imageshad.jpg

This Page has 11893viewers.

Today Date is: 10-12-18Today is Monday

جرمنی کے دارلحکومت برلن میں بیسویں بین المذاہب سیمینار کا انعقاد

  • جمعرات

  • 2018-11-29

برلن (رپورٹ ۔مہ وش بیورو چیف )جرمنی کے دارلحکومت برلن میں بیسویں بین المذاہب سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں یہاں بسنے والے مختلف مذاہب کے علماء اکرام نےشرکت کی ۔سیمینار کا مقصد مختلف مذاہب کے لئے کام ۔کرنے والی تنظیوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔ برلن میں سٹی مئیر آفس کے ہال میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کو کہ بیسویں بین المذاہب سیمینار کا نام دیا گیا تھا ۔سیمینار میں نہ صرف دنیا میں موجود بڑے بڑے مذاہب اسلام، عیسائیت یہودیت کے علماء و پیروکاروں نے شرکت کی بلکہ دیگر مذاہب ہندو،سکھ،بت مت pagane,Baraiوغیرہ کے ماننے والے بھی شریک تھے ۔ تقریب کا آغاز ایک ڈاکومینٹری فلم سے کیا گیا جس کا عنوان تھا ۔Mein Gott Dein Gott.میرا خدااور تمہارا خدا تقریب میں مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ بحیثیت انسان ہمارا تعلق کسی بھی دین سے ہو بہر حال ہم کو اپنا دل بڑا کر کے اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کو قبول وبرداشت کرنا چاہئے،اورایک دوسرے کی تعظیم کرنی چاہئے کیونکہ اس دنیا کے امن کے لیے بھی یہ لازم ہے ۔اور اسی مقصد کے لیے یہاں مختلف مذاہب کے لوگ مختلف تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ ایک دوسرے کو اپنے اپنے مذہب و کلچر سے آگاہی دے سکیں۔اور ایک ساتھ مل جل کر اپنی اپنی مذہبی و سماجی ذمہ داریاں پر امن طور پر نبھا سکیں۔ اس موقع پر اسلام کے حوالے سے بڑے بڑے فورمزپر ڈائیلاگ کرنے والے احمد صاحب نے اس بارے میں کہا کہ آج کی یہ تقریب بیس سالہ تقریبات کے طور پر منائ جا رہی ہے اور اس میں مختلف مذاہب کے لوگوں نے اپنے اپنے مذاہب سے متعلق معلومات فراہم کیں جس سے کہ ایک دوسرے کے مذاہب کو سمجھنے میں آسانی ہو تی ہے جرمنی میں اسلام کا فیوچر کیا ہے اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جرمنی میں جو مہاجرین ہیں وہ دو نسلوں سے یہاں آباد ہے،جو کہ پرانی جنریشن ہے اب جو نئے مہاجرین آ رہے ہیں وہ اپنے ساتھ مختلف مسائل بھی لے کر آرہے ہیں اور ان کے حل کے لیے ہمیں ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہونا ہو گا، ایک دوسرے کو جاننا ہو گا ۔اس کے لئے دونوں طرف سے کچھ سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں اور ایک دوسرے سے مل بیٹھ کر بات کرنا پڑتی ہے تاکہ اپنے مستقبل کو سنوارا جا سکے۔ سیمینار میں نہ صرف ایک دوسرے سے ڈائیلاگ کا اہتمام کیا گیا تھا بلکہ فن مصوری کے ذریعہ سے بھی مختلف مذاہب اور کلچر کو خوبصورتی سے پیش کیا گیا تھا ۔ تقریب میں مہمانوں کی تواضع جرمن ڈشز سے کی گئی تھی۔ مہوش خان برلن جرمنی

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے