imageshad.jpg

This Page has 13762viewers.

Today Date is: 17-12-18Today is Monday

عشرہ ذی الحجہ کے فضائل و اعمال ٭........٭........٭........٭........٭........٭........٭........٭ تحریرعبدالغفارفاروقی

  • ہفتہ

  • 2017-08-26

حصہ دوم 4⃣ ــــ چوتھا عمل : عرفہ کے روزے کا خصوصی اہتمام: عشرہ ذی الحجہ میں ایک دن ”عرفہ“ یعنی 9 ذی الحجہ کا مبارک دن ہے جس میں روزے کا ثواب اور بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے، چنانچہ حدیث میں ہے ،نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے: ”صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ، إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ“۔ مجھے اللہ تعالی سے امید ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ رکھنا ایک سال پہلے اور ایک سال بعدکے(صغیرہ) گناہوں کو مٹادے گا۔(ترمذی:749) 5⃣ ــــ پانچواں عمل :تسبیح ،تحمید ،تہلیل اور تکبیر کی کثرت: تسبیح سے مراد اللہ تعالی کی پاکی ، تحمید سے مراداُس کی حمد ،تہلیل سے مراد کلمہ طیبہ کا پڑھنا اور تکبیر سے مراد اللہ تعالی کی بڑائی بیان کرنا ہے،اور عشرہ ذی الحجہ میں اِن چاروں چیزوں کی کثرت کی تلقین کی گئی ہے۔روایات ملاحظہ فرمائیں : حضرت ابن عباس فرماتے ہیں:”فَأَكْثِرُوا فِيهِنَّ مِنَ التَّهْلِيلِ، وَالتَّحْمِيدِ، وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّسْبِيحِ“۔ترجمہ: اِن دس دنوں میں تہلیل ، تحمید،تکبیر اور تسبیح کی کثرت کیا کرو۔(شعب الایمان:3473) بخاری شریف میں تعلیقاً نقل کیا گیا ہے:”وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ:يَخْرُجَانِ إِلَى السُّوقِ فِي أَيَّامِ العَشْرِ يُكَبِّرَانِ، وَيُكَبِّرُ النَّاسُ بِتَكْبِيرِهِمَا“۔ ترجمہ :حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابو ہریرہ ذی الحجہ کے دس دنوں میں بازار جاکر(لوگوں کو تکبیر کی طرف توجہ دلانے کے لئے ) تکبیر کہا کرتے تھے اور لوگ اُن کی تکبیر سن کر تکبیر کہا کرتے تھے۔(بخاری :باب فضل العمل فی ایام التشریق) اور یہ تمام چیزیں یعنی تہلیل ، تحمید،تکبیر اور تسبیح تیسرے کلمہ میں موجود ہیں ، چنانچہ اِن دس دنوں میں چلتے پھرتے ، اُٹھتے بیٹھتے تیسرا کلمہ ،چوتھا کلمہ اور تکبیر تشریق وغیرہ کی کثرت کرکے اِس عمل کوبآسانی اختیار کیا جاسکتا ہے۔ 6⃣ ــــ چھٹا عمل :شب بیداری : عشرہ ذی الحجہ کی مبارک راتیں جن کی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے اندر قسم کھائی ہے ، بڑی ہی بابرکت راتیں ہیں ، نبی کریمﷺنے اِن مبارک راتوں کو شبِ قدر کے برابر قرار دیا ہے ، چنانچہ حدیث میں ہے : ذی الحجہ کے دن دنوں میں ہر رات کے قیام(عبادت)کا ثواب لیلۃا لقدر کی عبادت کے برابر ہے۔ لہٰذا اِن راتوں کو غفلت اور کوتاہی کا شکار ہوکر گزارنا بڑی نادانی اور خسارے کا سودا ہے اِس میں زیادہ سے زیادہ عبادت کا اہتمام کرنا چاہیئے خصوصاً عشاء اور فجر کی نماز جماعت سے پڑھنے کا اہتمام تو لازمی کرنا چاہیئے تاکہ حدیث کے مطابق رات بھر کی عبادت کا ثواب مل سکے۔ 7⃣ ــــ ساتواں عمل: شبِ عید کا خصوصی اہتمام : حضرت ابو امامہ سےنبی کریمﷺکایہ اِرشاد منقول ہے:”مَنْ قَامَ لَيْلَتَيِ الْعِيدَيْنِ مُحْتَسِبًا لِلَّهِ لَمْ يَمُتْ قَلْبُهُ يَوْمَ تَمُوتُ الْقُلُوبُ“۔ترجمہ:جس نے عیدین(یعنی عید الفطر اور عید الاضحیٰ) کی راتوں میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے عبادت کی اُس کا دل اُس (قیامت کے ) دن مُردہ نہ ہوگا جس دن سب کے دل مردہ ہوجائیں گے۔(ابن ماجہ:1782) ٭..............٭..............٭..............٭ عدالغفار فاروقی۔۔۔۔

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے