bannerdlt2020.jpg

This Page has 208284viewers.

Today Date is: 15-07-20Today is Wednesday

کرونا وائرس یا بائیو لوجیکل ویپن تحریر رانا سعید یوسف

  • جمعرات

  • 2020-02-13

دنیا کے تمام بڑے ممالک جہاں روایتی ہتھیار کی دوڑ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں وہاں وہ جوہری،کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار بنانے میں کسی سے پیچھے نہیں۔ اس وقت تیسری جنگ عظیم شروع ہو چکی ہے ضروری نہیں وہ روایتی یا جوہری ہتھیاروں سے لڑی جائے۔ اس کی کوئی بھی شکل ہو سکتی ہے۔ امریکااس وقت صرف ایک واحد سپر پاور ہے جبکہ چین ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے۔ امریکا کو ہر گز گوارہ نہیں مستقبل میں چین اس کی جہگہ لے لے۔ یہاں ہم مستقبل میں جن ہتھیاروں سے جنگ لڑی جا سکتی ہے ان پر روشنی ڈالیں گے۔ کیمیائی ہتھیار کیمیائی ہتھیار وہ ہتھیار ہوتا ہے جو لوگوں کو مارنے کے لئے کیمیائی مواد سے تیار کیا جاتا ہے۔ لڑائی میں مؤثر طریقے سے استعمال ہونے والا پہلا کیمیائی ہتھیار کلورین گیس تھا، جو پھیپھڑوں کے ٹشو کو جلاتا اور تباہ کرتا ہے۔ کلورین کوئی خاص کیمیکل نہیں ہے۔ بیشتر میونسپل واٹر سسٹم اس کا استعمال بیکٹیریا کو ختم کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ اسکوعام ٹیبل نمک سے آسانی سے تیارکیا جا سکتا ہے۔ پہلی جنگ عظیم میں، جرمن فوج نے بادل بنانے کے لئے کئی ٹن گیس استعمال کی جسے ہوا نے دشمن کی طرف بڑھایا۔ جدید کیمیائی ہتھیار بہت زیاد ہ ہلاکتیں کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، اس کا مطلب ہے لاکھوں لوگوں کو مارنے میں کیمیکل سے بہت کم وقت لگتا ہے۔ ان میں سے بہت سے کیڑے مار دوائیوں میں پائے جانے والے طرح طرح کے کیمیکل استعمال کرتے ہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگ کسی کیمیائی ہتھیار کو بم یا میزائل کے طور پر تصور کرتے ہیں جو ایک شہر میں انتہائی زہریلے کیمیکل سے تباہی پھیلاتے ہیں جو کم وقت میں ہزاروں لوگوں کی ہلاک کر دیتا ہے۔ (مثال کے طور پر، فلم ''دی راک'' میں ایک ایسا منظر پیش کیا گیا ہے جس میں دہشت گردوں نے کیمیکل VX، اعصابی زہر سے بھرا ہوا میزائل لانچ کرنے کی کوشش کی تھی۔) لیکن 1995 میں، اوم شینکریو نامی گروپ نے سرین گیس، ایک اعصاب گیس جاری کی، جس میں ٹوکیو سب وے۔ ہزاروں افراد زخمی اور 12 افراد ہلاک ہوگئے- دہشتگرد سب وے میں گیس کی رہائی کے لئے پھٹنے والے چھوٹے چھوٹے کنستروں کا استعمال کرتے تھے۔ اسی طرح بلیک واٹر نے عراق میں سرکاری امریکی عہدیداروں کی حفاظت کے لیے امریکہ سے معاہدہ کیا تھااور سی ایس گیس کوآنسو گیس کی طرح 2005 میں فوجیوں اور عام شہریوں پرگرا یا تھا۔ جس سے بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں۔ حیاتیاتی ہتھیار حیاتیاتی ہتھیار لوگوں کو مارنے کے لئے بیکٹیریا یا وائرس کا استعمال کرتا ہے، یا کچھ معاملات میں ٹاکسن جو براہ راست بیکٹیریا سے آتا ہے۔ اگر آپ کسی کھاد یا انسانی فضلے کو کسی قصبے کے کنویں میں پھینک دیتے ہیں تو یہ حیاتیاتی جنگ کی ایک سادہ سی مثال ہوگی۔ انسانی اور جانوروں کی کھاد میں ایسے لاکھوں بیکٹیریا ہوتے ہیں جنکو مختلف طریقوں سے انتہائی مہلک بنایا جاتا ہے۔ 19 ویں صدی میں امریکی ریڈ انڈین کو امدادی کمبل دیے گئے جن کے ذریعے وہ چیچک کا شکار ہوئے تھے۔ ایک جدید حیاتیاتی ہتھیار بیکٹیریا یا وائرس ہے جس کے استعمال سے ہزاروں افراد ہلاک ہوں گے۔ ٹوم کلینسی نے حیاتیاتی دہشت گردی کے نظریے پر دو کتابوں: ''ایگزیکٹو آرڈرز'' اور ''رینبو سکس'' میں تحقیق کی ہے۔ دونوں کتابوں میں، انفیکشن کا ذریعہ ایبولا وائرس ہے۔ ان پلاٹ لائنوں میں، انفیکشن چھوٹے ایروسول کین (جیسے کیڑے مار دوا کے ''کین'')مختلف رش والی جہگوں یا کھیلوں کے مقامات کو ٹھنڈا کرنے کے لئے استعمال ہونے والے کولنگ سسٹم کے ذریعے پھیلتا ہے۔جس سے ایک وبائی امراض کی شکل میں تیری سے پھیل کر ہزاروں افرادکوہلاک کر دیتا ہے۔ کرونا وائرس چینی سائنسدانوں کا دعوی ووھان شہر کو کروونا وئرس کے لیے کیوں منتخب کیا گیا- چین نے کرونا وائرس پھیلانے کا الزام امریکا پر لگا دیا ھے اور اقوام متحدہ میں معاملہ لے جانے کا عندیہ بھی دیا ھے روسی سائنسدانوں نے بھی چین کے اس دعوے کی تصدیق کردی ھے چائنہ کی طرف سے کہا گیا ھے کہ یہ امریکا کا ایک خوفناک بائیولوجیکل حملہ تھا جس نے چین کو پوری دنیا میں تنہا کردیا ہے اور چین کو ٹریلین ڈالرز کا نقصان ھوا پوری دنیا نے چینی مصنوعات درآمد کرنے پہ پابندیاں لگا دیں اور امریکا کی یہی خواھش تھی کہ چین کو معاشی طور پر کمزور کردے دوسری طرف روسی سائنسدانوں کا خیال ھے کہ یہ ایک امریکی سازش تھی جس کا مقصد چین کی بڑھتی ھوئی معاشی طاقت کو روکنا اور وائرس کے پھیلاو کے بعد اربوں ڈالرز کی ویکسین بیچ کر پیسہ کمانا ھے چائنیز سائنسدانوں نے یہ دعوی کیا ھے امریکی لیبارٹریز میں اس وائرس کو تخلیق کیا گیا ھے اور وھیں اسکو ایک بائیولوجیکل ویپن کی شکل دی گئی ھے اور امریکی ڈپلومیٹک عملے کے ذریعے یہ وائرس چین تک پہنچایا گیا ھے - روسی خبررساں ایجنسی نے کہا ھے کہ امریکا نے یہ وائرس چین میں پھیلا کے اس کا ٹیسٹ کیا ھے اور امریکی فارماسسٹس کو راتوں رات اربوں ڈالرز کمانے کا موقع بھی فراھم کیا ھے - امریکہ اور چین کے تنازعات سب کے سامنے ھیں ایک سپر پاور اور اسکے ایک بڑے اور تیزی سے بڑھتے ھوئے حریف کے اثر کو کم کرنے کے تناظر میں بھی دیکھا جارھا ھے اور اس تنازعہ کا دائرہ ٹریڈ وار سے لیکر جنوبی چائنہ کے سمندر اور 5G انٹرنیٹ کے تنازعات تک ھے بائیو اور کیمیکل سے متعلق امریکن کمیشن کے سابق ممبران کا دعوی ھے کہ ان سے چائینیز دوستوں نے رابطہ کیا تھا جو یہ سمجھتے کہ یہ وائرس انسانی تخلیق ھے ان میں سے ایک کا یہ خیال ھے کہ اس وائرس اٹیک کے لیے ووھان شہر کو اسلیے منتخب کیا گیا کیونکہ یہ شہر چائنا کے بلکل سینٹر میں میں ھے اور یہ مرکزی ٹرانسپوٹیشن حب ھے اور یہ ٹائم اس لیے چنا گیا کہ چائینیز کا نیا سال آنے والا تھا اور سالانہ چھٹیاں بھی ہونے والی تھی اور ایسے موقع پر پورے ملک سے لوگ ایک شہر سے دوسرے شہر چھٹیاں منانے کے لیے ٹریول کرتے ھیں اور لاکھوں لوگ اس شہر کو وزٹ کرتے ھیں اور یہاں سے بیرون ملک بھی سفر کرتے ھیں اور یہ امریکی بائیو لیبارٹریز کے لیے بھی رقم کمانے کا اچھا موقع ھے اس وقت دنیا میں امریکہ وہ واحد ملک ھے جس کے پاس 400 فوجی بائیو لیبارٹریز ھیں جوکہ پوری دنیا میں پھیلی ھوئی ھیں یہ روس کے آس پاس بھی ھیں اسکے علاوہ چائنا،ملائیشیا اور فلپائن کے آس پاس بھی موجود ھیں اور شاید ھی کوئی ایسی جگہ ھو جو امریکہ کی پہنچ سے دور ھو - چائنا میں تو بڑی تعداد میں لوگوں نے اس بات کو سنجیدگی سے لے لیا ھے لیکن گلوبل ٹائمز کے مطابق زیادہ تر لوگ اس بات پر یقین نہیں رکھتے جبکہ روس نے اپنی مشرقی سرحد کو مکمل بند کردیا ھے تاکہ وائرس کو روس سے دور رکھا جائے چین اور روس کے درمیان 25 سرحدی کراسنگ ھیں یہ تمام 21 جنوری کی رات کو بند کردی گئی تھیں اسکے باوجود بھی روس میں دو کیس رپورٹ ھوچکے ھیں اور یہ متاثرہ افراد چائینیز تھے اسوقت ھزاروں کی تعداد میں لوگ اس بیماری سے متاثر ھوچکے ھیں اور سینکڑوں ھلاک ھوچکے ھیں جبکہ نئے کیسزز بھی تواتر کے ساتھ سامنے آرھے ھیں۔مزے کی بات ھے کہ کوئی بھی مغربی ملک اس وائرس سے متاثر نہیں ھے -

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے