finalishtihaartop.jpg

This Page has 64610viewers.

Today Date is: 24-05-19Today is Friday

حکومت ایڈز کی روک تھام کے بجائے صرف تشخیص میں مصروف

  • منگل

  • 2019-05-14

نوابشاہ(مرید شبرانی) سندھ کے مختلف شہروں میں ایچ آئی وی ایڈز کی تشخیص کے پیش نظر قائم کیمپس مرض کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پانے کے بجائے عوام میں بے چینی، ذہنی دباؤ اور پریشانی کا سبب بن رہے ہیں، جب کہ حکومت مرض کی روک تھام کے بجائے مرض کے تشخیص میں مصروف ہے۔ سندھ بھر میں ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، سندھ بھر سے ساڑھے 10 ہزار ایچ آئی وی ایڈز میں مبتلا رجسٹرڈ مریضوں کے علاوہ سندھ میں ہزاروں کیسز غیر رجسٹرڈہیں، ایچ آئی وی ایڈز کی تشخیص کیلیے سندھ حکومت اور سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت سندھ کے ان شہروں جہاں کیسز زیادہ ہیں تشخیصی کیمپس قائم کردیے گئے جہاں روزانہ کی بنیاد پر عام ڈاکٹر عوام کے ٹیسٹ کرتے ہیں اور ان میں ایچ آئی وی وائرس کی تشخیص کرتے ہیں جس کے بعد ان شہروں میں قابل ڈاکٹر نہ ہونے اور علاج کے طریقہ کار سے لاعلم ہونے کی وجہ سے عوام علاج کے لیے کراچی کا رخ کرتے ہیں جو غریب عوام کے لیے پریشانی کا سبب بنتا ہے۔ مزید تفصیلات کچھ اس طرح ہیں کہ صوبہ سندھ کے علاقے رتو ڈیرو میں ایڈز کے سلسلے میں 12 دن میں 4656 سے زائد افراد کی اسکریننگ کی گئی، 3.9 فیصد افراد میں ایچ آئی وی وائرس نکل آیا جس کے بعد رتو ڈیرو میں ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی تعداد 186 تک جا پہنچی۔ اس حوالے سے ڈی جی ہیلتھ سروسز نے رپورٹ سندھ حکومت کو بھجوا دی ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسکریننگ کیمپ میں آئے3.9 فیصد افراد میں ایڈز کی تصدیق ہوئی ہے۔ رتو ڈیرو میں 108 مرد، 78 خواتین میں ایڈز کی تصدیق ہوئی، ایڈز کا شکار افراد میں 58 فیصد مرد، 42 فیصد خواتین شامل ہیں، رپورٹ کے مطابق ایڈز کا شکار 54.8 فیصد مریضوں کی عمریں 2 تا 5 سال ہیں، ایک سال سے کم عمر 13 بچوں میں ایڈز کی تصدیق بھی ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں 2 تا 5 سال کے 102 بچوں میں، 6 تا 15 سال کے 39 بچوں میں جبکہ 15 تا 45 سال کے 31 افراد میں ایڈز کی تصدیق ہوئی ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 46 سال کے ایک فرد میں ایڈز کی تصدیق ہو چکی ہے، ایڈز کا شکار افراد کے عزیز و اقارب کی اسکریننگ بھی جاری ہے۔...

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے