finalishtihaartop.jpg

This Page has 64618viewers.

Today Date is: 24-05-19Today is Friday

اسلامى صدارتى نظام تحریر :ایڈووکیٹ سعدىۂ ہما شیخ

  • ہفتہ

  • 2019-04-20

اس وقت زبان زد عام هے که پاکستان کے لئے پارلیمانی نظام بہتر ہے یا صدارتى اور عه لوگ بھى اس بحث مىں شامل ہیں جنهیں معلوم بھى نہیں کہ صدارتى اور جمھورى نظام هوتا کیا هے حالانکہ یہ ایک فضول بحث ہے پاکستان جیسے ترقی پذىر ملک میں جهاں غربت جهالت اور بےروزگاری جیسے مسائل بڑھتے جا رهے هىں جهاں لوگ ووٹ معیار کو نہیں شخصىات کو دیتے ہیں جهاں لوگ وقتى مفاد پ اپنا داىمى مفاد قربان کر دىتے هیں جهاں باقاعده ووٹ کى بولى لگتى ہے اىسے ملک مىں جهاں عوام با شعور هى نهىں وهاں جمھورى نظام کسى طرح بھى مناسب نهىں اور سب سے بڑى بات اسلام بھى اس نظام کى حماىت نہیں کرتا اىک آواز یہ بھی اٹھ رهى هے کہ ہمارى بقا صرف جمھوریت میں ہے صدارتی نظام فلاپ کو جائے گا اور ملک مزید پیچھے آ جائے گا ان کے لئے عرض ہے کہ اس وقت دنیا کی سپر پاور امریکہ میں صدارتی نظام هى هے یہ جمھوریت کا طوق سوچى سمجھى اسکیم کے تحت همارے گلوں میں لٹکا دیا گیا ہے جس نے ایک عومى نمائندے منتخب وزیراعظم کے هاتھ باندھ دىے هىں جو بے بس هے اور عوام کے لیے کچھ نہیں کر پا رہا کہ پر بل پارلیمنٹ نا منظور کر دىتى ہے اس وقت تمام اپوزیشنز حکومت کے خلاف اتحاد کر کہ اسے فلاپ کرنے جى کوششیں کر رهى ہے اور معاشى پالیسیوں کی ناکامى جى وجه سے عمران خان جو عوام کے دلوں کی دھڑکن تھا تئزى سے مهنگائ کے عفریت میں دبى عوام کے دلوں سے نکل رىا کے لوگ اپنے هئرو سے بد دل کو رهے هىں کیونکہ پس پرده حقائق سے عوام بےخبر هىں اب وقت هے نظام کى تبدیلی کا اور یہ تبدیلی صدارتی نظام سے ممکن هے صدارتى نظام حکومت ایک ایسا طرز حکومت ہے جس میں زیادہ تر اختیارات صدر کے پاس ہوتے ہیں اور صدر ملک کا سربراہ هوتا هے اسے اس جى مدت پورى کرنے سے پهلے اس کے منسب سے نۂىں ۂٹایا جا سکتا ملک کے نظم و نسق کا زمه دار صدر هوتا هے شومءى قسمت پاکستان میں دونوں نظام قائم هو چکے جو لوگ صدارتی نظام سے خوفزدہ ہیں انهوں نے اصل صدارتی نظام کا چهره نہیں دیکھا بلکہ مارشل لاء کے تحت صدر کو خود پر قابض هوتے دیکھا مگر اس کے باوجود اگر پاکستان کی تاریخ دیکھیں تو پر شخص کى ایک ہی راے هو گى کہ ملک کے ليے سب سے بهتر دور 1962 کا صدر ایوب کا رها جسے ترقی کے حوالے سے سنهرى دور کها جاتا هے جس مىں 1956 کا این منسوخ کر کہ1962 کا این دیا گیا جس کى رو سے انتظامی اختیارات ،مالیاتى اختیارات ،فوجى اختیارات ،عدالتى اختیارات ،اور مقننہ کے اختیارات صدر مملکت کے پاس تھے هنگامى اختیارات آرٹیکل نمبر 30 کے تحت صدر کو اختیار حاصل تھا کہ وه ملکى سالمیت کو برقرار رکھنے کے لئے تمام اختیارات اپنے هاتھ میں لے لے پاکستان کے خالق قائد اعظم اور اقبال مے بھىاسى نظام کو بهتر سمجھا هاں اقبال خلافت کے خلاف تھے اد وقت پاکستان کی معیشت خطرے میں ہے معاشى منصوبے ناکام کو رهے هىں اور ىهى دشمنوں کی چال ھے که عوامى نماىنده عوام کے جى هاتھوں خوار کو اور انهیں پھر سے لوٹ مار جى کھلى چھٹى مل جاے ملک برى طرح قرضوں میں جکڑا هوا هے موٹر وے سے لے کر تمام بڑے ادارے آى اىم اىف کے پاس گروى پڑے ہیں عوام مهنگاى سے تنگ هىں انهىں فورى ریلیف چاہیے بارڈر پر د شمن للکار رها هے اسے میں صدراتى نظام ناگزیر ہے موجوده نظام سے چھٹکارہ هى نجات دلا سکتا هے اور مرى راے میں اگر هم اپنى نسلوں کو اىک روشن پاکستان دینا چاہتے ہیں تو اسلامی صدارتی نظام کے علاوه همارے پاس کوى حل نہیں عمران خان کو فورى فىصله لئنا چاهىے کىونکه تمام بحرانوں کا اىک هى حل دکھاى دے رها هے اور وہ هے اسلامى صدارتی نظام

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے