imageshad.jpg

This Page has 13790viewers.

Today Date is: 17-12-18Today is Monday

محترمہ سمیرا عتیق صاحبہ کا تعلق پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) سے ہے

  • sunday

  • 2017-03-09

ّؓؓ آج جس شحصیت کا انٹرویو قارئیں کو پیش کیا جا رہا ہے اس کا نام محترمہ سمیرا عتیق صاحبہ ہے۔سمیرا عتیق صاحبہ کا تعلق پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) سے ہے۔ آپ مسلم لیگ کی سرگرم کارکن ہیں۔ آپ نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز سکول سے کیا اور ساتھ ساتھ سماجی اور رفاہی کاموں میں بھی بھر پور حصہ لیتں رہیں۔ ٓآئیے ہم انٹرویو کی طرف چلتے ہیں۔ میں نے سمیرا جی کو فون کیا تو انھوں نے اپنی ایک اہم میٹنگ چھوڑ کی مجھے ٹائم دیا اور گھر آ نے کا کہا جیسے ہی میں ان کے گھر واقع سبزہ زار پہنچی تو انھوں نے خود گیٹ پر آ کے میرا استقبال کیا۔چائے سے فارغ ہو کر میں نے اپنے انٹرویو کا آغاز کر دیا۔ نبیلہ اکبر: آپ کا سیاست میں آنا کسی حادثہ کا نتیجہ ہے یاآپ کا خاندان کا تعلق سیاست سے ہے۔ سمیرا عتیق:میر ا تعلق اندرون شہر لاہور سے ہے۔میں نے 1983ء میں اپنی سیاسی زندگی کا آغاز سکول لائف کیا۔ میری رہائش (والدہ) کا تعلق اندرون موچی گیٹ اور(والد) کا تعلق مصری شاہ سے ہے۔ میاں نواز شریف کی بیوی محترمہ کلثوم نواز صاحبہ ہمارے گھر کے قریب ہی رہتی تھیں۔ نبیلہ اکبر: ایسی کونسی وجہ بنی کہ آپنے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا۔ سمیرا عتیق: میں میا ں نواز شریف صاحب کی باوقار شحصیت اوربہترین قیادت سے بے پناہ متاثر تھی اس وجہ سے میں نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا۔ نبیلہ اکبر: آپ سیاست میں ہونے کی وجہ سے اپنے گھر، بچوں کی تربیت اور خانہ داری کا نظام کیسے چلاتیں ہیں۔جبکہ عورت گھر کی وزیر اعظم ہوتی ہے۔ سمیرا عتیق: نبیلہ اب تو میر ے بچے بڑے ہو گئے ہیں جسکی وجہ سے سکون ہے۔ لیکن جب جھوٹے تھے اس وقت میں انھیں سکول چھوڑنا۔لانا اور صفائی سھترائی۔کپڑے دھونا اوراستری کرنا سب میں خود کرتی تھی۔کوئی مائی نہیں رکھی تھی۔ نبیلہ اکبر : سمیرا جی آپکی تعلیم کہاں تک ہے۔ سمیرا عتیق: میری تعلیم بی اے (ٹی ایف ڈی ۔ہومیو ڈاکٹر)ہے۔میٹرک کے بعد میری شادی ہو گئی تھی۔ میری ساس اچھی تھیں اور عتیق صاحب نے بھی کافی تعاون کیاانھوں نے مجھے پڑھنے دیا باقی تعلیم میں نے جاری رکھی اور میں نے ڈریس میکنگ کی بھی تعلیم حاصل کی میں 11سال اس شعبہ سے منسلک رہی یہاں تک کے 16سال تک میں درس و تدریس کے پیشے سے وابسطہ رہی۔ نبیلہ اکبر: آپکی پسندیدہ ڈش کونسی ہے۔ سمیرا عتیق: مٹروں والا پلاؤ میری پسند کی ڈش ہے۔اور میں خود ہی بناتی ہوں۔ نبیلہ اکبر: سیاست میں عورتوں کو مردوں کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے۔ عورتوں کے ساتھ مردوں کا رویہ کیسا ہے۔ سمیرا عتیق: اس بارے میں میرا ایک ہی جواب ہے۔ یہ صرف عورتوں کا اپنی ذات پر منحصر ہے۔ نبیلہ اکبر: جیسا کہ آپکی پارٹی مسلم لیگ برسراقتدار میں ہے اور پانامہ کیس کا عدالتی فیصلہ آنے والا ہے اگر فیصلہ میاں صاحب کے خلاف ہوا تو آپ سمجھتی ہیں اس سے پارٹی کو کوئی نقصان ہو گا۔ سمیرا عتیق: پارٹی کو کوئی نقصان نہیں ہو گا عدالت کو جو بھی فیصلہ ہو گا وہ سب کو قبول ہوگا۔ ہم عدالت کا احترام کرتے ہیں۔ نبیلہ اکبر: 2018 ء کے الیکشن میں کیا آپکی پارٹی واضع اکژیت سے جیتے گی۔ سمیرا عتیق: جی انشااللہ ضرور جیتے گی۔ نبیلہ اکبر: چیف آرگنائزرلاہور ڈویثرن یوتھ ونگ کی حیثیت سے کونسا ایسا کارنامہ انجام دیا ہے۔ سمیرا عتیق: میں ہمیشہ عورتوں کو سپورٹ کرتی ہوں اور انکی فلاح کے لیے ایک ادارہ سہیلی ویلفئر فونڈیشن کے نام سے چلا رہی ہو اور میں ہمیشہ عورتوں کی بات کرتی ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ میں UC-106 کی لیڈی کونسلر بھی ہوں اور عورتوں کے حقوق کی بات کرتیں ہوں۔ نبیلہ اکبر: جیسا کے آپکی حکومت کی نمایاں کارکردگی میٹرو بس اور زیر تعمیر اورنج ٹرین ہے۔ جبکہ صحت اور تعلیم میں آپکی حکومت ناکام رہی ہے۔اب کونسے ایسے کام کرنے ہوں گے جسسے آپکی حکومت کو کامیابی نصیب ہو۔ سمیرا عتیق: ہماری حکومت نے ہیلتھ اور ایجوکیشن سیکٹر میں کافی کام کیا ہے۔ عورتوں اور مردوں کو پنجاب ڈو لپمنٹ کہ کے نام سے ادارے قائم کیے ہیں میں ہنر مند بنانے کے لئے ان کو بغیر فیس کے میرٹ کی بنیاد پر داخلہ دیا جا رہا ہے ساتھ تمام مٹیریل اور وظیفہ بھی دیا جا رہا ہے۔نبیلہ جی آپ خود اسکی طالبہ ہیں۔ نبیلہ اکبر: آپکی حکومت مہنگائی کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہو۔ 63 روپے فی لیٹر ملنے والا پٹرول اب15دنوں میں 73 روپے لیٹر ہوگیا ہے۔جسکی وجہ سے مہنگائی کی ایک لہر نے ہر چیز کو آگ لگا دی ہے۔ آپکی ترجہی صرف عوام کو سفری سہولت دینا ہے۔ سمیرا عتیق: تمام ترقی کا دارومدار غیرملکی سرمایہ کاری سے ہے۔جب آپ ان کو سرمایہ کاری کا کہیں گے تو وہ سب سے پہلے وہ یہ دیکھے گا یہاں حکومت کونسی سہولتیں دے رہی ہے۔لہذا یہ سب کیچھ کرنا پڑتا ہے۔ پٹرول پر حکومت کافی دفعہ سبسیڈی دے چکی ہے۔اور صحت اور تعلیم کے منصوبوں پر کام ہورہا ہے۔ نبیلہ اکبر: آپکی حکومت کے اچھے اقدامات کو میڈیا میں سراہا جاتا ہے اور نمایاں کوریج دی جاتی ہے۔ لیکن جب آپکو ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسا کہ نابیناؤں سے کیے گئے وعدے۔ڈاکٹروں کا مسلہ اور امن وامان کی صورت الحال میں ناکا می ہو تو آپکی حکومت میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے۔ سمیرا عتیق: ہماری حکومت میڈیا کو چوتھا ستون سمجھتی ہے اور میڈیا مکمل آزاد ہے۔تمام پارٹیوں کو کوریج دیتا ہے۔نابیناؤں کو جاب دے دی گئیں ہیں اور ڈاکٹروں کے مسائل بھی حل کئے جا رہے ہیں۔ دواساز ادارے سیل کئے گئے ہیں وہ ناقص داوائیاں بنانے میں مصروف تھے کسی حکومت نے اس پر توجہ نہیں دی صرف ہماری حکومت نے اس پر کام کیا۔ جہاں تک امن وامان کا مسئلہ ہے اس پر بھی کام ہو رہاہے۔ سمیرا جی آپکا بہت بہت شکریہ آپنے وقت دیا اور آ پکی پارٹی کا موقف سامنے آیا۔

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے