علی اعجاز تمغہ حسن کارکردگی ایوارڈ یافتہ لوگوں میں قہقے بانٹنا ان کا مشن ہے۔ رانا سعید یوسف کے ساتھ ایک شام


  • پیر
  • 2018-09-24
ٓآج جس شحصیت کا میں انٹرویو کر رہا ہوں وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔انھوں نے اپنی فنی زندگی کا آغاز پی ٹی وی کے ڈرامے دبئی چلو۔لاکھوں میں تین سے کیا ہے۔ان مشہور ڈراموں سے شہرت حاصل کر کے فن کی بلندیوں کو چھونے والے کوئی اور نہیں وہ فلمسٹار علی اعجاز ہیں۔ جو اپنی خو بصورت اداکاری کے ذریعے لوگوں میں قہقے بکھیرتے رہے ہیں اور بیشمار ہٹ فلمیں دی ہیں۔علی اعجاز کو حکو مت پاکستان نے انکی اعلی کارکردگی پر تمغہ حسن کارکردگی عطا کیا۔میں اپنے انٹرویو کا آغاز کرنے کے لیئے شیزان ریسٹورنٹ فورٹریس اسٹیڈیم لاہورکینٹ پہنچا۔ رانا سعید: علی اعجاز صاحب کیسی طعبیت اور کیا حال ہے۔ علی اعجاز: رانا صاحب اللہ کا کرم ہے مالک کا شکر ہے۔ رانا سعید: علی صاحب آپنے ان گنت فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں آپ نے اپنی فنی زندگی کا آغاز کس فلم سے کیا۔ علی اعجاز: رانا صاحب میں نے اداکاری تو پی ٹی وی کے ڈرامے دبئی چلو سے کیا۔لیکن فلم کا آغازمیں نے شباب کیرانوی کی فلم (انسانیت) سے کیا تھا۔شباب صاحب جو ایک مشہور پروڈیو سر اور فلم ڈائریکٹر تھے انھوں کے ننھا(خاور) کو بھیجا مجھے لینے کے لیے گے۔شباب صاحب نے مجھ سے اورطارق عزیز(نیلام گھر) فلمسٹار رضیہ سے انٹرویو کیا اور 1000روپے کا چیک ہر ایک کو دیااور کہا کہ اس فلم کو پٹیالوی زبان میں کرنا ہے۔اسی فلم کے بعد شباب صاحب نے ۶ اور فلمیں دے دیں۔ رانا سعید: علی صاحب آپ نے ایک ہالی وڈ کی فلم میں بھی کا م کیا ہے۔ کیسا رہا آپ کا یہ تجربہ۔ علی اعجاز: رانا صاحب یہ فلم ہے ٹائیگر گینگ نام ہے اس کا اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس فلم کی شوٹنگ لاہور میں ہوئی تھی۔ اس فلم کا ہیرو ٹونی کنڈل تھا۔اس فلم میں فلمسٹار محمد علی اور زیبا بیگم نے بھی کام کیا تھا۔ رانا سعید: علی صاحب عام طور پر آپ کے علم میں ہے کہ اکثر ہیرو ہیروین کے افیئرز چلتے ہیں اور میڈیا کی زینت بنتے رہتے ہیں کیا آپکا کی افیئر مشہور ہوا۔ علی اعجاز: نہیں ایسی بات نہیں میرا کوئی ایسا کردار نہیں رہامیرے ماں باپ کی دعاؤں شامل حال ر ہیں ہیں۔جس کی وجہ سے میں نے کسی بھی حرام چیز کو ہاتھ نہیں لگایا۔ رانا سعید: علی صاحب آپکو ایک ویلفیئر فاؤنڈیشن بنانے کا خیال کیسے آیا۔ علی اعجاز: رانا صاحب میں سویڈن گیا تھاہم لوگ بور ہو رہے تھے میں نے اپنے دوست کو کہا چلو یار شہر گھومتے ہیں۔ ہم لوگ ایک سٹرک سے گزر رہے تھے کہ اچانک ایک خوبصورت عمارت نظر آئی۔میں نے پوچھایار یہ کوئی فایؤ سٹار ہوٹل ہے۔ اس نے بتایا نہیں علی یار یہ ایک اولڈ ہاؤس ہے (بوڑھے لوگوں کی رہائش گاہ)میں نے کہا یار اندر چلتے ہیں۔ اف میرے خدایا میں یہ دیکھکر دنگ رہ گیا۔اتنا خوبصورت جیسے کوئی محل۔ ہر کمرے میں دو دو بوڑھے (مرد۔عورتیں) الگ الگ رہائش پذیر تھے۔ میں نے اسی دن ہاتھ اٹھا کہ اللہ سے دعا کی اے باری تعالی مجھے ہمت دے اور میں بھی اپنے ملک میں بوڑھے لوگوں کے لئے کام کروں۔ پھر میں نے علی اعجاز ویلفیئر فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔ رانا سعید: علی صاحب یہ ادارہ کہاں پر قائم کیا گیا ہے۔ علی اعجاز: یہ مین روڈ کالا خطائی کے پاس ایک گویل گاؤں ہے جس میں پلاٹ ہے اور اس پر تعمیراتی کا م شروع ہو چکا ہے۔ اس کار خیر میں ہم نے مخیر حضرات سے تعاون کی اپیل کی ہے تاکہ یہ ادارہ جلد از جلد مکمل ہو تاکہ دکھی انسانیت کی خدمت کی جا سکے۔رانا صاحب آپ بھی ہمارے اس ادارے میں شامل ہوں اور اپنی خدمات سے ہمیں مستفید فرمائیں۔میری دلی تمنا ہے جو بچے اپنے بوڑھے والدین کو گھر سے بدخل کردیتے ہیں ان کو یہاں گھر جیسا ماحول میسر ہو تاکہ ان کو کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ رانا سعید: ضرور علی صاحب میر ی خدمات حاضر ہیں۔ علی صاحب آپ کی ہٹ جوڑی کس اداکارہ کے ساتھ بنی۔ علی اعجاز: یوں تو میں نے اس وقت کی سب ہیروئن کے ساتھ کام کیا لیکن فلمسٹار انجمن کے ساتھ 80%فلمیں کی ہیں۔میں نے نازلی۔رانی۔دردانہ رحمن۔ممتازاور عالیہ کے ساتھ بھی کام کیاہے۔ رانا سعید: علی صاحب آپ نے بیرون ملک ثقافتی پروگرام بھی کیے ہونگے۔کہاں کہاں کا سفر کیا ہے۔ علی اعجاز: رانا صاحب میں نے ان دنوں کافی سفر بھی کیا ہے۔ تمام دنیا گھوما ہوں۔صرف افریقہ کے ممالک کا دورہ نہیں کیا۔ میں نے ایک اندازے کے مطابق 500شوز کی کمپیئرنگ کی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔ رانا سعید: علی اعجاز صاحب آپ سے آج کی گفتگو بڑی اچھی رہی اور آپنے اپنا قیمتی وقت دیا میں بے حد مشکور ہوں۔ علی اعجاز: رانا صاحب میں بھی آپکا شکریہ ادا کرتا ہوں۔آپ میڈیا کے لوگ ہم لوگوں کویاد رکھتے ہیں۔اللہ آپکو خوش رکھے۔