bannerdlt2020.jpg

This Page has 208293viewers.

Today Date is: 15-07-20Today is Wednesday

سرکاری تعلیمی اداروں میں بھی طالبات کے ساتھ جنسی ہراسانی کے واقعات میں خوفناک حد تک اضافہ

  • جمعرات

  • 2020-02-13

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ سرکاری تعلیمی اداروں میں بھی جنسی ہراسانی کے واقعات میں خوفناک حد تک اضافہ ہوگیاہے۔کچھ اساتذہ اپنے شعبے کا تقدس بھی بھول گئے ہیں اور اپنی طالبات کو ہراساں کرکے ایک مقدس رشتے کو پامال کرنے لگے ہیں۔ ایسی ہی ایک حرکت روالپنڈی کی ایک سرکاری یونیورسٹی کے استاد نے اپنی طالبہ کے ساتھ کی ہے۔ طالبہ کا کہنا ہے کہ اس کا ٹیچر اسے رات گئے تک فون اور میسج کرکے دوستی کیلئے دباو ڈالتا رہا ہے لیکن اس نے مثبت جواب نہیں دیا تو استاد نے اسے امتحانات میں انتہائی برے نمبر دے دیئے ہیں۔ ضرور پڑھیں: لاہورہائیکورٹ،ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہیں بڑھانے کے ترمیمی قانون کی منظوری کی درخواست مسترد روزنامہ جنگ میں لکھے اپنے کالم سینئر صحافی انصار عباسی نے اس انتہائی اہم موضوع پر قلم اٹھایا ہے اور اساتذہ کے روپ میں چھپے جانوروں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے۔ انصار عباسی لکھتے ہیں کہ ”ہمارے معاشرے میں خواتین کی تعلیم پر تو بڑا زور ہے لیکن قوم کی بچیوں کے ساتھ تعلیمی اداروں میں جو ہوتا ہے، اس بارے میں ایک حالیہ میڈیا رپورٹ پڑھ کر بہت دکھ ہوا۔‘ انہوں نے کہا’معاشرے کی تنزلی اس حالت کو پہنچ چکی ہے کہ کالجوں، یونیورسٹیوں میں پڑھنے والی بچیاں مرد اساتذہ تک کے ہاتھوں محفوظ نہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی ایک این جی او نے اپریل 2018 میں ایسی خواتین جنہیں ورک پلیس (Workplace) پہ ہراساں کیا جاتا ہے، کے لیے ایک ہیلپ لائن شروع کی۔ اس این جی او کو تقریباً 21ہزار شکایتیں موصول ہوئیں جن میں سے 17ہزار شکایتیں مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والی طالبات کی طرف سے درج کروائی گئیں۔ نجی تعلیمی اداروں کے برعکس سرکاری جامعات کی طالبات کی طرف سے یہ شکایات زیادہ موصول ہوئیں۔ جب ان میں سے کئی طالبات کی طرف سے اپنی اپنی جامعہ کی انتظامیہ سے شکایت کی گئی کہ انہیں مرد اساتذہ کی طرف سے جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے تو اس سلسلے میں انتظامیہ کی طرف سے بنائی گئی انکوائری کمیٹی کے اراکین میں بھی استاد کی روپ میں ایسے بھیڑیے شامل تھے جنہوں نے طالبات کی مدد کے بجائے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا۔‘ انصار عباسی لکھتے ہیں کہ ’رپورٹ میں ایک طالبہ کا انٹرویو بھی شامل تھا جس کا کہنا تھا کہ بچپن سے اسے بتایا گیا تھا کہ استاد والدین کی طرح ہوتے ہیں، اس لیے ان کا احترام کیا جانا چاہیے۔ طالبہ کا کہنا تھا کہ جب اس نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو اسے استاد کا وہ مکروہ چہرہ نظر آیا جو اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ راولپنڈی کی ایک اہم سرکاری درسگاہ سے تعلق رکھنے والی اس طالبہ نے بتایا کہ اس کا استاد اس پر دباﺅ ڈالتا رہا کہ وہ اس سے دوستی کرے،وہ طالبہ کو رات گئے فون کرتا اور میسج بھیجتا لیکن جب اس نے کوئی مثبت جواب نہ دیا تو اسے امتحان میں ڈی گریڈ دے دیا (یعنی برے نمبر دیے)۔‘ انصار عباسی لکھتے ہیں کہ ’طالبہ نے بتایا کہ وہ اکیلی نہیں بلکہ اس جیسی کئی دوسری بچیاں بھی ہیں جنہیں مرد اساتذہ کی طرف سے ہراساں کیا جاتا ہے۔ ایک اور طالبہ کا کہنا تھا کہ عمومی طور پر یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے ایسے واقعات کے لیے بنائی گئی انکوائری کمیٹیاں اساتذہ کے حق میں ہی رپورٹ دیتی ہیں جس کا مقصد تعلیمی ادارے کو بدنامی سے بچانا ہوتا ہے۔‘

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے