bannerdlt2020.jpg

This Page has 208290viewers.

Today Date is: 15-07-20Today is Wednesday

روزہ دار کی استقامت دیکھ کر مندر کا پجاری مسلمان ہوگیا۔۔ ۔تحریر مولانا نوراللہ رشیدی

  • جمعہ

  • 2020-01-31

روزہ دار مسلمان دوست کی استقامت نے مندر کے پچاری کو مسلمان بنا دیا۔ 55 سالہ بچایا فقیر نے دین حق قبول کرنے کے بعد اپنا نام محمدقاسم رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ساری عمر ہندو دھرم کی ترویج کیلئے کام کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب رب تعالیٰ کی جانب سے ہدایت ملے کے دین اسلام کے داعی بنیں گے۔ محمدقاسم نے اپنے قبول اسلام کے حوالے سے ”امت“ کو بتایا کہ.... ”میں ایک کٹر ہندو گھرانے میں پیدا ہوا۔ میرے والد اور دادا بھی مندروں کے بڑے پجاری تھے، جن کے زیر ِ سایہ کہیں ہندونوجوان،ہندودھرم کی تعلیمات حاصل کرتے رہے ہیں، جو اب پاکستان میں اور بیرون ملک مختلف مندروں میں پنڈت اور پجاری کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ میری پرورش اور تربیت بھی ہندو دھرم کے مطابق کی گئی۔ میں چونکہ بھائی بہنوں میں بڑا تھا۔ اسلئے مجھے ہندو مذہب کی تعلیمات میرے والد نے دیں۔ جو ان ہوکر میں بھی اپنے والد اور دادا کی طرح مندر کا پجاری بن کر ہندو مذہب کا پُر چار کرنے لگا۔ اسی دوران میری شادی کردی گئی اور 9بچے پیدا ہوئے۔ اپنے بچوں کو بھی میں نے ہندو مذہب کی تعلیمات سے روشناس کرایا۔ مندر کے بڑے پجاری کی حیثیت سے میں ہندو نوجوانوں کو اپنے دھرم کی تعلیمات دیتا تھا۔ میرے شاگردوں کی تعداد 500سے زائد ہے، جو مذہبی تعلیمات کیلئے سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں سے میرے پاس حیدر آباد آتے تھے۔ انہیں بڑے مندر میں ٹھہرایا جاتا تھا۔ میں وہیں ان کو ہندو مذہب کی تعلیمات دیتا تھا۔ اس دوران میری دوستی ایک مسلمان شخص سے ہوئی جس کے پاس میں اپنے گھر کے برق آلات کی مرمت کرانے کے لئے گیا تھا۔ اسے میں نے بتایا کہ میں ہندوؤں کا پجاری ہوں۔ مجھے اپنے گھر کے برقی آلات ٹھیک کرانے ہیں۔ یہ سن کر اس نے سارے کام چھوڑ کر پہلے میرا کام کرنا شروع کردیا۔ مجھے کرسی پر بٹھا دیا اور میری خوب خاطر مدارت کی۔ جب کام مکمل ہوگیا تو اس نے مجھ سے کوئی معاوضہ بھی نہیں لیا۔ اس نے کہا کہ دین اسلام کی تعلیمات ہیں کہ غیر مسلموں کے ساتھ نرمی اور ہمدردانہ رویہ اختیار کرو۔ اس کے بعد میری اس شخص سے دوستی ہوگئی اور میں اکثر اس کی دکان پر جاکر بیٹھنے لگا۔ میرا وہ مسلمان دوست پنج وقتہ نمازی اور اچھے اخلاق کا مالک تھا۔ میں جب بھی اس کی دکان پر جاتا وہ نہایت گرم جوشی سے میرا استقبال کرتا اور میری خاطر مدارت میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا تھا۔ اس کے بہترین اخلاق و کردار کی وجہ سے میں اس کا گرویدہ ہوگیا۔ جب اس کے ساتھ میری گہری دوستی ہوگئی تو میں نے مشاہدہ کیا کہ وہ کبھی نماز کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کرتا۔ نماز کیلئے اس کی بیتابی دیکھ کر مجھے اشتیاق ہوا کہ میں بھی دیکھوں کہ نماز میں آخر اس کو کیا ملتا ہے، جو وہ اذان ہوتے ہی سارے کام چھوڑ کر مسجد کی طرف دوڑ جاتا ہے۔ ایک دن میں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں نماز ادا کرکے کیا ملتا ہے؟ اس نے بتایا کہ نماز دین اسلام کا ایک اہم ستون ہے اور ہمارے رب کا حکم ہے کہ ہم ہر حال میں نماز ادا کریں۔ نماز کی ادائیگی سے دل کو سکون اور اطمینان ملتا ہے۔ جب رب تعالیٰ ہمیں دنیا بھر کی نعمتیں اور رزق عطا کرنے میں دیر نہیں کرتا، تو ہم نماز کے ذریعے اس کا شکر کیوں ادا نہ کریں۔ نومسلم محمد قاسم نے مزید بتایا کہ ”میرا دوست مجھے اکثر دین اسلام کی تعلیمات اور نبی پاک محمد ﷺ کی حیات مبارکہ کے بارے میں بتایا کرتا تھا۔ رفتہ رفتہ میں دین اسلام سے متاثر ہوتا چلا گیا۔ اکثر میرے ذہن میں ایسے سوالات آتے تھے کہ کیا میرا مذہب صحیح ہے یا میں گمراہی میں زندگی بسر کررہا ہوں۔ دین اسلام میں داخل ہونے اور اپنی آخرت سنوارنے کی ہمت مجھ میں آج سے ایک سال پہلے رمضان المبارک کے مہینے میں ہی پیدا ہوئی۔ گزشتہ برس رمضان میں شدید ترین گرمی پڑی اور کراچی میں سینکڑوں کی تعداد میں ہلاکتیں بھی ہوئی تھی ں۔اس دوران میرے رشتے داروں میں ایک شادی تھی جو کہ دن کے اوقات میں تھی۔ میں نے شادی کی تقریب میں اپنے مسلمان دوست کو بھی مدعو کیا۔ اس نے وعدہ کیا وہ ضرور آئے گا۔ جب میرا دوست شادی کی تقریب میں آیا تو اس روز انتہائی شدید گرمی تھی، ہر شخص ٹھنڈے پانی اور مشروبات پر ہاتھ صاف کررہا تھا۔ میں اپنے دوست کیلئے مشروب لیکر اس کے پاس پہنچا لیکن اس نے شربت پینے سے معذرت کرلی اور کہا کہ میرا روزہ ہے، میں کچھ نہیں کھاؤں پیوں گا۔ میں نے اصرار کیا کہ بہت گرم ہے، تھوڑا سا پی لو۔ مگر وہ نہیں مانا۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر مجھے آگ بھی لگ جائے تب بھی پانی نہیں پیوں گا۔ اس کی استقامت دیکھ کر مجھے یقین ہوگیا کہ اللہ کا خوف ہی انسان کو برائیوں سے روکتا ہے۔ میں نے فیصلہ کرلیا کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے، میں بھی اسلام قبول کروں گا، کیونکہ یہی دن حق ہے۔ اس کے بعد میں اپنے دوست سے کئی ماہ تک اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرتا رہا۔ اس کے بعد میرے دل نے کہا کہ اگر اپنی دنیا اور آخرت سدھارنی ہے تو دین حق کو قبول کرنا ہوگا۔ اور خود کو گمراہی کی دلدل سے آزاد کرانا ہوگا۔ اس کے بعد میں نے اپنے دوست کو اپنے دل کی حالت کے بارے میں بتایا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں۔ یہ بات سن کر اس نے مجھے سینے سے لگالیا اور وعدہ کیا کہ جہاں تک ہوسکا وہ میری مدد کرے گا۔ پھر وہ مجھے ادارہ تبلیغ اسلام پاکستان کے چیئرمین مولانا نور اللہ رشیدی کے پاس کراچی لے کر آیا۔ جہاں مولانا صاحب نے میری بہت حوصلہ افزائی کی اور مجھ سے پوچھا کہ میں کسی قسم کے دباؤ، خوف یا کسی لالچ میں تو مسلمان نہیں ہورہا ہوں۔ جب میں نے انہیں بتایا کہ میں نے اسلا کی تعلیمات سے متاثر ہوکر مسلمان ہونے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ مجھے معلوم ہوگیا ہے کہ اس دنیا میں سچا دین صرف اسلام ہے۔ میرا جواب سن کر مولانا نور اللہ رشیدی نے مجھے کلمہ طیبہ پڑھا کر دائرہ اسلام میں داخل کرلیا۔ اس کے بعد میری دینی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری مولانا نور اللہ رشیدی صاحب نے سنبھال لی۔ وہ مجھے دین اسلام کی تعلیمات دے رہے ہیں اور میرا ہر طرح سے خیال رکھ رہے ہیں۔ میں اب اپنے گھر والوں کو بھی دائرہ اسلام میں شامل کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔ مجھے اللہ تبارک و تعالیٰ سے پوری امید ہے کہ بہت جلد وہ بھی اسلام قبول کرلیں گے۔ تاہم اس وقت مجھے ان متعصب ہندوؤں سے شدید جانی خطرات لاحق ہیں جو کسی وقت میرے چیلے ہوا کرتے تھے۔ میری حکومت سے اپیل بھی ہے کہ وہ میری جان کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ میں دین اسلام سیکھ کر تبلیغ کاکام کرنا چاہتا ہوں۔ جس کیلئے مولانا نور اللہ رشیدی صاحب مجھے تربیت دے رہے ہیں۔

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے