imageshad.jpg

This Page has 11872viewers.

Today Date is: 10-12-18Today is Monday

فلک زاہد نے کم عمری میں ۱۵ پراسرار کہانیاں کتابی شکل میں لکھ کر ادب کی دینا میں ایک تہلکا مچا دیا

  • پیر

  • 2018-09-24

میں آج جس شخصیت کے بارے میں انٹرویو کرنے جا رہا ہوں وہ ایک کم عمر لکھاری ہے جس نے اپنی تحریروں سے اپنی ایک منفرد پیچان بنا لی ہے اس کا نام سے فلک زاہد۔ س:آپ نے لکھنا کب سے شروع کیا ج:بارہ سال کی عمر سے لکھنا شروع کیا مگر اس وقت کا لکھا صرف کاغزوں تک محدود رہا کہیں شائع نہیں کروایا کیونکہ مجھ میں اس وقت یہ حوصلہ اور خوداعتمادی نہیں تھی کہ میری تحریریں شائع ہونے کے قابل ہیں مگر ایک بار یونہی میں نے بنا کسی امید کے اپنی لکھی ہارر کہانی ماہنامہ خوفناک ڈائجسٹ میں بھیج دی اور یہ جان کر مجھے بے حد خوشگوار حیرت کا احساس ہوا کہ میری پہلی کہانی ہی رسالے کی زینت بن چکی تھی اور بے حد پسند بھی کی گئ تھی. س: آپ کو لکھنے کا شوق کیسے پیدا ہوا ج: بچپن سے بچوں کے رسالے پڑھنے کا بہت شوق تھا بابا نہ صرف ایک سے ایک معیاری رسالے لاکر دیا کرتے تھے بلکہ کتابیں بھی بے شمار لیکر دیتے تھے جنہیں پڑھ کر بہت مزا آیا کرتا تھا اور وہیں سے میرے تخلیقی ذہن کو لکھنے کا شوق ہوا کہ جس طرح میں دوسروں کی کہانیاں پڑھتی ہوں ٹھیک اسی طرح دوسرے بھی میری کہانیاں پڑھیں تو کتنا اچھا لگے س:آپ کا پسندیدہ رائٹر کونسا ہے ج: انوار علیگی اور ایم اے راحت میرے پسندیدہ رائٹرز ہیں جنکے ہر ناول میں شوق سے پڑھتی ہوں. س:آپ نے ہارر کی دنیا میں اچھا نام بنایا ہے لیکن آپ نے ہارر میدان ہی کیوں چنا ج: بچپن سے ہارر کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق تھا میرے مطالعے میں بادشاہ, ملکہ جیسی عام بچوں کی کہانیاں کبھی شامل نہیں رہیں میں نے ہمیشہ دوسرے بچوں سے الگ پڑھا جن میں ڈراؤنی کہانیاں زیادہ شامل ہوتیں میرا ذہن میری شخصیت ہمیشہ سے مختلف رہی ہے جس کو اپنے اپنے معیار کے مطابق کچھ لوگ سراہتے ہیں تو کچھ تنقید کرتے ہیں مگر میں نے وہی کیا جس میں میرا اپنا دل مطمعن رہتا تھا...انگریزی ہارر فلمیں دیکھنا میری کمزوری ہے جو بھی نئ ہارر انگلش فلم آتی ہے میں ضرور دیکھتی ہوں... س: آپ نے کس چیز سے متاثر ہوکر لکھنا شروع کیا. ج: عموماً لوگ کسی نہ کی فلم یا کہانی سے متاثر ہوکر لکھنا شروع کرتے ہیں لیکن آپکو یہ جان کر یقیناً حیرت ہوگی کہ میں نے مشہور زمانہ جرمن موسیقار "Enigma" کے شہرہ آفاق گانوں سے متاثر ہوکر لکھنا شروع کیا انکی موسیقی میرے ذہن میں مختلف تصاویر بنایا کرتی تھیں جنکو میرے تخلیقی ذہن نے کہانی کی شکل دی. ان موسیقار کا ذکر میں نے اپنی کتاب میں موجود ایک کہانی "ہوٹل کی رات" میں بھی کیا ہے. س: آپ کس ڈائجسٹ میں لکھتی ہیں ج: کراچی سے شائع ہونے والا پاکستان کا واحد ہارر ڈائجسٹ "ڈر" س:آپکو لکھنے میں کیا مسائل درپیش ہوے ج: عموماً لڑکیوں کو لکھنے میں گھر والوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اللہ کا کرم ہے مجھے میرے گھر والوں کا مکمل تعاون حاصل ہے خاص کر میرے والد صاحب اور میری بہن مجھے بہت سپورٹ کرتے ہیں. س:آپکی کہانی مغربی کرداروں سے ہی کیوں سجی ہوتی ہے ان میں مشرقی کردار کیوں شامل نہیں ہوتے ج: مجھے انگریزی ہارر فلمیں دیکھنے کا بہت شوق ہے اسی وجہ سے میں انہی کے پس منظر میں لکھتی ہوں یوں بھی ایسی کہانیاں مغربی ماحول میں اچھی لگتی ہیں. س: آپ اپوا میں کیسے شامل ہوئ. ج: میری کتاب منظرِ عام پہ آنے کے بعد جس قدر اسے ادبی حلقوں میں سراہا گیا پسند کیا گیا میں نے بلکل نہیں سوچا تھا میری کتاب کو پڑھ کر ہی تنظیم کے سنیئر سر حافظ محمد زاہد صاحب مجھے اس میں لیکر آے اور میں اس بات کے لیے انکی بے حد شکرگزار ہوں کیونکہ اس تنظیم میں میری بہت ہی خوبصورت لوگوں سے ملاقات ہوئ اتنے اچھے دوست بنے جنہوں نے ہمیشہ میرا حوصلہ بڑھایا...پیاری دوست مہوش احسن, قراۃ لعین خالد, بانی و سنیئر نائب صدر ایم ایم علی, سنیئر صدر وومن ونگ میم ناہید نیازی, سنیئر نائب صدر وومن ونگ عمارہ کنول, جنرل سیکٹری وومن ونگ فاطمہ شیروانی اور سرپرست اعلیٰ سر زبیر احمد انصاری جیسے قابلِ احترام لوگ شامل ہیں جنہوں نے میری کتاب پڑھ کر میری صلاحیتوں کو سراہا اور مجھے کم عمری میں ہارر کہانیوں کی کتاب لکھنے پر ایوارڈ سے نوازہ. س:آپکی پسندیدہ شخصیت کونسی ہے ج: 1960 کے فلمی دور کے فرانسیسی اداکار "ایلن ڈیلن" میری پسندیدہ شخصیت ہیں جن پر میں پاکستانی اخبارات میں آرٹیکلز بھی لکھ چکی ہوں اور کبھی کبھی ان پر شاعری بھی کرلیتی ہوں حالانکہ شاعری میرا موضوع نہیں ہے... س: مستقبل میں کیا کرنے کا سوچا ہے. ج: اللہ نے مجھے اس فیلڈ میں جس قدر عزت و شہرت سے نوازہ ہے میں اسکو مدِ نظر رکھتے ہوے اسی کو آگے لیکر چلوں گی اور انشاللہ ادب سے وابستہ رہوں گی.میری بہت جلد بچوں کے لیے لکھی کتاب آرہی یے جسکے ساتھ ساتھ دو تین مزید پروجیکتس زیرِ تکمیل ہیں... س:اپنے جیسے بچوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گیں ج: میں انکو یہی کہنا چاہوں گی کہ اپنا وقت سوشل میڈیا میں ضائع مت کریں اپنے اندر کی صلاحیتوں کو پہچانیں اور کوئی ایسا کام کر دکھائیں کہ آپکا ملک اور آپکے والدین آپ پر فخر محسوس کریں کہ والدین کو فخر کروانے سے بڑی خوشی کوئی بھی نہیں...!!!

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے