|برطانیہ میں ایک نوعمر خاتون ڈاکٹر ایسا لباس پہن کر کام پر جاتی ہے کہ کوئی اسے ڈاکٹر سمجھتا ہی نہیں |بھارتی پنجاب کے کامیڈین اداکارسردار گورپریت سنگھ گھگی کے خاندان کا تعلق ضلع نارووال پاکستان سے ہے |مرد کا ڈی این اے عورت کے جسم میں کتنے دن تک موجود رہتا ھےجانیئے ایک دلچسپ رپورٹ |پاکستان اور چین کے درمیان خلائی ٹیکنالوجی منتقلی کا معاہدہ ہوگیا اب پاکستانی خلاباز بھی جائیں گے خلا میں |پندرہ سو سال پرانا انسانی فضلہ سائنسدانوں نے تلاش کرلیا۔ انسان نے کیا کھایا تھا جان کر آپ کو یقین نہیں آئے گا۔ |یاداشت کو بہتر بنانے کا آسان اور موثر طریقہ در یافت

تازہ ترین اہم خبریں

bannerdlt2020.jpg

This Page has 1063210viewers.

Today Date is: 01-04-23Today is Saturday

برطانیہ میں ایک نوعمر خاتون ڈاکٹر ایسا لباس پہن کر کام پر جاتی ہے کہ کوئی اسے ڈاکٹر سمجھتا ہی نہیں

  • بدھ

  • 2020-07-29

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کسی بھی ڈاکٹر کے پہناوے کو دیکھ کر ہی لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر ہے لیکن برطانیہ میں ایک نوعمر خاتون ڈاکٹر ایسا لباس پہن کر کام پر جاتی ہے کہ کوئی اسے ڈاکٹر سمجھتا ہی نہیں۔ ڈیلی سٹار کے مطابق یہ ڈاکٹر سارا جینی ہے جس کی شکل و صورت اور لباس ’بکنی‘ ماڈلز جیسا ہوتا ہے۔ اس نے اپنے پورے جسم پر ٹیٹو بنوا رکھے ہیں اوران کی نمائش کی غرض سے انتہائی مختصر لباس پہن کر ہسپتال پہنچ جاتی ہے۔ڈاکٹر سارا سوشل میڈیا پر کافی مقبول ہے۔ انسٹاگرا م پر اسے 1لاکھ سے زائد لوگوں نے فالو کر رکھا ہے۔ اس پر لوگ تنقید بھی کرتے ہیں کہ ایک ڈاکٹر کو ایسا لباس نہیں پہننا چاہیے لیکن ڈاکٹر سارا کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ گزشتہ دنوں اپنی ایک انسٹاگرام پوسٹ میں اس نے اپنے ہم پیشہ لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”خواتین سرجنز، ڈاکٹرز، نرسز اور تمام ہیلتھ کیئر پروفیشنلز، ہم لوگ کام پر بکنی پہن کر بھی جا سکتے ہیں۔ اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ اس سے ہماری صلاحیتوں پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم جو چاہیں پہن سکتی ہیں اور پوری مہارت کے ساتھ لوگوں کا علاج بھی کر سکتی ہیں۔“

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے