imageshad.jpg

This Page has 11883viewers.

Today Date is: 10-12-18Today is Monday

عرضِ صبا۔۔صباممتاز بانو دروازہ۔

  • اتوار

  • 2018-09-09

عرضِ صبا۔۔صباممتاز بانو دروازہ۔ ایک دن بحث چھڑی موت حقیقت کیا ہے۔؟ کچھ نے دیوار کہا کچھ نے کہادروازہ۔۔۔۔ شعری دنیا میں کھنکتی خاک احمد ساقی صاحب کا پہلا قدم تھا۔ لیکن یہ پہلا قدم بھرپور علمی بصیرت کا حامل تھا یہی وجہ ہے کہ ان کے مزید شعری کلام کی جستجو ان کے مداحوں میں بڑھی۔ کھنکتی خاک میں انہوں نے انسان اور فطرت کی ہمدمی کوموجود اور غیر موجود کے ساتھ ہم آہنگ کرکے پیش کیا۔ان کی شعری دنیا میں صرف تخلیقی اُپج ہی نہیں پائی جاتی بلکہ صلاحیت کے موتی ذہانت کی لڑی میں پروئے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کا تجربہ ان کے اشعار میں عملیت کی چھاپ کو گہرا کردیتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری پڑھنے والوں کو ایک لطیف مگر حقیقی احساس بحشتی ہے۔ دروازہ ، ان کا دوسرا شعری مجموعہ ہے جس نے پڑھنے والوں کو صرف متاثر ہی نہیں کیا۔ ان کو اپنے حصار میں مقید کرلیا ہے۔ دروازہ، باہر کے موسموں کا احوال نہیں، یہ اندر کے موسموں کی کتھا ہے جسے پڑھ کر ہم خود کو کسی اجنبی دنیا میں نہیں پاتے بلکہ اپنے ہی اندر کی کیفیات کا ادراک حاصل کرتے ہیں اور اپنی اندر کی کئی ان جانی کائناتوں کی دریافت کرتے ہیں جنہیں ہم ماننے سے انکاری ہو تے ہیں یا پھر ہم ان سے قطعی انجان ہوتے ہیں۔ جب بھی میں تیری حقیقت کا طلب گا ر ہوا۔ میرے اند ر سے تیرا عکس نمودار ہوا۔ دروازہ، اپنے موجودا ور عصر سے کلام کرتی ہے۔ اس کلام میں وہ تصوراتی دنیا کو ہی اپنا محور نہیں بناتی بلکہ تجربے کے بل بوتے پر ہمیں زمینی حقائق سے روشناس کراتی ہے۔ احمد ساقی صاحب اپنی عمر کے جس حصے میں ہیں۔ اس میں شاعر ان دیکھی دنیا سے زیادہ اپنی دیکھی بھالی دنیا میں زیادہ سفر کرتا ہے اور وہ حیرت اور استعجاب سے زیادہ تجزیے کو فوقیت دیتا ہے۔ کسی تخلیق کا اپنے ماحول اور زمین سے کٹ کر ہونا اس کے اچھے ہو نے کی نشانی نہیں۔آفاقیت زمین کے ساتھ جڑے رہنے میں ہے، اس سے الگ ہو نے میں نہیں۔زمین میں رہہ کر ایک انسان کا اس کی اخلاقی قدروں، آپسی رویوں، سب سے بڑھ کر یہ کہ عالمی تبدیلیوں سے کٹ جانا یا بے نیاز ہو کر رہہ جانا ممکن نہیں۔ ساقی صاحب کا ہاں یہ شعور ہمیں بجا طور پر نظر آتا ہے۔ وہ درد کی پکار پر نہ صرف شعر تخلیق کرتے ہیں بلکہ اس درد میں قاری کو بھی بہا لے جاتے ہیں۔ جس اذیت سے اٹھائے ہیں جنازے ہم نے۔ اس سے بہتر تھا کہ ہم لوگ بھی مارے جاتے۔ اس شعر کو ہی دیکھ لیجیے، ماتم کی کیفیت کس طرح سے انسان کے پورے جسم میں حلول کرتی ہے اور اسے بھی موت سے ہم کنار ہونے پر آمادہ کرتی ہے۔ اس شعرمیں ؎ کسی بھی اپنے کی موت کو دیکھنے اورا سے بے بسی سے قبر میں اتارنے والے کی حالت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔پھر اس نوحے سے ابھرنے والی تمنا کی غمازی بھی اس شعر میں خوب کی گئی ہے۔ احمد ساقی صاحب بلند پایہ شاعر ہیں۔ وہ حرفوں کو جوڑتے نہیں، ان کو صداقت کا رنگ دیتے ہیں۔ اس لیے کہ انسانی زیست کی غالب سچائی انسان کی انسان سے محبت اور اس سے تعلق ہے۔ اس تعلق میں کئی رنگ ہو سکتے ہیں جن پر یقینا مختلف ادوار اثر انداز ہوتے ہیں۔ لیکن جو چیز سب سے زیادہ اہم ہے، وہ انسانوں کی باہمی یگانگت اور دوریاں ہیں۔ جن پر مختلف عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس کتا ب میں زیست کی کٹھنائیاں تجربے کی ڈھلانوں سے جاملتی ہیں اور پھر ایک خاص مقام پالیتی ہیں جسے احمد ساقی صاحب اپنی شاعری میں بیان کرتے ہیں۔ تجھے خبر نہیں، میں نے تیری محبت میں۔۔۔ دل ونگاہ کی کچھ بازیاں بھی ہاری ہیں۔ یہ سفر شعری محبت سے ہم کلامی ہے جس کی آرزو ہر انسان کے دل میں ہوتی ہے۔ کچھ کو شرف قبولیت حاصل ہو جاتی ہے اور کچھ عمر بھر اس سفر میں بھٹکتے رہہ جاتے ہیں۔ آداب عشق اور معاملات محبت میں وہ بہت محتاط اور حساس نظر آتے ہیں۔ بنت حوا جو نہ ہوتی تو یہ ابن آدم۔۔ آب ودانے پر فقط کیسے گزاراکرتا۔ اس شعر میں عورت ذات کی اہمیت کو مرد کی ضرورت کے ساتھ جوڑ کر اتنی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے کہ بے اختیار داد نکلتی ہے۔۔ عربی زبان سے انہیں خاص نسبت ہے۔ اس لیے یہاں عربی بحور اور اوزان کے تجربے جابجا نظر آتے ہیں جو شعروں کا ایک خاص حسن عطا کرتے ہیں۔ انہوں نے اگرچہ کھنکتی خاک کی نسبت دروازہ میں اس نعمت کو کم کم استعمال کیا ہے مگر جہاں بھی استعمال کیا ہے۔ شگفتہ روایت کے ساتھ اسے برتا ہے۔ یہی ایک اچھے شاعر کا کمال ہو تا ہے۔ ہم کبھی آگ تھے جو بجھ کے ہوئے راکھ کی مانند۔۔وقت کے آگے پڑے ہیں خس و خاشاک کی مانند۔ خلعت فقر کا طالب ہو ں مگر خواہش دنیا۔۔۔ چپکی رہتی ہے بدن سے کسی پوشاک کی مانند یہ شعر ایک ایسے انسا ن کے دل کی آواز ہے جو کہ خواہشوں کی بستی سے دور نکل جانا چاہتا ہے۔ وہ فقر کے دروازے میں کھڑا ہے مگر اس کی ہستی دنیا داری کے جھنجالوں میں پھنسی پڑی ہے۔ یہاں وہ بے بسی کی ایک تصویر نظر آتا ہے جس وقت کے ہاتھوں ہار چکا ہے۔ مشہورادیب، شاعرا ورنقاد غلام حسین ساجد صاحب احمد ساقی صاحب کی شاعری پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”ان کے ہاں غزل معاملات زیست کی علامت بن گئی ہے۔ اس دروازے سے ہم کسی اجنبی دنیا میں داخل نہیں ہوتے بلکہ خود اپنے وجود کے ریگ زارمیں اترتے ہیں۔ ایک ایسا ریگ زار جس میں کہیں شدت گریہ سے نخلستان پھوٹ پڑتا ہے اور کہیں تبسم زیر لب سے مر غزار کھل اٹھتا ہے۔ دروازہ ایک ایسا تخلیقی دریچہ ہے کہ جس میں جھانک کر ہم اپنے موجود کی حقیقت کو بھی جان سکتے ہیں اور غیر موجود کے اسرار کو بھی۔ “ احمد ساقی صاحب کی شاعری ہمیں اس دروازے پر دستک دینے پر مجبور کرتی ہے جسے ہم نے بند کررکھا ہے۔ وہ محبت اور امن کا دروازہ ہے جس کی پکار پر ہم لپکتے نہیں جبکہ زیست کی خوشگواریت کا راز اور خوشی کااسرار اس دروازے کے اندر داخل ہو نے پر ہی ہم پاسکتے ہیں۔ ڈاکٹر ریاض مجید کہتے ہیں کہ ” احمد ساقی کی غزل آج کی غزل میں اپنا علیحدہ مقام رکھتی ہے۔ غزل کی کلاسیکی شائستگی اور شاعری کے رچے ہوئے شعور نے ان کے کلام میں ایک حیرت زدہ فضا پیدا کردی ہے۔ ان کے ہاں ایسی خوبصورت تماثیل ہیں جن میں مختلف حسوں کی آمیزش سے بامعنی تصویر کشی کی گئی ہے۔ احمد ساقی صاحب نے ہوش کے پیمانے میں جنون کی آمیزش کردی ہے۔“ ان کی شاعری میں انسان دوستی ایک مضبوط حوالہ بن کر سامنے آتی ہے۔ ان کی شاعری میں انسانیت سے بیزاری کی کوئی رمق نہیں پائی جاتی۔ وہ حقیقت کے ادراک کے ساتھ ہمارے سامنے نمودار ہوتے ہیں۔ وہ ماضی، حال اور مستقبل کی پرتوں کو ہمارے اذہان کا ایک حصہ بناتے ہیں۔ ان سے دامن چھڑانے کی روش ان کی شاعری میں نہیں ملتی۔ نہ ہی وہ کسی دل فریبی میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔ وہ انسان کو انسان سے جڑے رہنے کے درس کو شعری کیفیت میں ڈھال کر پیش کرتے ہیں۔احمد ساقی صاحب کی شاعری کے فنی محاسن بہت زیادہ ہیں۔ زبان کی ندرت بھی اس میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ شاعر کا اپنی زمین اوراس پر بسنے والوں انسانوں سے تعلق بہت بے ساختہ سا ہے۔ یہ فطری انداز میں ہمیں لبھاتا ہے اور ان کی شاعری کو کوئی ماورا سی چیز نہیں بناتا بلکہ ہم سب کے دل کی آواز بنا تا ہے۔ پہلے چپ چاپ مجھے تکتا رہا دروازہ جونہی میں جانے لگا، بول پڑا دروازہ اس شعر میں منزل کی حقیقت کو دروازے کے ساتھ جوڑ کر دیکھیے تو بہت سے معنی کھلیں گے۔ میں جہاں دستکیں دیتا رہا، دیوار تھی وہ اور جسے سمجھا تھا دیوار،وہ تھا دروازہ اس شعر میں ادراک کے معاملے میں خطا کے امکانات کی وضاحت کی کی گئی ہے۔کیا خوب بیان ہے۔ ضبط اتنا بھی مرے بس میں نہیں تھا احمد حبس جب حد سے بڑھا، توڑ دیا دروازہ احمد ساقی صاحب کی شاعری میں انسان کے جذبات کھنکتے ہیں۔ وہ اسے ایک ایسی دنیامیں لے جاتے ہیں جو اپنوں سے تعلق کو مضبوط کرتی ہے اور اسکا خواب دھرتی پر چلناآسان بنا دیتی ہے۔احمد ساقی صاحب کا تعلق شعبہ تعلیم کے ساتھ ہے۔ اساتذہ شاعر کے کلام میں پختگی کا پایا جاناان کے علم اور تجربے کا نچوڑ ہے۔ احمد ساقی صاحب ان خصوصیات سے مالامال ہیں۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے