imageshad.jpg

This Page has 23816viewers.

Today Date is: 17-01-19Today is Thursday

ڈیجیٹل صحافت اور ہماری ذمےداریاں. تحریر جاوید محرم گھلو

  • ہفتہ

  • 2019-01-05

ڈیجیٹل صحافت: پاکستان کا سب سے بڑا آن لائن اخبار ڈیلی لاہور ٹائمز لاہور جس کے چیف ایڈیٹر رانا سعید یوسف صاحب نے فروغ صحافت کے لیے بے شمار اقدامات کئے ہیں نئے چہروں کو متعارف کروایا ہے اور پاکستان میں ڈیجیٹل صحافت کو متعارف کرانے میں کردار ادا کیا ہے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ڈیجیٹل صحافت اور ڈیجیٹل اردو صحافت کا آغاز انٹرنیٹ کے ابتدائی تعارف کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا۔ روایتی میڈیا ہاؤسز نے بھی اس شعبہ کا رخ کیا تاہم اس سے قبل انفرادی سطح پر بھی اس پر کام شروع ہو چکا تھا۔ انگریزی ڈیجیٹل جرنلزم میں جہاں متعدد نام ملتے ہیں وہیں اردو ڈیجیٹل جرنلزم بھی پیچھے نہیں رہا۔ پاکستان میں ڈیجیٹل صحافت کو متعارف کرانے والے ابتدائی لوگوں میں پروپاکستانی کے عامر عطاء، دی نیوز ٹرائب اور پاکستان ٹرائب کے شاہد عباسی، ہماری ویب کے حافظ ابرار اور رضوان شیخ، اردو پوائنٹ کے علی نقوی، ٹیلیکام ریکارڈر کے محمد یاسر امین، تلخانہ کے نعمت خان، ابو شامل کے فہد کیہر کے علاوہ تونسہ ایکٹو جرنلسٹس گروپ کے صدر اطہر ندیم سومرو کے علاوہ سوشل میڈیا ممبران محمد مزمل قریشی محمد منیر بلوچ محمد آصف شہزاد قیصرانی محمد حنیف ہیڈوار مرید عباس شامل ہیں۔ مواد کی ترتیب تاریخڈیجیٹل صحافت کی انفرادیت پاکستان میں ڈیجیٹل صحافت پاکستان میں ڈیجیٹل پبلشنگ 1970میں ٹیلی ٹیکسٹ کے نام سے یوکے میں متعارف ہونے والا ٹول ڈیجیٹل صحافت کا نقطہ آغاز تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ ایک نظام تھا جس میں صارف کو موقع دیا جاتا تھا کہ وہ پہلے کون سی اسٹوری دیکھنا یا پڑھنا چاہتا ہے۔ ٹیلی ٹیکسٹ کے ذریعہ مہیا کی جانے والی معلومات مختصر مگر فوری ہوا کرتی تھیں۔ ورٹیکل بلیکنگ انٹرویل یا وی بی آئی کے نام سے معروف ٹیلی ویژن سگنلز فریم کے ذریعے معلومات کی ترسیل کی جاتی تھی۔ پریسٹل دنیا کا وہ پہلا نظام تھا جس کے ذریعے ویڈیوٹیکس کی تخلیق عمل میں آئی۔ 1979 میں متعدد برطانوی اخبارات مثلا فنانشل ٹائمز نے اپنی اسٹوریز آن لائن مہیا کرنا شروع کیں۔ صارفین کی ضروریات پوری نہ کر سکنے کے سبب ویڈیوٹیکس 1986 میں ختم ہو گیا تھا۔ اسی دوران امریکا میں ویوٹورن، کی کام اور گیٹ وے وغیرہ شروع ہوئیں تاہم یہ بھی 1986 تک بند ہو چکی تھیں۔ 1980 کے اختتام اور 1990 کے ابتدا بلیٹن بورڈ سسٹم متعارف کیا گیا۔ بی بی سی سافٹ ویئر اور ٹیلی فون موڈیمز کے ذریعہ متعدد چھوٹے اخبارات نے آن لائن نیوز سرور شروع کی۔ آن لائن نیوز ویب سائٹس نے سے کام شروع کیا۔ مبینہ طور پر شمالی کیرولینا کے امریکی اخبار دی نیوز اینڈ آبزرور نے نینڈو کے نام سے آن لائن خبروں کی فراہمی شروع کی۔ 1994 میں پہلے کمرشل ویب براؤزر نیٹ اسکیپ اور 1995 میں انٹرنیٹ ایکسپلورر کے متعارف ہونے والے کو ڈیجیٹل جرنلزم میں اضافے کا وقت تسلیم کیا جاتا ہے۔ 1996 تک متعدد ابلاغی ادارے آن لائن شکل اختیار کر چکے تھے۔ اس مرحلہ پر ادارتی مواد اخبار، ریڈیو یا ٹیلی ویژن کے لیے تیار شکل میں ہی انٹرنیٹ پر پیش کیا جاتا تھا۔اے او ایل اور یاہو کی صورت جلد ہی نیوز ایگری گیٹرز سروسز متعارف کرائی گئیں جو خبروں سے متعلق پلیٹ فارم سے مواد جمع کر کے صارف کو فراہم کیا کرتے۔ 1995 میں سیلون متعارف ہوا۔ 2001 میں امریکن جرنلزم ریویو نے سیلون کو دنیائے انٹرنیٹ کا پہلا نمایاں پلیٹ فارم قرار دیا جس نے ڈیجیٹل صحافت کو ایک قدم آگے بڑھایا۔ ڈیجیٹل صحافت کی انفرادیت ڈیجیٹل صحافت کی ابتدا کے کچھ ہی عرصہ میں بلاگنگ اور اسی شعبہ کی دیگر اصناف بھی متعارف ہو چکی تھیں۔ پہلے سے صحافت سے وابستہ افراد یا لکھنے میں دلچسپی رکھنے والے نئے افراد نے بلاگنگ کو ابلاغ کا ذریعہ بنایا جس نے تیزی سے صارفین کی توجہ حاصل کی۔ روایتی میڈیا کے برعکس پورا دن ہر لمحہ اپ ڈیٹ ہونے والی معلومات بروقت صارف تک پہنچ کر اسے بہتر انداز میں باخبر رکھتی ہیں یہ ڈیجیٹل صحافت کی بنیادی خوبیوں میں سے ایک تصور کی گئی۔ اتنا ہی نہیں بلکہ پیش کی جانے والی معلومات کی تفصیل اور متعدد ذرائع سے اس کی دستیابی نے وہ کمی بھی پوری کی جو دیگر میڈیمز پوری نہیں کر سکتے تھے۔ ڈیجیٹل صحافت نے معلومات پر سے کارپوریٹ اور حکومتی کنٹرول کو بھی ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔اخبارات جگہ کی تنگی اور مخصوص وقت پر شائع ہوتے تھے۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن زیادہ سے زیادہ معلومات کو سامع اور ناظر تک پہنچانے کے چکر میں انہیں بہت مختصر کر دیتے تھے لیکن ڈیجیٹل صحافت نے ناصرف بروقت معلومات مہیا کیں بلکہ صارف کو یہ سہولت بھی فراہم کی وہ اپنے مطلب کی معلومات پوری تفصیل سے حاصل کر سکے۔ پاکستان میں ڈیجیٹل صحافت 1990 کی دہائی کی ابتدا میں انٹرنیٹ پاکستان میں متعارف کیا گیا جس کے بعد سے آئی سی ٹی یا انفارمیشن اینڈ کیمونیکیشن ٹیکنالوجی تیزی سے فروغ پانے والی صنعتوں میں نمایاں رہا۔ 2001 میں محض ایک اعشاریہ تین فیصد پاکستان انٹرنیٹ تک رسائی رکھتے تھے تاہم آئندہ پانچ برسوں میں اس میں تیزی سے اضافہ ہوا اور 2006 تک یہ تعداد بڑھ کر چھ اعشاریہ پانچ اور 2012 میں کل ملکی آبادی کا دس فیصد ہو چکی تھی۔ اکتوبر 2018 تک پاکستان میں براڈبینڈ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد انتیس اعشاریہ سات فیصد سے تجاوز کر چکی تھی، گویا چھ کروڑ بیس لاکھ افراد ورلڈ وائڈ ویب سے منسلک ہو چکی تھے۔ یہ تعداد پاکستان کو دنیا میں انٹرنیٹ سے منسلک ہونے والے بڑے ممالک میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کو ایشیا میں ٹیکنالوجی حب کا خطاب بھی دے چکی تھی۔ اسی عرصہ میں پاکستانی اخبارات انٹرنیٹ پر دستیاب ہونا شروع ہوئے۔ روزنامہ جسارت اور انگریزی زبان کا اخبار روزنامہ ڈان انٹرنیٹ پر آنے والے اولین پاکستانی اخبارات تھے۔ روزنامہ جنگ سمیت دیگر پاکستانی اخبارات بھی 90 کی دہائی کے وسط تک انٹرنیٹ کا رخ کر چکے تھے۔ اس مرحلہ پر بلاگرز بھی منظرعام پر آنا شروع ہوئے۔ اکیسویں صدی شروع ہو کر آگے بڑھی تو پاکستان میں موبائل فونز کے فروغ اور انٹرنیٹ کی رسائی میں اضافہ نے مزید افراد کو اس جانب راغب کیا۔ اس مرحلہ پر متعدد آزاد پبلشرز سامنے آئے اور 2010- کالم نگار جاوید گھلو

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے