bannerdlt2020.jpg

This Page has 208292viewers.

Today Date is: 15-07-20Today is Wednesday

معاشرے میں بڑھتی ہوئی فحاشی بے حیائی اورہوس کیا اس کے ذمےدارماں باپ ہیں؟

  • ہفتہ

  • 2019-11-02

فحاشی بے حیائی بڑھتی حوس کورٹ میرج کیا یہ واقعی ماں پاب کی وجہ سے ہے ؟ دُنیا میں آج کل نیا کلپر جنم لے رہا کچھ دنوں پہلے ایک کالج کی ویڈیوں وائرل ہوئی جس میں ایک لڑکی مجرا سونگ پر ڈانس کر رہی تھی جس کو دیکھ کر والد کو دل کا ہارٹ آٹیک آگیا اور لڑکی نے سب معاملہ حد سے بڑھتے ہوئے دیکھا خودکشی کرلی بات یہی ختم نہیں ہوئی ابھی آغاز ہُوا ہے بات کا آج کے وقت میں انسان کی حوس کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا آئے گئے روز نئی سے نئی خبر ملتی ہے لڑکی کے ساتھ زیادتی ہوگئی ہے، فلاں کی لڑکی فلاں کے ساتھ بھاگ گئی ،ایک لڑکے نے ایک لڑکے کے ساتھ زیادتی کی،کسی لڑکے یا لڑکی نے خودکشی کرلی،ماں باپ چہرہ دکھانے کے قابل نہیں رہے، ایسی باتیں آخر کیوں سننے کو ملتی ہیں اس کی اصل کیا وجہ ہیں انسان اپنے لڑکے یا لڑکی کو یونیورسٹی کالج یہ کہیں دُور اتنا پیسہ لگا کر بھیجتا بُہت ساری لڑکیوں اور لڑکوں میں میں بُہت اچھے لڑکے اور لڑکیاں بھی ہوتی ہیں اور بُہت ساری میں اچھی لڑکے اور لڑکیاں خراب بھی ہو جاتی ہیں کیوں کہ آج کل سکول کالج کم فحاشی اور بے حیائی زیادہ سکھائی جاتی ہے وہاں لڑکی یا لڑکا عشق ،دوستی،ایک دوسرے کیلئے عیاشی کا سامان بن جاتے ہیں بات حقیقیت کسی کو بُرا لگے معذرت ، کیوں کہ گھر میں ٹی وی ہوگا اور نیٹ بھی لڑکا اور لڑکی کے پاس موبائل بھی جی ہاں ہر ماں پاب کو چاہئے اپنی اولاد کو بالغ ہوتے ہی اس کی شادی کر دینی چاہئے تاکہ فحاشی حوس کم ہو ہر ماں باپ عزت سے زندگی گزار سکے اگر ایسا نہیں ہُوا تو آنے والا وقت آپ کی عزت ہی نہیں آپ کی نسلوں کو بھی برباد کردیں گا اسلام میں لڑکا اور لڑکی اگر بالغ ہوجائے چاہے وہ ساتھ تعلیم بھی حاصل کریں اور ان کی شادی کردینی چاہیئے ناکہ اُن کو کالج یونیورسٹی میں چھوڑنا چاہئے لیکن اسلام کے بارے نہ تو آپ جانتے ہیں نہ کبھی جاننے کی کوشش کی اور نہ اپنی اولاد کو بس مشکل وقت اللہ اللہ ، دُنیاوی تعلیم سیکھ بھی لی اور اولاد کو بھی سکھا دی بے حیائی کے سوا دُنیاوی تعلیم میں اور کچھ نہیں رکھا اگر قرآن پاک کو ترجمعہ کے ساتھ پڑھ لو چاہے 10 سال لگا کر سیکھ جاو دُنیاوی تعلیم ہی نہیں آخرت کی تعلیم بھی سیکھ جاو گئے کیوں کہ اللہ تعالی نے قرآن میں ہر وہ چیز بتائی جو دُنیاوی کتابوں میں بھی نہیں ہے لیکن ایسا نہیں کر سکتے کیوں کہ ھم مسلمان ہیں نام کے لڑکی کے ساتھ زیادتی ہوگئی،/ جب ماں باپ اپنے بیٹے کی شادی نہیں کرتے کسی ماں کی کسی باپ کی بیٹی ایسے میں انسانی درندگی کا نشانہ بنتی ہے یہ سب کیوں ہوتا ہے آج کہ وقت میں آپ سب جانتے ہیں انٹرنیٹ اور ٹی وی پر فحش عام ہوچکا پتلے اور چھوٹے لباس یہی سمجھ لے کے بغیر لباس کے لڑکیا سامنے ہوتی ہیں تو لڑکے کے اندر حوس پیدا ہوتی ہے جس کو بجانے کے لیئے وہ آس پاس دیکھتا ہے جو ہاتھ لگا اس کی زندگی برباد کر دیتا چاہے وہ کم سن بچی ہو چاہے وہ جوان ، فلاں کی لڑکی فلاں کے ساتھ بھاگ گئی،/لڑکیاں گھر سے کیوں بھاگتی ہیں ویسے ایک بات ہے جب آپ کے گھر میں ناچ گھانے فلمیں ڈرامے عشق کی باتیں چلیں گی تو بھائی یہ سب کچھ بھی ہونا ہے آپ کی بیٹی کہتی ہے میری فلاں کے ساتھ شادی کردیں ھم ایک دوسرے کو چاھتے ہیں والدین عقل سے کام لیتے ہوئے یہ ذات پات دُنیا کا ایک لگایا ڈارمہ ہے جس نے مسلمانوں کو آپس میں جُدا کیا ہے بس یہ دیکھ لیں کہ وہ مسلمان ہے کہ نہیں خدارا لڑکی کا حق ہے اس کی مرضی اس کو مارنا پیٹنا نہیں اس کی رضا کو قبول کریں ذات پات سامنے لاء کر اپنی عزت کو برباد نہ کریں رضا مندی سے اپنی اولاد کی خوشی کو قبول کریں جس میں اولاد کی خوشی نہیں ہوتی بغیر رضا مندی کے نکاح کردیا تو سن لیں آپ نے اپنی بچی اپنے ہاتھوں سے زنا کے لیئے دے دی جس کا سارا بوجھ آپ کے سر ہوگا ماں باپ کو اپنی اولاد کی خوشی سمجھنی چاہے بچپن میں ماں باپ نے بھی خوب عشق کیئے ہوگئے اگر ان کی اولاد ایسا کر رہی ہے اپنا بچپن دیکھ لیا کریں تاکہ آپ کی عزت بھی بچ جائے محبت ایک نعمت ہے گناہ نہیں اگر محبت کو نکاح میں بدل رہے ہیں وہ نیک کام ہے آپ ایسے کام میں مدد کریں ناکہ ظلم زندگی کچھ لمحوں کا نام ہے جس کا آپ کو حساب دینا ہے سن رکھا ہوگا روز قیامت کے دن اولاد کیا کسی کو کسی کا نہیں پتہ ہوگا تو دُنیا میں آپ کس بات کا جھگڑا کر رہے ہیں کس ذات پات کے لیئے لڑ رہیں اچھے بھلے مسلمان کہلاتے تھے وجاہت بانڈھ دیا ھم کو ذاتوں میں ایک لڑکے نے ایک لڑکے کے ساتھ زیادتی کی،/ آج کل قوم لوط جیسی نسل ُہت بڑھ رہی آخر اس کی کیا وجہ ہے بچا جوانی کی طرف جا رہا عمر اس کی 15 سال سے بڑھ گئی ہے وہ بالغ ہوچکا ہے ناچ گانے دیکھ کر سوشل میڈیا ساری رات دوستوں سے باتیں لڑکیوں کی تصاویر دیکھنا دماغ میں حوس کی آگ ماں باپ کا خیال ہوتا ہے بچہ ہمارا پڑھے لاکھوں روپے کما کر کھلائے پھر ھم اس کی شادی کریں گئے لیکن لڑکا اپنی حوس پوری کرنے کے لیئے ہر حد پار کر جاتا ہے اس کو رکی نہیں ملتی نہ اس میں کوئی ہمت ہوتی ہے کسی لڑکی کے لیئے تو کسی لڑکے کو دوست بناتا ہے اگر چھوٹا ہے کسے چیز کا لالچ دیتا ہے اور ویران جگہ پر لے جا کر زیادتی کر ڈالتا ہے صرف بات یہی نہیں آج کل قوم لوط جیسی نسل بڑھ رہی ہے بُہت تیزی سے اس کی اگر وجہ دیکھی جائے بچوں کی شادی لیٹ کرنا ہے ماں باپ کو چاہئے بچوں کی شادی میں کبھی دیر مت کریں آج کے وقت میں کیوں کہ اس چیز کا حساب اولاد کو کم آپ کو زیادہ دینا ہوگا کیوں شیطان گمراہی کی راہ پر لیکر جارہا ہے ہمارے ایک دوست ہے اس نے اپنے بچوں کی شادی 15 سال کا جب بچا ہو کروا دیتا تھا ایک دن اُس سے وجہ پوچھی کہتا کہ کل بھی کوئی بدنامی سننے کو ملے گئی اس سے پہلے ان کی حوس مکمل ہوجائے گی اور کوئی گناہ سے بچ جائے گئے اور اس نے کہاں میں بیٹی کی شادی بھی 15 سال کی عمر میں کردی تاکہ وہ اپنے زندگی اچھی گزار دے کیوں کہ اس کو سمجھ آگئی کہ معشارہ گمراہی کی طرف ہے اولاد سے نہیں ہماری غلطی کی وجہ سے ایسا غلط فعل ہو اس سے پہلے ھم اپنا فرض پورا کردیں ہر ماں باپ کی سوچ ایسی ہونے چاہئے دُنیاوی تعلیم کی طرف بھاگ رہیں کل کا دن دیکھنا یا نہیں اس کا علم نہیں اور اُمید عیش کی لگائے بیٹھے ہیں سب اپنے ماں باپ ہونے کا فرض ادا کریں آپ کی اولاد ہی آپ کی آخرت نہ خراب کردے اگر آپ کو ہماری بات اچھی لگی ہو آپ سمجھ سکیے ہو تو اپنی رائے کا اظہار ضرور دیں اگ بات اچھی لگی تو دوسروں تک پہنچائیں تاکہ ہر ماں باپ جان جائیں اور اچھا فیصلہ کرسکے

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے