں۔ کجا یہ کہ انصاف کے لیے دربدر بھٹکنا پڑے۔ اسلام میں نکاح کو پسند کیا گیاہے۔ تو حکومت کو چاہئیے کہ نکاح کو آسان دینے دیں، اس کے لیے بھاری رقم رکھنا کہاں کا انصاف ہے؟ اور پھر ہمارے معاشرتی ضابطے کہ جی طلاق یافتہ سے نہیں کرنی، عمر میں بڑی، قد میں چھوٹی، ذات سے باہر، اپنے پیمانے بدلیں۔ اپنے بچوں کی تربیت کا انداز بدلیں۔ بچے اپنے والدین سے ہی سیکھتے ہیں تو پہلے اپنے گھر میں اخلاقی اقدار کو بہتر بنائیں۔ بچوں کے سامنے گالم گلوچ، ازدواجی معاملات، نا کریں۔ ہر چیز کے استعمال اور فہم کی ایک عمر ہوتی ہے اس مناسب عمر کا انتظار کریں اور مناسب معلومات مہیا کریں۔ اپنے بچوں کے دوستوں اور ان کی مصروفیات پر توجہ دیں۔ سمجھائیں۔ اعتماد دیں۔ اچھے برے کی تمیز سیکھائیں۔ اور بتائیں کہ آج کسی کے ساتھ کرو گے تو کل اپنے گھر سے دینا پڑے گا،۔ میرے ملک میں انصاف کی فراہمی فوری اور یقینی بنائی جائے۔ بیگناہ لوگ جیلوں میں سڑ رہے اور گناہگار باہر سر عام گھوم رہے، لاکھوں روپے دے کر یا سفارش لڑا کر مظلوم کا منہ بند کروا دیا جاتا ہے، اس کی ذات کی ایسے نفی کر دی جاتی ہے کہ وہ بولنا بھول جاتا ہے۔ زنا کا شکار بچیاں بالخصوص حواس کھو بیٹھتی ہیں ان کی ذات کا اعتماد، ان کا وقار، ان کا نام تک چھین لیا جاتا ہے وہ ساری زندگی کسی مرد کے سائے تک سے بھاگتی ہیں۔ اور یہ جو معصوم بچیوں کو ہوس کا نشانے بناتے ہیں کل کس منہ سے اپنے بچوں کا منہ چومیں گے؟ کس طرح اپنی بیٹی سے نظر ملائیں گے وقت اگر اس بچی کے لیے مرہم ہوگا تو ایسے مجرم کے لیے اس کا ضمیر عدالت ہو گا، اگر انصاف دنیا میں نہیں ملے گا تو انصاف وہ کرے گا جس کا نام عادل ہے اور اس کا انصاف، اس کی سزا ایسی ہے کہ انسان کی سوچ بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتی۔ کیونکہ اس کی بنائی ہوئی دنیا میں اس کے لیے سب ایک جیسے ہیں۔ اس نے واحد انسان وہ مخلوق بنائی جس کو سمجھ بوجھ دے کر اپنے معاملات کی آزادی دی، آزادی کا غلط استعمال نا کریں کہیں وہ آزادی نا چھین لے۔۔ کیونکہ اس کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کہا تھا کہ بیٹی خواہ کافر کی ہو یا مسلمان کی، بیٹی صرف بیٹی ہوتی ہے۔ تو اس بارہ ربیع الاول کیوں ناں یہ عہد کر لیں کہ ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے یہ ماننا پھر سے شروع کر دیں گے کہ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے