finalishtihaartop.jpg

This Page has 64640viewers.

Today Date is: 24-05-19Today is Friday

ڈیجیٹل طوائف : تحریررانا سعید یوسف

  • جمعرات

  • 2019-02-14

سوشل میڈیا عصرحاضر کی اہم ضرورت ہے اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ہم دور بیٹھے ہوئے اپنوں سے بات چیت کر سکتے ہیں اور ای میل کے ذریعے اپنے کاروبار کو ترقی دے رہے ہیں۔ اور بہت سی آسانیاں پیدا کیں ہیں اس سوشل میڈیا نے ہمارے لئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بہت سی قباحتیں بھی جنم لے چکی ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں خرابیاں پیدا ہو رہیں ہیں۔ہمارا فیملی سسٹم تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔بچے ہر وقت موبائل کے ساتھ چپکے رہتے ہیں ان کو روکنا والدین کے بس کی بات نہیں رہی۔ سوشل میڈیا کو ہم نے اپنے اوپر حاوی کرلیا ہے۔ حالانکہ جب موبائل نہیں تھا تو دنیا کے کام تب بھی چلتے تھے۔ اب تو صورت حال یہ ہے کھانا ضروری نہیں لیکن سوشل میڈیا زیادہ ضروری ہے۔ اس وقت جس موضوع پر میں قلم اٹھانے کی جسارت کر رہا ہوں وہ سے ٹک ٹاک ایک ایسی ایپ جس کو ڈیجیٹل طوائف کہنا غلط نہ ہو گا۔ٹک ٹاک دور حاضر کا بہت بڑا فتنہ ہے جو ہماری مذہبی اقدار کو پامال کر رہا ہے بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا اس سے انسانی اخلاقیات بھی تباہ ہو رہیں ہیں۔ہماری نواجوان نسل بغیر سوچے سمجھے اس کو استعمال کرکے خوشی اور تسکین کا باعث سمجھتی ہے۔اس میں اداکاری یا فحش ڈانس کر کے کوئی نہ تو اداکار بن سکتا ہے اور نہ ہی گلوکار۔اس فن کے لئے ریاضت اور استاد کی ضرورت ہوتی ہے ہاں معاشرے میں برائی پھیلانے کا سبب ضرور بن سکتاہے۔ہم ایک طوائف کو تو معاشرے میں برائی پھیلانے کا ذمے دارٹھہرتے ہوئے دیر نہیں لگاتے چاہے وہ اپنے بچوں کاپیٹ پالنے کے لئے ہی مجرا کرتی ہو۔لیکن ہم وہی کام ٹک ٹاک پر سیکسی نیم عریاں ڈانس وہ بھی مفت میں کرکے فخرمحسوس کرتے ہوئے نہیں تھکتے۔اس میں ہماری نوجوان نسل بری طرح سے ملوث ہوچکی ہے۔بڑے فخر سے ویڈیو بنا کر ایک دوسرے کو سینڈ کرتے ہیں اور پھر Likeچیک کرتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔لڑکا لڑکی بنا ہوا ہے اسی طرح کا میک اپ کیا ہے اور لڑکی لڑکے کی آواز میں بڑی ڈھٹائی کا مظاہر ہ کر رہی ہے۔یہ ایک دجالی چال ہے اور قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ تاکہ ہمارے ملک کے نوجوان طبقہ کو اس طرح کی سرگرمیوں میں مصروف رکھاکر گمراہ کیا جائے۔ حالانکہ دیکھا جائے تو صرف وقت کا ضیاع ہے اور کیچھ نہیں جو لوگ فارغ ہیں ان کے لیے ٹائم پاس۔ سروے کے مطابق %64پاکستان میں نوجوانوں کی تعداد ہے اگر یہی تعداد ملک کی ترقی میں اہم رول ادا کرے تو یہ ملک ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا ہو سکتا ہے۔ اس نوجوان نسل سے ہمیں بڑی امیدیں وابسطہ ہیں جس نے آگے جا کر ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے۔جن ملکوں نے ترقی کی ہے وہاں سکولوں کالجوں اور آفس میں موبائل استعمال کرنے کی ہر گز اجازت نہیں ہے مثال ہمارے دوست ملک چین کی ہی لے لیں۔ وہ اپنی نوجوان نسل سے کام لے کر ملک کو سپر پاور بنانے جارہے ہیں اور ہم مدینہ کی ریاست بنانے کا دم بھرتے ہیں لیکن اقدام ایسے کرتے نہیں جس سے ثابت ہوکہ ہم مدینہ کی ریاست بنانے جارہے ہیں۔موجودہ حکومت نے بہت سارے اچھے اقدامات کیے ہیں جیسا کہ میڈیکل کارڈ کا اجراء ہونے جارہا ہے۔پھر بھی حکومت سے التماس ہے سب سے پہلے اس نوجوان نسل کو روزگا رکی فراہمی کو یقینی بنانا ہو گا اور جدیدٹیکنیکل تربیت دینا جو موجودہ دور سے مطابقت رکھتی ہو۔ دو کروڑ بچے جو سکولوں میں نہیں گے ان کو تعلیم دینا ہوگی۔بچوں پر سکولوں کالجوں میں موبائل لے کر جانے کی پابندی ہونی چاہیے۔ اس ڈیجیٹل طوائفوں والی ایپ کو فوری طور پر بند کرنا چاہیے۔پاکستان میں پورن ویب سائیٹ پر پابندی ہے اگر اس طرح کی ایپ چلتی رہیں اور ان کو بند نہ کیاگیا تو وہی مواد ان پر بھی ڈالا جا ئے گا پھران پر پابندی بے سود ہے۔میں امید کرتا ہوں احکام بالا اس طرف توجہ دیں گے اور نوجوان نسل کوبگڑنے سے بچائیں گے۔

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے