جرمنی کے دارالحکومت برلن میں تعینات  پاکستانی سفیر محترم جناب جوہر سلیم صاحب   سے مہوش خان کی ایک ملاقات ۔


  • اتوار
  • 2018-10-14
آج کی شخصیت جس کا انٹرویو مہوش خان روزنامہ ڈیلی لاہور ٹائمز کی طرف سے کرنے جا رہی ہیں وہ جرمنی کے دارالحکومت برلن میں تعینات  پاکستانی سفیر محترم جناب جوہر سلیم صاحب  ہیں جو کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ ۔ آپ کا پورا نام ؟ جوہر سلیم   آپ کی جائے پیدائش ؟ لاہور تعلیمی قابلیت؟ سی ایس ایس ,تین ماسٹرز ,انگریزی میں ,نیشنل پبلک پالیسی  اور انٹرنیشنل ریلیشنز کن کن ممالک میں اب تک سفارت کاری کے فرائض سرانجام دے چکے ہیں؟ بوسنیا ,بحرین ,ترکی۔ سفارتکاری کے لحاظ سے آپ کا پسندیدہ ملک کون سا ہے؟ میں نے تو تمام ممالک میں ہی کوشش کی یے کہ ان تمام ممالک میں پی بہترین سفارت کاری کروں۔جس ملک سے پاکستان کے تعلقات جتنے اہم ہوتے ہیں اتنا ہی مزہ آتا ہےوہاں سفارتکاری میں ۔چیلنجز میں آپ کو زیادہ مواقع ملتے ہیں۔ ذاتی زندگی سے متعلق کچھ بتائے ؟ ماشاء اللہ سے دو بچے ہیں ۔ایک بیٹا اور ایک بیٹی ۔بیٹا دس سال کا ہے ابھی اور بیٹی چھ سال کی ۔فیملی ساتھ ہی ہوتی ہے یہاں جرمنی میں ۔ اس مقام تک کیسے پہنچے۔۔۔مطلب آسانی سے قسمت کے ساتھ یا ان تھک محنت کی؟ ان تمام چیزوں کا آپس میں تعلق ہوتا ہے۔کمبینیشن ۔محنت کے بغیر کچھ نہیں ملتا۔پھر اللہ کی مدد ضروری ہے۔یہ دونوں چیزیں آپ کو ایسا مقام دیتی ہیں کہ آپ اپنے ملک کے لئے کچھ کر سکیں۔ میرے نزدیک آپ کسی بھی شعبے میں کام کر رہے ہوں اس میں مہارت آ جاتی ہے,خواہ ایک استاد ہو,پروفیسر ہو,ڈاکٹر ہو ,نرس ہو ۔ان سب کے لئے یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اپنے کام یا پیشے کے ساتھ لگن کا ہونا بھی بے حد اہم ہے,جیسا کہ ہم مغربی ممالک میں دیکھتے ہیں۔ ایک کارپینٹر ہے جو فرنیچر بنا رہا ہے تو وہ بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ ایک وزیر ۔ آج کی نوجوان نسل فوری طور پر بلندی چاہتی ہے ,اس سلسلے میں کوئ نصیحت؟ پہلے تھرڈ سیکریٹری ,پھر سیکنڈ اور پھر یہاں تک پہنچا۔دراصل جب ہم کام شروع کرتے ہیں تو ہمیں شارٹ کٹ کا نہیں سوچنا چاہئے ۔اس سے ہمارے ملک پاکستان کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ اس سلسلےمیں میرا مشورہ تو یہی ہو گا کہ اپنے آپ پر ,اپنی محنت اور اپنی قابلیت پر پورا بھروسہ رکھیں۔خدا کی مدد آپ کے ساتھ ہو گی۔ زندگی کا کون سا دور سب سے اچھا لگا؟ ہر دور ہی خوبصورت ہوتا ہے۔بچپن کی اپنی خوشیاں ہوتی ہیں۔ٹین ایج نوجوانی کی جو عمر ہے اس کی اپنی خوبصورتی ہوتی ہے۔پھر جب آپ پریکٹیکل لائف میں آتے ہیں تو اس میں چیلنجز بھی ہیں, رکاوٹیں بھی ہیں۔لیکن آپ کی خوبصورت یادیں آپ کے اسکول اور کالج کے دور کی ہی ہوتی ہیں۔ان ہی کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ اتنے بڑے رتبے پر اللہ نے آپ کو پہچایا یقینا مصروفیات بھی ویسی ہی ہوں گی تو   آپ کی آفس کی مصروفیات سے آپ کی ازدواجی زندگی تو متاثر نہیں ہوتی؟ میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ ان کو اتنا ہی وقت دوں جتنا دینا چاہیے ۔میری مصروفیات آفس کے علاوہ دیگر تقریبات میں شرکت کرنا,لوگوں سے ملنا ملانا,کھانے پر دعوت ,دوسرے شہروں کے دورے بھی ہیں۔لیکن آپ اس کو اس طرح سے بیلنس کرتے ہیں کہ آپ کی ذاتی زندگی متاثر نہ ہوا اور بیگم بچوں کو بھرپور وقت ملے۔ خواتین کی آذادی کےکس حد تک قائل ہیں؟ اسلام دین فطرت ہے اور اسلام نے واضح کر دیا ہے کہ خواتین اور مردوں کو اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہیں,اور کس طرح خواتین  زندگی کے ہر شعبے میں حصہ لے سکتی ہیں۔میں اس بات کے حق میں ہوں کہ جن جن شعبوں میں وہ آسکتی ہیں ان کو آنا چاہیے ۔اس میں ان کو آزادی ہونی چاہیئے کہ اپنی مرضی کا شعبہ منتخب کر سکیں,تعلیم حاصل کر سکیں۔اسی طرح اسپورٹس ہے ۔ایسے بہت سے شعبہ جات ہیں جن میں آگے بڑھنے کے مواقع ہوتے ہیں۔ان میں بالکل برابری ہونی چاہیئے آج کل جرمنی میں اور خاص کر برلن میں بہت بڑی تعداد میں پاکستانی اسٹوڈنٹس اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے آ رہے ہیں ان سے آپ کا کوئ Contact ہے۔مطلب اگر ان کو یہاں کوئ مسلہ ہوتا ہے تو وہ آپ تک مدد کے لیے کیسے پہچیں گے؟ تقریبا پانچ ہزار کے قریب طالب علم یہاں جرمنی میں اعلی تعلیم کے لئے آئے ہوئے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جرمنی ان ممالک میں شامل ہے, جہاں پاکستانی طالب علموں کی سب سے زیادہ تعداد موجود ہے۔اس کی ایک بڑی وجہ یہاں کی یونیورسٹیوں کا مفت تعلیم فراہم کرنا بھی ہے۔اور ان یونیورسٹیوں کا اپنا ایک مقام ہے۔ہم ان سب سے رابطے میں ہوتے ہیں۔میں اکثر برلن اور برلن سے باہر یونیورسٹیوں میں جاتا رہتا ہوں۔ اور آپ ان کے لئے کیا خدمات انجام دے رہے ہیں؟ اس کے لئے باقاعدہ طور پر ہمارے ہاں ایک آفیسر ہیں جو ان معملات کو خود دیکھتے ہیں۔کئ طریقے ہیں ہم سے رابطہ کرنے کے۔ اسی طرح ایک بڑا مسلہ غیر قانونی طور پر پاکستان سے یہاں آنا اس بارے میں آپ کی کیا اصلاحات ہیں؟ جی جرمنی کے علاوہ یورپ کے دیگر ممالک میں بھی یہ ایک بڑا مسلہ ہے۔لیکن اس معاملے میں ہم نے کافی کام کیا ہے۔اس سلسلے میں ہمارا پورا ایک طریقہ کار ہے جس پر عمل درآمد کر کے غیر قانونی طور پر یہاں آنے والوں کو واپس بھیجا جاتا ہے۔ اصل میں جو لوگ مطلب ایجنٹس ان کو یہاں بھیجنے کے ذمہ دار ہیں ہم نے ان پر کام کیا ہے,جس کے نتیجے میں اب اس طرح آنے والوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی آئ ہے۔ مڈل ایسٹ سے ایک بہت بڑی تعداد مہاجرین کی یہاں آکر آباد ہو رہی ہے تو اس معاملے میں یہاں کی حکومت کے ساتھ آپ کے کیا معاملات ہیں؟ یہ مسلہ ان حکومتوں اور جرمن حکومت کا آپسی معاملہ ہے۔اس میں ہم دخل نہیں دیتے۔لیکن ان کے ساتھ ڈسکشنز میں ہم شامل ہوتے تھے۔خاص کر جس وقت یہ مسلہ شدید تھا۔2015/2016 میں۔اب صورتحال بہت بہتر ہے۔یہ معاملات انسانی حقوق کی تنظیموں اور یو این او کے تحت ہی حل ہونے چاہیں۔   اسی طرح کشمیر کے اشو پر آپ کی کیا اسٹریٹجی ہے؟ کشمیر سے متعلق تو یہاں ہر لیول پر بات ہوتی ہے کیونکہ یہ ایک ایسا مسلہ ہے جس نے حل ہونا ہے۔اور اس کا حل ہونا خاص کر ہمارے ساوتھ ایشیا کی سلامتی کے لئے اور معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے۔جرمن چانسلر مرکل سے لے کر وزیر خارجہ تک کے لیول پر ہر کسی سے بات ہوتی ہے۔ کشمیر کا مسلہ ایک ایسا مسلہ ہے جو ہر لیول پر زیر بحث آتا ہے کیونکہ یہ مسلہ اقوام متحدہ میں اتنے سالوں سے پڑا ہے۔اور اس کے حل ہونے سے ہی ہمارا خطہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔اس مسلہ کی وجہ سے اس خطے کے لوگ کافی مشکلات کا شکار ہیں۔ساتھ ہی ساتھ اس خطے کا امن ,ترقی اور سلامتی متاثر ہو رہی ہے۔ دوسرا پہلو اس کا انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے ہے۔جیسا کہ سب جانتے ہیں کی ہندوستان کی فوجیں وہاں قابض ہیں۔بیلٹ گن کا جو انھوں نے استعمال کیا ۔کشمیریوں کے پر امن احتجاج کو جس طرح وہ دبانے کی کوشش کر رہے ہیں جبر و تشدد سے تو اس کی بھی ہم نشاندہی کرتے رہتے ہیں۔کشمیر یوں پر ہونے والے ظلم و ستم کو روکا جائے یہ موضوع بھی زیر بحث آتا ہے۔ہم اس مسلے کو سیاسی لیول پر اجاگر کرتے ہیں۔یہاں کے مفکرین اور رائے عامہ کو ہموار کرنے والوں کے ساتھ ۔