imageshad.jpg

This Page has 13756viewers.

Today Date is: 17-12-18Today is Monday

پاکستان کا روحانی اور ریاضیاتی مستقبل ۔ تحریرسید ثمر احمد

  • جمعرات

  • 2017-08-03

جو علوم پر غور و فکر اور تدبر کے قائل ہیں اور اپنے محدود علم کو مکمل سمجھنے کی کج فہمی کا شکار نہیں، جو یقین کے حامل ہیں اور انکار کے عادی نہیں، یہ مضمون ان کے لیے ہے۔ متشککین کے لیے تفصیلی تحریر اجازتِ خداوندی سے مستقبل میں پیش کی جائے گی۔ پاکستان کی تخلیق الہامی ترتیب کا حصہ ہے ۔ پاکستان اس دنیا کے نقشے پر اتفاقی وجود نہیں۔ یہ حضور ﷺ کی بشارات کا مرکز اور ربانی نقشے میں تکمیلی معاون کردار رکھتا ہے۔ مشہور نو مسلم مفکر علامہ اسد یہاں اس لیے آئے کہ میرِ عرب کو یہیں سے ٹھنڈی ہوائیں آئیں۔ یہ مملکتِ خداداد اپنے روشن ترین دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اہلِ نظر نے اس کثرت سے حقیقتِ حال بتلائی ہے کہ یقین کیے بغیر چارہ نہیں۔ روحانی پیش گوئیاں: ٭ امام بری اسلام آباد کی مشہور روحانی شخصیت ہیں۔ آپ کی درگاہ خاص و عام کے لیے فیض رسانی کا باعث ہے۔ قدرت اللہ شہاب ہالینڈ کی سفارت سے واپس آئے تو اپنے عملے کو لے کر حضرت کی لحد پر فاتحہ خوانی کے لیے حاضر ہوئے۔ عملہ حیران کہ پہلی دفعہ ایسا ہورہا تھا۔ شہاب نے بیان کیا کہ: میں نے ہالینڈ میں ایک مخطوطہ دیکھا۔ اس دور میں اسلام آباد تو موجود نہیں تھا اور یہ سارا راستہ جنگل پر مشتمل تھا۔ عقیدت مند راولپنڈی سے چل کے انھی خطرناک راستوں سے سفر کرتے بزرگ کے پاس حاضر ہوتے۔ لوگوں نے عرض کیا ’حضرت یہاں آنے میں جانوروں اور ڈاکوؤں کا خطرہ بہت ہوتا ہے۔ اگر آپ شہر میں منتقل ہوجائیں تو سب کے لیے بہت آسانی رہے گی‘ … امام بری اس وقت مصلّے پر موجود تھے۔ اپنی پشت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عالمِ وجد میں گویا ہوئے ’ہم یہاں ایک ایسا شہر آباد کرنے جا رہے ہیں جہاں دنیا بھر کے فیصلے ہوا کریں گے‘۔ اور یہ بات اسلام آباد بننے سے صدیاں پہلے کہی جا رہی تھی۔ ایک ایسے شہر کی پیش گوئی جو مرکزِ دنیا ہوگا۔ امید ہے کہ یہ سب ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔ ٭ کہا جاتا ہے کہ بیسویں صدی روحانی طور پہ پیر مہر علی شاہ کی صدی تھی۔ انہوں نے ایک دفعہ اپنے آہنگ میں ارشاد فرمایا کہ ’جہاں ہم ہیں یہاں ایک شہر قائم ہوگا جہاں اقوامِ عالم کے فیصلے ہوا کریں گے‘۔ ٭ قائداعظم جب مایوس ہوکے لندن واپس چلے گئے۔ علامہ اقبال انہیں منانے خود تشریف لے کے گئے۔ حضرت علامہ کا روحانی مقام و مرتبہ اظہرِ من الشمس ہے۔ کچھ کے نزدیک وہ جدید دور کے مجددین میں سے ہیں۔ خیر … حضرت قائداعظم علامہ کی شخصیت سے متاثر بھی ہوئے ہوں گے لیکن وہ واقعہ کچھ اور ہے جو اْن کی برصغیر واپسی کی وجہ بنا۔ قائد بیان کرتے ہیں کہ: میں نیم غنودگی کی حالت میں تھا۔ میری حسّیات ’جاگ‘ رہی تھیں۔ میں نے دیکھا کہ ایک نورانی دھواں سا بالکونی سے اندر داخل ہوا ہے۔ اس میں سے ایک شبیہ کے خدوخال ابھرنے لگے۔ میں نے کچھ غور سے محسوس کیا تو یقین ہوگیا کہ وہ حضرت محمدﷺ ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جناح واپس جاؤ، تم سے بڑا کام لیا جانے والا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ دنیا بھر کی منفرد مملکت کا قیام محمد علی جناح کی کرشماتی شخصیت کا اعجاز ہے۔ ٭ حسین احمد مدنی تحریکِ پاکستان کے مخالف تھے اور اپنے فہم کے مطابق اسے مسلمانوں کے لیے مضر خیال کرتے تھے۔ ایک دفعہ کہنے لگے کہ ملائے اعلٰی پر فیصلہ ہوچکا ہے، پاکستان بننے جارہا ہے۔ کسی نے پوچھا تو پھر آپ مخالفت کیوں اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کہنے لگے کہ ہم اجتہادی بنیاد پہ ایسا کر رہے ہیں۔ ٭ مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی بیگم کو کہا کہ پاکستان قائم ہونے جا رہا ہے۔ اگر زندہ رہا تو وہیں ہجرت کرجاؤں گا۔ ان کی 1944ء میں وفات ہوگئی لیکن بیگم تقسیم ہند کے وقت لاہور تشریف لے آئیں۔ ٭ پیر جماعت علی شاہ بڑی قد کاٹھ کی شخصیت تھے۔ آپ نے فتوٰی دیا کہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے جو مسلم لیگ کو ووٹ نہ دے۔ ٭ علامہ شبیر احمد عثمانی حضرتِ قائد کو خواب میں حضورﷺ کے ساتھ دیکھتے ہیں اور پھر جنازہ پڑھانے تشریف لاتے ہیں۔ ٭ واصف علی واصف نے کہا آنے والے کمال کے دن ہیں عظمتِ ذوالجلال کے دن ہیں ٭ پروفیسر احمد رفیق اختر کتنے ہی عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کا تاریک دور کٹ چکا اور روشن مستقبل کی ابتدا ہو چکی۔ ٭ صوفی برکت علی لدھیانوی کی ویڈیو یوٹیوب پر موجود ہے۔ یہ جدید دور کے عبقریوں میں سے ہیں۔ صوفی برکت علی کی زندگی میں جو تبدیلی آئی، وہ اس نالائق کے جَیّد بزرگوں کے ہاتھوں آئی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جاؤ ہمارے ذمّے جو تھا، بتادیا۔ پاکستان مرکزِ دنیا بنے گا۔ یہاں قوموں کی قسمتوں کے فیصلے ہوا کریں گے‘۔ ٭ ہمارے عزیز دوست فاروق طارق بٹ کے دادا حیات ہیں اور 100سال سے اوپر ہوچکے ہیں۔ وہ قیامِ پاکستان سے پہلے کا اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ ’ہمارے گھر میں ایک بیٹھک درویشوں کے لیے مخصوص تھی۔ بزرگ آتے اور جاتے رہتے۔ ایک دن کسی مجذوب نے مجھے آواز دی۔ میں نے نیچے جھانکا تو سمجھا کہ یہ بھی کوئی درویشوں میں سے ہیں۔ انہیں نیچے آرام کرنے کو کہا تو وہ بولے، نیچے آؤ، ہمیں تم کو کوئی خبر دینے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ میں نیچے چلا گیا اور ادب سے پاس کھڑا ہوگیا۔ کہنے لگے: ’یہاں بہت خون خرابا ہوگا، پھر کچھ امن کا دور آئے گا، پھر ایک ہاتھ بازو جائے گا، پھر ایک دفعہ اور زمین سرخ ہوگی اور سخت فتنہ پیدا ہوگا، اور پھر امن اور خوشحالی ہوگی‘ ۔ کہتے ہیں کہ قیامِ پاکستان اور سقوطِ مشرقی پاکستان تو ہم دیکھ چکے، اب تیسرے روشن مثالی دور کا انتظار ہے۔ یہ تو چند مثالیں ہیں جو صدیوں سے اہلِ نظر اس خطے کی اہمیت کو جانتے ہوئے اذنِ خداوندی کے ساتھ لوگوں کو بیان کرتے آ رہے ہیں۔ یہ پاکستان دنیا کے مرکزے کی حیثیت اختیار کرے گا۔ وہ وقت شروع ہوچکا جب لوگ پاکستان آنے کو فخر سمجھا کریں گے۔ حالات و واقعات میں تیز رفتار تبدیلی منزل کو قریب تر کر رہی ہے۔ پاکستانی عوام کا اجماع خدا کی طرف عنقریب پلٹے گا۔ پاکستان اپنی مشکل ترین گھاٹیوں سے گزر چکا۔ آج 4 سال پہلے جب مستقبل کے پاکستان پر یہ عاجز خوشخبریاں بیان کرتا تھا تو لوگ حیرانی اور بے یقینی سے پوچھتے تھے کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ یہاں روزانہ دھماکے ہو رہے ہیں، معاشی نشان زوال کی جانب ہیں، معاشرتی ڈھانچہ نڈھال ہوچکا ہے، علیحدگی اور انتشار کی تحریکیں زور پکڑ گئی ہیں، حکومت کی رِٹ ختم ہو چکی ہے، پاکستان کا ترانہ پڑھنے پر بلوچستان میں پابندی لگ چکی ہے، دیواریں پاکستان مخالف نعروں سے بھری پڑی ہیں، شاہ صاحب! یہ سب کیسے ہوگا۔ میں منطقی، جغرافیائی اور سائنسی دلائل بھی دیتا اور بزرگوں کی بیان کی گئی حقیقت کا اظہار بھی کرتا مگر لوگوں پر مایوسیاں غالب تھیں۔ اب میں ان سے پوچھتا ہوں کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ تو خوشگوار مسرت اور امید استقبال کرتی ہے۔ پاکستان کی سفارتی تنہائی کا خاتمہ ہوچکا، سیاسی انتشار کی آگ دھیمی پڑنے لگی، بلوچستان کی علیحدگی کی تحریک اتنی کمزور پڑ چکی کہ دوبارہ نہ اٹھ سکے، کراچی کے غیر ملکی امداد پر پلنے والے بدمعاش ذہنی توازن کھو بیٹھے اور اپنا ہی نرخرہ کاٹ لیا، غارت گر طالبان اور گمراہ گروہ قبائل میں رسوا ہوگئے، دشمنوں کی صفوں میں ماتم ہے، ماضی کے دشمن دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں، پاکستان کو دہشت گرد قرار دلوانے والے خود اپنی فکر میں پڑ چکے، ہماری بین الاقوامی اہمیت میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے، اور جان لو! یہ ابتدا ہے۔ ریاضیاتی پیش گوئیاں: کسی بھی تجربے کو اس وقت تک مہرِ تصدیق نہیں لگائی جاتی جب تک کہ سائنسی دنیا اس کا ریاضیاتی ثبوت فراہم نہ کر لے۔ اور یہ ہوجائے تو پھر انکار کی گنجائش نہیں رہتی۔ ہم یہاں الہامی ریاضی خاکے کو بھی مختصراََ بیان کریں گے تاکہ پیش گوئی (Prediction) کے ساتھ فور کاسٹ (Forcast) بھی جڑ جائے اور خبر عام ہو کہ پاکستان کوئی اتفاق نہیں بلکہ ربانی اسکیم کا حصہ ہے اور اس کا فیصلہ کْن طاقت کے طور ابھرنا نوشتہ دیوار ہے۔ یہ بھی پڑھیں: ریمنڈ ڈیوس کی کتاب، تضادات کا پلندہ - حافظ یوسف سراج ہم غور نہیں کرتے اور قرآن اس رویے پر شدید تبصرہ کرتا ہے۔ وہ سب سے زیادہ ان لوگوں پہ غضب ناک ہوتا ہے جو بلا سمجھے بوجھے اندھوں، بہروں، گونگوں کی طرح آیات پر گرتے ہیں۔ خدا کا کوئی بھی کام غیر از مصلحت نہیں ہوتا۔ اسی لیے جب حضور ﷺکے سامنے یہود نے حروفِ مقطعات میں سے ایک جوڑے کو سن کے اسلام کے فنا ہونے کی خوشخبری ایک دوسرے کو دی تو حضورﷺ نے مقطعات کے ایک اور ’جوڑے‘ کو بیان کرکے ان کے زعم کو خاک میں ملا دیا. غور کیجیے آسمان 7بتائے گئے، زمینیں 7 گنوائی گئیں، قرآن کی منازل 7 ہیں، سبعِ مثانی 7، براعظم 7، ہفتے میں دن 7، عیدین کی تکبیریں 7، صدقہ کا اجر 7 بالیاں جن میں 700 دانے، یوسف علیہ السلام نے خواب کی تعبیر بتائی جس میں 7 گایوں کو دیکھا گیا، حضور نے اپنے مرض میں 7 مشکیزہ پانی سے غسل کیا، سعی کے چکر7، جمرات کی کنکریاں7، نمازیں ملاکر 7، اونٹ اور گائے کی قربانی کے حصے 7، کتا منہ ڈال دے تو دھونا 7 مرتبہ اور طواف کے چکر 7…کیا یہ محض اتفاق ہے؟ ہرگز نہیں۔ ذلک تقدیر العزیز العلیم (یہ ایک زبردست کے قائم کیے ہوئے اندازے ہیں)۔ یہ ایک باخبر حکیم کا انتہائی باریک اور لطیف منصوبہ ہے۔ جس کی کلی حقیقت تک پہنچنا انسان کی پہنچ سے باہر ہی لگتا ہے ۔اور دل تھام کر سنیے کہ 14اگست، 1947 (14-08-1947) سے پاکستان کو جو ڈیوائن کوڈ عطا ہوا ہے وہ بھی 7 ہے۔ یاد رہے کہ علم کے مطابق7 کا عدد کائنات، روحانیت اور لافانیت کا عدد ہے۔7 سپِرٹ اور روح ہے۔ لہذٰا پاکستان اور اس کا کردار کائناتی، روحانی اور لافانی ہونا مقدر ہو چکا۔ پاکستان کا الٰہی نظام میں خاص مقام ہے۔ دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی نظریاتی طاقت محض اتفاقات کا کھیل نہیں۔ پاکستان کو زوال نہیں، اس کو ختم کرنے والے ختم ہوگئے اور ہوجائیں گے، پر یہ اپنی عالی شان کے ساتھ باقی رہے گا۔ پھر یہ مقدس ملک 27 رمضان کو وجود میں آیا جس کا عدد 9 بنتا ہے۔ علم کے لحاظ سے کائناتی زبان میں یہ عدد تکمیل اور عروج کا عدد ہے۔ پھر یہ ماہِ صیام میں پیدا ہوا اور رمضان کا عدد 9 ہے۔ پھر اس کا سالِ پیدائش 1366 ہے جس کا عدد 7 ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہو سکتا ہے؟ پھر ان سب کو ملا کر دیکھیں (09-09-1366) تو فائنل عدد قمری کیلنڈر میں بھی 7 آتا ہے۔ یعنی پاکستان کا قیام اور پیدائش خدا کی عظیم مصلحت کے تحت روحانی ہے، پاکیزہ اور ارفع ہے۔ پاکستان اپنی عمر کے جس سال میں داخل ہو چکا ہے وہ بھی 70واں ہے۔ یعنی پہلے اگر باطن روحانی تھا تو اب ظاہر بھی روحانی ہونے جا رہا ہے۔ یہ عروج، خوش خبریوں، اور خوشحالیوں کا دور شروع ہوچکا ہے۔ روح کی پہلی صفت صفائی اور پاکیزگی ہوتی ہے، لہذا صفائی کا تفصیلی عمل شروع ہونے کو ہے۔ خدا جو چاہے کر سکتا ہے لیکن بظاہر پاکستانی نقشے پر بننے والی نگران حکومت کے دور سے یہ تطہیری عمل آغاز ہوتا نظر آتا ہے۔ شریف فیملی ٹوٹتی، بکھرتی اور منظر سے غائب ہوتی معلوم ہوتی ہے۔ میاں نواز شریف صاحب کا منفی عدد 2 ہے اور یہ منفیت ان کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی۔ مریم نواز کا عدد بھی 2 ہے جو میاں صاحب کے لیے خاصی پریشانی کا باعث پہلے دور میں بھی بنیں۔ حسین نواز 2 ہیں اور موجودہ سارا معاملہ ان کے بیان کے ساتھ ہی شروع ہوا۔ اس کیس نے جس ماہ میں تیزی پکڑی وہ فروری ہے جو 2 ہے۔ جس کمرہ عدالت میں سماعت ہو رہی ہے وہ بھی 2 ہے۔ اور پانامہ کا عدد 99 یا 9 ہے تو 33 کے سپریم نمبر کا تکمیلی عدد ہے اور اللہ کے اسما بھی اتنے ہی ہیں۔ لہذٰا واضح یہی لگ رہا ہے کہ پانامہ فیصلہ کے مضمرات پاکستان کے حق میں مجموعی طور پہ بہت مثبت دور کا دروازہ کھولے گا۔ واللہ اعلم بالصواب

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے