imageshad.jpg

This Page has 13822viewers.

Today Date is: 17-12-18Today is Monday

شانگلہ کی سیاسی ڈائری:نوید احمد داموڑئی سے تحریر :نوید احمد شانگلہ

  • بدھ

  • 2018-04-18

سیاسی لحاظ سے زرخیز اور مشیروں کا مسکن ضلع شانگلہ میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہونے لگے ہیں مشیروں کا مسکن ضلع شانگلہ میں سیاسی موسم گرم ترین ہوگیا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کے سابق مشیر انجینئر امیر مقام اور عمران خان کے سابق مشیر شوکت علی یوسفزئی کے مابین سیاسی رسہ کشی جاری،وزیراعلٰی پرویز خٹک کے سابق مشیرحاجی عبدالمنعم بھی سرگرم دکھائی دے رہے ہیں،منتخب نمائندگان،حکومت میں شامل پارٹیوں کے علاوہ دوسرے سیاستدان بھی عوامی نمائندے بن گئے۔پرانے چہروں کے ساتھ ساتھ نئے چہرے بھی میدان میں آگئے ہیں اور متوقع امیدوار ووٹروں کے ساتھ تپاک سے ملنے لگیں،خوشی غمی تقریبات میں موجودگی یقینی بن گئی سوشل میڈیا پر بھی الیکشن کمپین شروع ہوگیا ہے۔سیاسی جلوس،جلسے،کارنرمیٹنگز تیز ہوگئے سیاسی رہنما کارکنوں کو اپنی جماعت میں شمولیت کیلئے سرگرمیاں عروج پر ہیں۔پارٹی ٹکٹوں کی دوڑ بھی شروع ہوگئی۔مرکز اور صوبائی حکومت کے منتخب ممبران یا حکومت میں شامل لوگ اپنے منظور یا مکمل کئے گئے منصوبوں اور مخالف جماعتیں تنقید کے ذریعے الیکشن کمپین شروع کرچکی ہیں اور آنے والا 2018کی الیکشن کیلئے بھر پور تیاریوں اور کمپین شروع کر رکھا ہے۔2018کا جنرل الیکشن شانگلہ کی تاریخ کا کانٹہ دار الیکشن تصور کیا جارہاہے اس الیکشن میں شانگلہ سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے برج پنجہ آزمائی کریں گے آنے والے جنرل انتخابات کونسی پارٹی جیتتی ہے اس کیلئے شانگلہ کے عوام کو سوچ سمجھ کر بالغ نظری کا مظاہر ہ کرنا ہوگا۔ 2018کا جنرل الیکشن شانگلہ کی تاریخ کا اہم ترین اور کانٹہ دار الیکشن اسلیئے تصور کیا جاتا ہے کہ اس وقت وزیر اعظم شاہد خاقان کے سیاسی مشیر اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے مشیر صوبائی صدر پاکستان مسلم لیگ ن کے پی کے اور وزیر اعلٰی کے امیدوار انجینئر امیرمقام،عمران خان کے دست راست اور بانی رہنما پی ٹی آئی سابق مشیر سیاسی امور عمران خان موجودہ ایم پی اے فوکل پرسن میگا پراجیکٹ شوکت یوسفزئی،وزیراعلٰی کے سابق مشیر سیاحت عبدالمنعم،مولانا فضل الرحمان کے دست راست ڈپٹی جنرل سیکرٹری جے یو آئی کے پی کے سابق سنیٹر مولانا راحت حسین،موجودہ ایم این اے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر برائے اقتصادی راہ داری ترقی منصوبہ بندی ڈاکٹر عباد اللہ،فصدر ملاکنڈ ڈویژن پیپلز پارٹی سابق ایم پی اے ڈاکٹر افسرالملک،موجودہ ایم پی اے نائب صدر پی ایم ایل این و چیئر مین سٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ و قبائلی امور محمد رشاد خان،اے این پی کے حاجی سدید الرحمان جیسے سیاستدانوں کا تعلق شانگلہ سے ہیں اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے رہنما وقار خان اور نوازمحمود خان،اے این پی کے متوکل خان،پی پی پی کے انجینئر حامد اقبال خان، حاجی فضل اللہ سابق ایم پی اے، جماعت اسلامی کے نجم اللہ،واقف شاہ ایڈوکیٹ،جے آئی کے محمد یار،محمد زاہد الوچ،شیر عالم سابق امیدوار پی کے 88،قومی وطن پارٹی کے ڈاکٹر سجاد خان،عوامی ورکرز پارٹی کے عمرزادہ، اے این پی کے فیصل زیب،پی پی پی کے زید اللہ خان،ق لیگ کے فضل محمود خان ودیگر کافی متحرک نظر آرہے ہیں اور آئندہ انتخابات کیلئے مصروف عمل ہیں۔ اس کے ضلع بھر میں مختلیف پارٹیوں کی جانب سے شمولیتی پروگرامز جلسے منعقد کیے جارہے ہیں اور حال ہی میں جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر و صدر متحدہ مجلس عمل مولانا فضل الرحمان نے الوچ میں تاریخی جلسہ کیا اسی طرح ہر پارٹی کی جانب سے جلسے منعقد کیے جارہے ہیں اور دیگر پارٹیوں کے مرکزی صوبائی قائدین بھی شانگلہ کے دورے کیلئے تیار ہوگئے ہیں کہا جارہا ہے کہ عمران خان مئی میں شانگلہ کا دورہ کریں گے اور شانگلہ میں مختلیف پراجیکٹ کا افتاح بھی کریں گے اسی طرح دوسرے دیگر پارٹیوں نے اپنے اپنے قائدین کو شانگلہ کے دورے کرنے کیئلئے تیاروں کاآغاز کیا ہوا ہے۔ 2018کا الیکشن شانگلہ میں تاریخی الیکشن ہوگا اس وقت دیکھنا ہوگاکہ اونٹ کس کروٹ بھیٹے گا یہ وقت ہی بتائے گا کہ آنے والے جنرل انتخابات میں تاج کس کے سر سجے گا۔شانگلہ کے عوام کو چاہیے کہ وہ ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو عوام کی صحیح معنوں میں خدمت کرسکیں اور یا اپنے سیاسی رہنماؤں سے مزید بہتری کا مطالبہ کریں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نوید احمد شانگلہ؛0334932184

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے