bannerdlt2020.jpg

This Page has 238683viewers.

Today Date is: 01-10-20Today is Thursday

مسلمان بزرگ کے علاج نے دین حق کا راستہ دکھا دیا

  • جمعہ

  • 2020-02-28

حاسد ہندو رشتہ داروں نے مجھ پر کالا جادو کرادیا تھا۔ مسلمان عامل نے مذہب اور ذات پات پوچھے بغیر سفلی علم سے نجات دلائی۔ میرے والد رشتہ داروں اور برادری کے خوف سے اسلام قبول نہ کرپائے۔ انہوں نے آخر دم دنیا و آخرت کو سنوارنے اور جہنم کا ایندھن بننے سے بچنے کی نصیحت کی تھی۔ (نومسلم عامر) کالے جادو کے توڑ کیلئے تگ و دو کے دوران ایک بزرگ مسلمان نے مجھے اسلام کی حقیقت سے روشناس کرایا اور میں گمراہی کی زندگی کو چھوڑ کر دین حق کا راہی بنا۔ میرے والد بھی اسلام کی حقیقت کو تسلیم کرچکے تھے، مگر ہندو رشتہ داروں اور برادری کے خوف سے اسلام قبول نہ کرپائے اور مٹی میں شامل ہونے کے بچائے آگ کی خوراک بن بیٹھے۔ یہ باتیں حیدر آباد کے رہائشی نو مسلم عامر نے ”امت“ سے کیں، جس کا پرانا نام مامر تھا۔ عامر نے اپنی زندگی اور قبول اسلام کے حوالے سے بتایا کہ..... ”میں ہندو گھرانے میں پیدا ہوا اور ہندو مذہب کے مطابق میں نے مذہبی تعلیم حاصل کی۔ میرے گھر والے کوئی اتنے زیادہ مذہبی ہندو نہیں تھے مگر ہم کسی تہوار میں پوجا پاٹھ کرنا کبھی نہیں بھولتے تھے۔ ہم سب گھر والے ایک ساتھ مندر جایا کرتے تھے اور ہندوؤں کی ہر مذہبی تقریب میں شرکت یقینی بنایا کرتے تھے۔ جب میں جوان ہوا تو میں نے مندر جانا کم کردیا، کیونکہ میں اپنا کاروبار شروع کرچکا تھا۔ مجھے کاروبار سے اتنی فرصت نہیں مل پائی تھی کہ میں مندرجا سکوں۔ ایک بار میرے والد بہت بیمار ہوگئے، جس کی وجہ سے مجھے اپنا کاروبار بند کرکے کچھ دنوں تک اپنے والد کی تیمارداری کیلئے گھر پر رہنا پڑا۔ جب میرے والد کی طبیعت کچھ بہتر ہوئی تو ایک دن انہوں نے مجھے اپنے پاس بلوایا اور انتہائی رازداری سے کہا کہ اب مجھے لگتا ہے کہ میرا وقت پورا ہوچکا ہے اور کسی بھی وقت میں مرسکتا ہوں جس کے بعد تم لوگ بھی مجھے ہندو مذہب کے مطابق آگ میں جلا دو گے اور میں آگ کی خوراک بن جاؤں گا، جو میں نہیں چاہتا، مگر کیا کروں کہ اب ایسا ہی ہونا ہے۔ میں تمہیں اپنی زندگی کی کچھ معلومات فراہم کرنا چاہتا ہوں جو میں نے بہت محنت اور مشاہدے کے بعد حاصل کی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ ان معلومات سے میں تو فائدہ اٹھا نہیں پایا، مگر کم سے کم تم ضرور فائدہ اٹھاؤ اور ان معلومات کی روشنی میں اپنی زندگی میں تبدیلی لاؤ۔ اس پر میں نے والد سے کہا کہ میں ضرور آپ کی معلومات سے فائدہ اٹھاؤں گا۔ والد نے پھر کہنا شروع کیا کہ میں اپنی ساری زندگی کے مشاہدے میں صرف یہی جان پایا ہوں کہ ہم جس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، اس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ مذہب صرف ایک مفروضے اور قصے کہانیوں پر ہی مبنی ہے۔ اگر ہم اس دنیا میں اہل مذہب ڈھونڈنے کی کوشش کریں تو ہماری نگاہ صرف ایک ہی مذہب پر جاکررُکتی ہے جو حق بھی ہے اور سچ بھی اور اس کا حقیقت سے بھی بہت گہرا تعلق ہے۔ جو نہ تو کسی قصے پر مبنی ہے اور اس میں نہ کوئی کہانی ہے۔ اس میں جو بھی واقعات ہیں وہ سب سچ ہیں۔ اور وہ حق و سچا مذہب دین اسلام ہے۔ میں نے کئی بار چاہا کہ اس سچے دین میں شامل ہوکر اپنی دنیا و آخرت سنوارلوں، مگر مجھے یہ خوف لاحق رہا کہ اگر میں مسلمان ہوگیا تو میرے ہندو رشتہ دار اور برادری کے دیگر افراد میرے اور میرے اہلخانہ کے ساتھ کیا سلوک کریں گے، اور میری جن بیٹیوں کی شادیاں ہوچکی ہیں، ان کے ساتھ ان کے سسرال والوں کا کیا رویہ ہوگا۔ بس یہی سب سوچ کر میں مسلمان ہونے سے گریز کرتا رہا۔ مگر میں تمہیں یہ نصیحت کرکے جارہا ہوں کہ اگر تم اپنے اندر ہمت محسوس کرو اور اپنے مشاہدے سے یہ جان لو کہ دین اسلام ہی سچا دین ہے تو تم دیر مت کرنا اور دائرہ اسلام میں شامل ہوکر اپنی دنیا و آخرت کو سنوارلینا اور کبھی آگ کی خوراک مت بننا۔ اس کے بعد میرے والد صاحب اس دنیا کو چھوڑ گئے اور ان کے نہ چاہنے کے باوجود بھی ہمیں ان کے مردہ جسم کو ہندو مذہب کے مطابق آگ کی نذر کرنا پڑا۔ اس وقت مجھے بہت افسوس اور دُکھ محسوس ہوا کہ میرے والد صرف خوف کی وجہ سے اسلام قبول نہیں کر پائے اور آخر کار آگ کی ہی خوراک بنے۔ میں نے فیصلہ کرلیا کہ میں اپنے ساتھ ہر گز ایسا نہیں ہونے دوں گا۔ اگر زندگی میں مجھے دین اسلام کی سچائی کی پہچان ہوئی تو میں ایک لمحہ ضائع کئے بغیر اسلام قبول کرلوں گا۔ بعد میں، میں بھی اپنی روزمرہ کی زندگی میں مصروف ہوگیا اور پرانی ساری باتیں بھول بیٹھا۔ پھر ایک دن میرے ساتھ ایک حادثہ وقوع پذیر ہوا۔ ہوا یہ کہ میرے کاروبار کو ترقی کرتا دیکھ کر میرے ہی کچھ رشتہ داروں نے مجھ پر سفلی علم کروادیا جس کی وجہ سے میری ٹانگوں نے کام کرنا بند کردیا اور میں ایک طرح سے معذور ہوگیا۔ میں نے کئی ڈاکٹروں سے علاج کروایا، مگر سب یہی کہتے کہ میری ساری میڈیکل رپورٹس صحیح ہیں۔ جبکہ میں اپنی ٹانگوں کو حرکت نہیں دے پاتا تھا۔ بعد میں، میں نے ایک سفلی علم کے ماہر شخص سے رابطہ کیا تو اس نے مجھے بتایا کہ تم پر سفلی کا سب سے خطرناک عمل کیا گیا ہے اور اس کا توڑ کرنا کسی عام عامل کے بس کی بات نہیں۔ اگر تم اس کا توڑ کروانا چاہتے ہو تو تمہیں سری لنکا جانا پڑے گا، کیونکہ وہیں اس عمل کے کاٹ کے ماہر مل سکتے ہیں۔ اس کے بعد میں مکمل طور پر مایوس ہوگیا۔ مگر کچھ عرصہ بعد مجھے کسی دوست کے ذریعے ٹھٹھہ میں ایک ولی ئ کامل شخص کے بارے میں پتہ چلا تو میں اپنی مصیبت کے حل کے لئے ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ شخص ایک مسلمان ہستی تھے۔ انہوں نے یہ پوچھے بغیر کہ میں مسلمان ہوں یا ہندو، میرا علاج کرنا شروع کیا اور مجھے ایک پانی کی بوتل دی۔ جس میں سے پانی نکال کر میں نے 3دن میں ہی میں پہلے کی طرح چلنے پھرنے لگا۔ اس کے بعد میں نے مسلمان ہونے کا فیصلہ کرلیا اور گمراہی کی اس دلدل سے اپنے آپ کو نکالنے کی فکر میں لگ گیا۔ آخر کار کراچی آکر مولانا نور اللہ رشیدی مجددی کے ہاتھوں میں نے کلمہ حق پڑھ کر اسلام قبول کیا۔ میرا نام عامر مولانا نے ہی رکھا ہے۔ مولانا صاحب کے بارے میں مجھے انہی بزرگ نے بتایا تھا جنہوں نے میرا علاج کیا تھا۔ اب میں مولانا صاحب سے دین کی تعلیم حاصل کررہا ہوں۔

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے