imageshad.jpg

This Page has 13797viewers.

Today Date is: 17-12-18Today is Monday

ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور نیا پاکستان : تحریر جاوید محرم گھلو

  • جمعہ

  • 2018-08-17

ڈاکٹر عافیہ صدیقی: گزشتہ انتخابات جیتنے کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف نے تیسری بار حلف لینے کے بعد جب کراچی آئے تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی والدہ اور بچوں کو گورنر ہاﺅس بلوایا اور ان سے وعدہ کیا کہ اب وہ پریشان نہ ہوں، ڈاکٹر عافیہ صدیقی قوم کی بیٹی ہے اور اس کی بیٹی مریم، میری بیٹی مریم کی طرح مجھے عزیز ہے۔ اب میں ہی امریکہ سے سو (100) دنوں کے اندر عافیہ کو واپس لاﺅنگا۔ ۔۔۔وہ سو (100)توکیا ایک ہزار سے بھی زیادہ دن گذر گئے لیکن ان کو اپنا کیا ہوا وعدہ یاد نہ رہا۔ وقت کی طرح حالات بڑی تیزی سے گذرتے اور بدلتے ہیں۔ وہ سابق وزیراعظم،اب نااہل وزیر اعظم بن چکا ہے اوراس کے بعد بھی آج جن کیفیات سے وہ، اس کی مریم سمیت پورا گھرانہ گذر رہا ہے ان سے زیادہ بہتر انداز میں کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے۔ صرف ایک جملہ عوام کے احساس کی ترجمانی کیلئے کافی ہے اور وہ یہ ہے کہ نواز شریف، کاش کہ عافیہ کو وطن واپس لانے کا وعدہ پوراکیا ہوتا۔۔۔۔۔ بحرحال وقت گذر گیا اور اب نئے انتخابات بھی مکمل ہو گئے ہیں ہر سیاسی جماعت کامیابی کے حصول کیلئے سرگرم عمل رہی ہے۔ ماضی میں حکمرانی کرنے والی جماعتوں اور ان کا ساتھ دینے والی دیگر سیاسی، مذہبی جماعتیں ہر طرح سے 25جولائی کیلئے تن من دھن سے تیاریاں کی تھیں ان کے اس عمل میں ذرائع ابلاغ میں اپنا کردار ادا کیا ہےان حالات میں ملک کی حفاظت سرانجام دینی والی قوتوں نے بھی اپنے فرائض احسن انداز میں نبھائے ملک کی دشمن قووتیں بھی پوری صورتحال پر نظریں جمائی ہوئی تھیں۔ وہ جب بھی اور جہاں بھی اپنی کاروائیوں کیلئے موقع پاتے ہیں، وہ کر گذرتے ہیں۔ پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے جلسے میں دھماکہ بھی اس کی اک کڑی ہے۔ اس سانخے میں ہارون بلور سمیت دیگر متعددشہری شہید اور زخمی ہوئے۔ تاہم آفرین ہے شہداءکے اہل خانہ پر، ان کے ساتھ اس جماعت سمیت دیگر تمام جماعتوں کے کارکنان پر اور اس سے بھی بڑھ کر پوری عوام پر کہ جو دہشت گردوں کے خلاف اس سانخے کے باوجود ذرا بھی ڈرے نہیں۔ جو اب تلک باہمت ہیں اور باہمت رہیں گے۔ انہوں نے اب تک دہشت گردوں کا مقابلہ کیا ہے اور ان مقابلوں میں سرخروئی حاصل کی ہے، یہی کامیابی اسی جنون و جذبے کے ساتھ انہیں مستقبل میں بھی حاصل ہوگی۔ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی اسی قوم کی بہادر بیٹی ہے، وہ قید ضرور ہے لیکن اس کی قید کسی بھی جرم کی وجہ سے نہیں ہوئی ہے۔ اسے تو امریکی سپاہیوں نے اپنے طور پر شہید کردیا تھا لیکن آفرین ہے، اس پر جو آج بھی بے باکی کے ساتھ کھڑی ہے۔ جس نے ایک بار امریکیوں سے معافی نہیںمانگی اور نہ ہی ان کے کسی حکم کو پورا کیا ہے۔ وہ تو ایک بار نہیں متعددبار امریکی شہریت کی رد کرچکی ہیں لیکن وہ قید ناحق ہیں اور ناکردہ گناہوں کی سزاوہ برسوں سے بھگت رہی ہیں اور اگر اس کی رہائی کیلئے حکومت پاکستان نے کچھ نہیں کیا تو یہ قید وہ مزید برسوں سے بھگتے گی۔ اس کی اب تلک کے قید کے ذمہ دار حکومت ہے۔ نواز شریف جیسے وزیر اعظم جو وعدہ کرکے پورا نہیں کرتے اور عافیہ کو بھول جاتے ہیں اور پھر سابق امریکی صدر اوبامہ کی جانب سے مواقعوں سے بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جاتا ہے۔ اوبامہ تو چلا گیا اور نواز شریف کو بھیج دیا گیا ہے، اب جبکہ نئی حکومت بننے کیلئے انتخابات ہو گئے ہیں، عمران خان انتخابات جیت چکا ہے اور تنہا یا دیگر جماعتوں کے ساتھ حکومت بنارہا ہے ان کے سامنے قوم کی بیٹی کی واپسی کا سوال موجود ہے۔ ہاں عافیہ منتظر ہے، اس کی والدہ عصمت صدیقی منتظر ہے، احمد اور مریم منتظر ہیں، ان سمیت پوری قوم منتظر ہے۔ سابقہ وعدے ختم ہوئے سابق لوگ بھی چلے گئے لیکن عافیہ ابھی تلک وہیں پر ہے وہ اب بھی منتظر ہے، آزاد فضا میں آنے کیلئے، وطن عزیز پاکستان میں شہر قائد میں آنے کیلئے منتظر ہے۔ ہاں عافیہ کی رہائی کی امید اب بھی باقی ہے۔۔۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائش گاہ شہرقائد کے گلشن اقبال کے بلاک 7میں ہے اور یہ وہ قومی اسمبلی کا حلقہ 243کاہے۔ اس حلقے سے 15امیدواران مقابلے میں شریک تھے ان امیدواروں میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کامیاب ہوئے ہیں جبکہ دیگر اراکین مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی، متحدہ مجلس عمل، ملی مسلم لیگ، متحدہ قومی موومنٹ، سرزمین پارٹی اور تحریک لبیک سمیت متعددآزادامیدوار تھے انتخابات میں مختلف حلقے اہمیت کے حامل ہوجایاکرتے ہیں اسی وجہ سے وہاں کے نتائج پر سبھی کی نظریں مرکوز رہتی ہیں اور بے چینی سے نتائج کا انتظار کیا جاتاہے۔ قوم کی بیٹی کی رہائش گاہ کی اہمیت کے سبب اس حلقے کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ عمران خان ہی وہ رہنما ہیں جنہوں نے برطانوی صحافی ایوان ریڈلے جو کہ قبول اسلام کے بعد مریم ریڈلےبن چکی ہیںان کے ہمراہ پریس کانفرنس کی تھی اور اس میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا افغانستان میں قید کی خبریں آئی تھیں۔ عمران خان نے عافیہ کے معاملے پر ہمیشہ بات کی ہے اور اس کی باعزت رہائی کاوشیں کی ہیں۔ اپنے دھرنوں کے خطابات سمیت دیگر جلسوں اور ٹی وی پروگرامات میں بھی قوم کی بیٹی کی جلد باعزت رہائی پر بات کی ہے۔ حال ہی میں نجی ٹی چینل کو انٹریو میں بھی انہوں نے یہ کہا تھا کہ حکومت میں آنے کے بعد صرف عافیہ ہی نہیں اور بھی وہ ہم وطن جو دیگر ممالک میں قید ہیں ان کی بھی واپسی کیلئے وہ اقدامات کریں گے۔ حتی کہ تحریک انصاف نے اپنے منشور تک میں عافیہ کی باعزت رہائی کو عوام کے سامنے رکھ دیا ہے۔ ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف علاوہ دیگر جماعتوں کو عافیہ کی رہائی عزیز ہے اور وہ سبھی یہ جانتے ہیں کہ اس حلقے میں چونکہ عافیہ کی رہائش گا ہے اور عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی بھی ہیں جوکہ بہن کی رہائی کیلئے عافیہ موومنٹ برپا کیئے ہوئی ہیں۔ لہذا اس حلقے کی عوام کی حمایت حاصل کرنے کیلئے یہ ازحد ضروری ہوگا کہ عافیہ کی رہائی کی نہ صرف بات کی جائے بلکہ منتخب ہوجانے کے بعد اسے کی رہائی کیلئے ٹھوس اقدامات بھی کئے جائیں۔ لہذاعافیہ موومنٹ کے کارکنان ہوں یا عام عوام سب کو اور سبھی کو اپنی سطح پر کاوشیں جاری رکھی چاہئیں اور مایوسی کو اپنے پاس پنپنے نہیں دینا چاہئے۔ انہیں امید رکھی چاہئے کہ بننے والی حکومت ا عمران خان کی ہے عافیہ کی رہائی کو ترجیح دے گی اور اس ضمن میں حقیقی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ عمران خان، شہلاءرضا، مزمل اقبال ہاشمی، مزمل قریشی، خواجہ اظہار الحسن، اسامہ رضی، کامران رضوی، علی رضاعابدی و دیگربقیہ امیدوران کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ آپ جس حلقے سے انتخاب لڑا ہے اس پر نظریں صرف اس حلقے کی عوام کی نہیں، شہر قائد کی عوام کی بھی نہیں، پورے ملک سے بڑھ دنیا بھر کی کی عوام کی ہیں لہذا عافیہ کو واپس لانا ہے اور یہ پہلا کام کرنا ہے۔ صرف وعدہ نہ کرنا اور وعدہ کرکے بھول بھی نہ جانا بلکہ نواز شریف کو یاد رکھنا کہ جس نے وعدے کر کے بھلا دیا اور پھر اس کے جو کچھ ہوا سب بھی۔ لہذا عافیہ کو لانا ہے اور اس ضمن میں کیا گیا وعدہ اس کو پورا کرنا ہے، اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھنا کہ وقت اور حالات بہت تیزی سے گذرتا اور بدلتا ہے۔۔۔

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے