finalishtihaartop.jpg

This Page has 104696viewers.

Today Date is: 18-09-19Today is Wednesday

جنگ ستمبر 1965ء کے معجزات

  • بدھ

  • 2019-08-21

قوموں کے عروج و زوال، سلطنتوں کے جنگ و جدل، نوح انسانی کے تمدنی حالات، معاشرتی انقلابات، علمی، فکری اور روحانی تحریکات و ترقیات سےتاریخ بھری پڑی ہے۔جب 27 رمضان مبارک کو ایک نئی مسلم سلطنت برصغیر پاک میں معرض وجود میں آئی جو خالصاً اسلام کے نام پر بنی تھی۔ تاریخ گواہ ہے اس اسلامی ملک پاکستان کو اسرائیل اور بھارت نے دل سے تسلیم ہی نہیں کیا۔ ستمبر1965کو جب اچانک ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کر دیا17 دن کی جنگ میں پاکستان نے اسکا غرور خاک میں ملا دیا۔ اس جنگ میں کیچھ ایسے روحانی واقعات رونما ہوئے جن میں سے ایک اہم واقعہ کو میں یہاں بیان کر نے کی جسارت کر رہا ہوں۔ 1965ء کی جنگ ختم ہونے کے چند ماہ بعد مدینہ منورہ میں ایک عمر رسیدہ پاکستانی خاموش بیٹھاآنسو بہاتے ہوئے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھے جا رہا تھا۔ یہ پاکستانی 11 ستمبر 1965ءکو سیالکوٹ پہلورا محاذ پر شہید ہونے والے کوئٹہ انفنٹری سکول کے انسٹرکٹر میجر ضیاءالدین عباسی کے والد گرامی تھے۔ میجر ضیاء الدین عباسی(ستارہ جرات) کے ٹینک کو دشمن کی توپ کا گولہ لگا جس سے وہ شہید ہو گئے۔جب صدر ایوب کی طرف سے میجر عباسی شہید کے والد اپنے شہید بیٹے کو بعد از شہادت ملنے والا ستارہ جرات وصول کررہے تھے تو ایوب خان نے ان سے ان کی کوئی خواہش پوچھی، تو انہوں نے عمرہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا جسے ایوب خان نے قبول کر لیا۔میجر ضیاء الدین عباسی شہید کے والد جب روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھے آنسو بہا رہے تھے تو خادم مسجد نبوی وہاں تشریف لائے اور وہاں بیٹھے ہوئے لوگوں سے پوچھا کہ آپ میں سے پاکستان سے کون آیا ہے۔میجر ضیاء الدین عباسی شہید کے والد نے خادم مسجد کے استفسار پر کہا کہ وہ پاکستان سے آئے ہیں۔خادم مسجد نبوی ﷺ نے ان سے پوچھا کہ پاکستانی فوج کے میجر ضیاء الدین عباسی شہید کا نام آپ نے سنا ہے ان کو آپ جانتے ہیں؟ اس پر شہید کے والد نے حیرت سے کہا وہ ہی اس شہید کے والد ہیں۔ یہ سنتے ہی خوشی اور مسرت سے لبریز خادم خاص نے آگے بڑھ کر زور سے انہیں گلے لگا لیا اور ان کے بوسے لیتے ہوئے کہا کہ آپ یہی رکیں میں کیچھ دیر بعد آتا ہوں۔وہ میجر ضیاء الدین عباسی شہید کو اپنے گھر لیے گئے جہاں انہیں بڑی عزت اور احترم کے ساتھ اپنے اہل و عیال کے ساتھ کھانا کھلایا۔ سب گھر والے ان کے ساتھ بڑی عزت و احترام کے ساتھ پیش آ رہے تھے۔میجر ضیاء الدین عباسی شہید کے والد بہت حیران تھے کہ یا الہی یہ کیا ماجرا ہے؟ میں تو انہیں جانتا بھی نہیں بلکہ زندگی میں پہلی بارمیرا سعودی عرب آنا ہوا ہے۔ اس شش و پنج میں تھے کہ خادم خاص رسول اللہﷺ نے ان کے ہاتھوں کے ایک بار پھر سے بوسے لیے اور شہید عباسی کے والد کی حیرانگی دور کرتے ہوئے کہنے لگے کہ جب پاکستان اور ہندوستان کی جنگ ہو رہی تھی تو ۱۱ ستمبر کی رات میں نے خواب میں رسول اللہﷺ کو دیکھاکہ وہ اپنے جلیل القدر صحابہ رضوان اللہ تعالی اجمعین کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں کیچھ لمحوں بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ اپنے ہاتھوں میں ایک لاشہ اٹھائے ہوئے وہاں تشریف لاتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ شہید عباسی اس طرح بہادری سے کفار کے خلاف جنگ لڑے ہیں جیسے آپ میرے ساتھ غزوات میں کفار کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔خادم مسجد نیوی کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سمیت سب نے انکی نماز جنازہ ادا کی اور حکم دیا کہ انہیں جنت بقع میں دفن کر دیا جائے۔ عین اسی دن ریڈیو پاکستان پر ایک نیا جنگی ترانہ گونج رہا تھا۔۔۔ چلے جو ہوگے شہادت کا جام پی کر تم۔۔۔۔۔رسول پاک ﷺ نے بانہوں میں لیا ہو گا۔۔۔۔۔علی تماری شہادت پر جھومتے ہونگے۔۔۔۔۔حسین پاک نے ارشاد یہ کیا ہو گا۔۔۔۔۔ اے راہ حق کے شہدو تمیں خدا کی رضائیں سلام کہتی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے