imageshad.jpg

This Page has 52984viewers.

Today Date is: 23-04-19Today is Tuesday

عنوان : ۔آخر کب تک معصوم شہری پولیس گردی کا شکارہوتے رہیں گے تحریر : رانا سعید یوسف

  • منگل

  • 2019-01-22

حضرت علی کا قول ہے ایک ریاست اور حکومت کفر کی حالت میں تو برقرار رہ سکتی ہے لیکن ظلم کے ساتھ اس کا قائم رہنا ممکن نہیں ہے۔پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیاجہاں پراسلام کے اصولوں کے مطابق ملک کا نظام حکومت اور عدلیہ کو چلایا جانا تھا لیکن ہماری بد قسمتی ایسا نہ ہوسکا۔قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے آغاز پر کہہ دیا تھامیری جیب میں کھوٹے سکے ہیں۔پاکستان کے وجود میں آتے ہی جو لوگ قائد اعظم کے ساتھ تھے وہ لوگ ملک میں اسلامی قوانین کا نفاذ نہیں چاہتے تھے۔وہ اشرافیہ جو آج تک ریاست کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے وہ پاکستان کے غریب عوام کو اب تک اپنا غلام سمجھتی آ رہی ہے۔اس ملک میں غریب کے لئے قانون اور ہے اور امیر کے لئے قانون اور ہے۔ حال ہی میں ایک دردناک واقعہ ساہیوال میں پیش آیاجس میں سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے درندگی کی انتہاکر دی اورچار بے گناہ افراد جن میں ایک معصوم بچی بھی تھی گولیوں کی بچھاڑ کرکے شہید کر دیا اور تین بچے جن میں دو کو گولیاں لگیں زندہ بچ گئے۔یہ نیا پاکستان ہے ہم نے تحریک انصاف کو ووٹ صرف اس لئے دیا تھا تاکہ ملک میں قانون کی حکمرانی ہو گی اور غریب کو انصاف ملے گا۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا ملک میں دو حکومتیں چل رہیں ہیں ایک جو اسلام آباد میں اور دوسری تھانوں میں ہمارا ملک پولیس اسٹیٹ بن چکا ہے جب تک پولیس کے فرسودہ نظام کو بدلا نہیں جائے گاعوام سکھ کا سانس نہیں لے سکتے۔عوام اسی طرح پولیس کے ہاتھوں مرتے رہیں گیا آخر کب تک یہ ظلم کا بازار گرم رہے گا۔ اس سے پہلے آل شریف کے دور میں ماڈل ٹاون میں بے گناہ 14افراد کو شہیدکیا گیا اور 90 افراد کو سیدھی گولیاں مار کر زخمی کر دیا گیا اور آج تک ان کو انصاف نہیں مل سکا۔کراچی میں مشہور ماڈل نقیب اللہ مسعود کو پولیس نے دہشتگردی کی آڑ میں شہید کر دیا۔اس طرح کے واقعات مسلسل ہو رہے ہیں ہماری پولیس کی کوئی تربیت نہیں ہے جبکہ دنیا میں جدید سائنسی بنیادوں پر تفتیش کی جاتی ہے اور ہم آج تک وہی پرانے طریقوں سے کام چلا رہے ہیں۔ پہلے کی حکومتیں نے اپنے سیاسی مفادات کو پورا کرنے کے لئے پولیس کو استعمال کیا اور سیا سی بھرتیاں کیں جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ مسلم لیگ نواز کی حکومت میں خود ساختہ خادم اعلی پنجاب نے عابد باکسر کے ذریعے درجنوں بندے پھڑکا دیے تھے۔ اس اسٹیٹس کو اشرافیہ نے قائد اعظم کا پاکستان بھی نہیں رہنے دیا نہ پرانا پاکستان اب نئے پاکستان میں بھی کام تو وہی ہو رہے ہیں صرف چہرے بدلے ہیں۔ تبدیلی سرکار جب تک پولیس اور عدالتوں کا نظام درست نہیں کرے گی عوام تک فوری اور سستا انصاف مہیا نہیں ہوگا۔ اس لئے میری وزیر اعظم پاکستان سے پرزور التجا ہے خدارا ساہیوال والے واقعہ میں ملوث افراد کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے تاکہ شہدائے کے لواحقین کوصبر آ جائے شہید ہونے والے واپس تو نہیں آ سکتے لیکن موجودہ حکومت پولیس کے نظام کو بہتر بنا کردوسرے شہریوں کی زندگی محفوظ بنا سکتی ہے۔

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے