imageshad.jpg

This Page has 11846viewers.

Today Date is: 10-12-18Today is Monday

سکھ مذہب کے بانی گرو نانک اورکرتار پور میں واقع گرود وارہ

  • جمعہ

  • 2018-11-30

( تحریر ،منور علی شاہد )سکھ مذہب کے بانی گرو نانک اورکرتار پور میں واقع گرود وارہ کرتار پور راہداری کا افتتاح آج کل پاکستان اور بھارت کے مابین سب سے اہم ترین خبر ہے ، جو نہ صرف دونوں ممالک کے باسیوں بلکہ دنیا بھرمیں پھیلے سکھ کمیونٹی کے افراد کے لئے انتہائی خوشی کا باعث بنی ہوئی ہے ۔کرتار پور میں واقع دربار گوردوارہ سکھوں کی عبادت کے لئے گزشتہ ستر برسوں سے بند ہے جس کی وجہ سے سکھ مذہبی رسوم و عبادت نہیں کر پا رہے تھے ماضی میں بھی اس کو کھولنے کی کوئی کوشش کامیاب نہ ہوسکی تھی ۔ بھارت سمیت دنیا بھر سے سکھ برادری پاکستان میں واقع اپنے دیگر مقدس مقامات کی زیارت توکرتے رہتے تھے جن میں ڈیرہ صاحب لاہور، پنجہ صاحب حسن ابدال اور جنم استھان ننکانہ صاحب شامل ہیں لیکن کرتار پور میں واقع اس مقدس ترین مقام میں عبادت کرنے سے محروم تھے حالانکہ یہ دونوں ممالک کی سرحدی علاقوں کے قریب ترین واقع ہے لیکن سیاسی کشیدگی کے باعث کسی بھی حکومت کو اس کو کھولنے کا موقع نہیں ملاتھاتاہم اب اچانک پاکستان کی حکومت کی طرف سے سکھ کمیونٹی کے اس مقدس ترین مذہبی عبادت گاہ کے کھولنے کے اعلان سے دنیا بھر کے سکھوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور دونوں ممالک میں امن کے پیامبر پاکستان کے اس فیصلے کو خطے میں امن کی راہ ہموار کرنے کی ایک بڑی کوشش قرار دے رہے ہیں،بھارت کی طرف سے بھی فوری مثبت ردعمل نے دونوں ممالک کے شہریوں کو ایک بار پھر امن کی امید دلا دی ہے۔کوئی نہیں جانتا تھا کہ نو منتخب وزیر اعظم عمران خاں کی حلف برداری کی تقریب میں بھارت سے شرکت کرنے والے سابق ٹیسٹ کرکٹر اور سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو کی پاکستانی آرمی چیف سے دوستانہ’’ جھپی‘‘ سے امن کی کرنیں پھوٹ پڑیں گی لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ نہ صرف اس خطے بلکہ دونوں ممالک کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ناگزیر ہے کیونکہ ایک ملک میں دہشت گردی نے منحوس قدم جما رکھے ہیں اور دوسرے میں غربت اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے اور دونوں ممالک ہی ایشیا کی واحد اایٹمی قوتیں بھی ہیں لیکن عدم اعتماد،سیاسی کشیدگی اور کشمیر میں بھارتی جارجیت کی وجہ سے امن کا قیام ایک دیرینہ خواب بن چکا ہے کرتار پور میں واقع گرودوارہ سکھوں کے لئے مقدس ترین عبادت گاہ ہے ، کہا جاتا ہے کہ سکھ مذہب کے بانی گرو نانانک دیو نے اپنی زندگی کا سب سے لمبا عرصہ جو اٹھارہ برسوں پر محیط تھا یہیں بسر کیا تھا اور یہیں وفات بھی پائی تھی۔ گرونانک دیو کی پیدائش پنجاب پاکستان کے شہر ننکانہ صاحب میں 15اپریل1469 میں ہوئی تھی آپ سکھ مذہب کے بانی اور دس سکھ گروؤں میں سب سے پہلے گرو تھے،ان کا یوم پیدائش گرو نانک گر پورب دنیا بھر میں ماہ اکتوبر، نومبر میں منایا جاتا ہے۔آج بابا گرونانک کو زمانے کے عظیم ترین مذہبی موجد تسلیم کیا جاتا ہے انہوں نے دور دراز کا سفر طے کرکے لوگوں تک خدا کے امن کے پیغام کو پہنچایا اور پھر ایک منفرد رنگ میں روحانی،سماجی اور سیاسی نظام کو تشکیل دیا جس کی بنیاد مساوات، بھائی چارے،نیکی اور حسن سیرت پر مبنی ہے۔گرو نانک دیو کے والد کا نام کلیان چند داس بیدی تھا جبکہ والدہ کا نام ماتا ترپتا تھا۔گرونانک کی ایک بڑی بہن بی بی نانکی تھی جو شادی کے بعد سلطان پور چلی گئیں تھیں،بہن سے محبت ہونے کی وجہ سے وہ بھی اپنی بہن کے پاس سلطان پورہ چلے گئے۔سکھ روایات کے مطابق گرونانک کی پیدائش کے وقت اور زندگی کے ابتدائی سالوں میں ایسے واقعات رونما ہوئے جن سے پتہ چلتا ہے کہ گورونانک کو خدا کے فضل اور رحمت سے نوازا گیا تھا،سوانح نگاروں کے مطابق پانچ برس کی عمر میں نانک کو مقدس پیغامات پر مشتمل آوازیں سنائی دینے لگی تھیں، سات برس کی عمر میں ان کو گاؤں کے ایک مدرسے میں داخل کردیا گیا تھا۔ کچھ روایات سے یہ بھی علم ہوتا ہے کہ کم عمرگرونانک نے حروف تہجی کے پہلے حرف ’’الف‘‘ جو حساب میں عدد 1 سے مشابہت رکھتا ہے، جس سے خدا کی واحدانیت یا یکتائی ظاہر ہوتی ہے مضمر رموز بیان کرکے اپنے اساتذہ کو حیران کردیا تھا۔گرونانک کی بجپن کی شندگی سے متعلق بہت سے روایات میں بھی حیرت انگیز واقعات اور معجزات کا ذکر ملتا ہے اور ان کی ابتدائی زندگی و سوانحی حیات کے ماخذات’’ جنم سکھی‘‘ کی صورت میں موجود ہیں اور ان کا کلام سکھوں کی مقدس کتاب ’’ گرنتھ صاحب‘‘ میں974 منظوم بھجنوں کی شکل میں موجود ہے سکھ مذہب کے عقائد کے مطابق ان کے بعد آنے والے 9 گروؤں کو جب یہ منصب عطا ہوا تو گرونانک کی کے تقدس اور مذہبی اختیارات کی روح ان میں ہر ایک میں حلول کر گئی تھی۔چوبیس ستمبر1487میں گرونانک کی شادی بٹالا میں ماتا سلکھنی سے ہوئی جس کے بطن سے دو بیٹے سری چند اور لکھمی چند پیدا ہوئے۔سکھ مذہب کی تخلیق کیسے ہوئی؟ اس بارے میں سکھ مذہب کی تاریخ اور روایات سے پتہ چلتا ہے کہ جب ان کی عمر تقریبا30 برس کے قریب ہوئی تو ان کو ایک کشف ہوا اور وہ غسل کرکے واپس نہ لوٹے اور ان کے کپڑے مقامی چشمے کے کنارے سے ملے ۔ مقامی لوگوں کا خیال تھا کہ وہ دریا میں ڈوب گئے ہیں،دولت خان نے اپنے سپاہیوں کی مدد سے دریا کو چھان مارا مگر نشان نہ ملا۔اپنی گمشدگی کے تین دن بعد نانک پھر ظاہر ہوئے مگر مکمل خاموشی اختیار کئے رکھی تھی اور جب پہلی بار بولے تو اعلان کیا کہ’’ نہ کوئی ہندو ہے، نہ کوئی مسلمان ہے، بلکہ سب صرف انسان ہیں تو مجھے کس کے راستہ پر چلنا چاہیئے؟ مجھے صرف خدا کے راستے پر چلنا ہے۔ نانک گرو نے کہا کہ انہیں خدا کی بارگاہ میں لے جایا گیا تھا وہاں انہیں امرت سے بھرا ایک پیالہ دیا گیا اور حکم ملا کہ’’ یہ نام خدا کی عقیدت کا پیالہ ہے، اسے پی لو‘‘ اس واقع کے بعد نانک ’’گرو ‘‘بھی کہا جانے لگا جس کے معنی اتالیق یا استاد کے ہیں اور پھر یہیں سے سکھ مذہب نے جنم لیا۔ دیگر مذاہب کی طرح سکھ مذہب کی بنیادوں میں بھی انسانی احترام اور اقدار کی بالادستی کی تعلیمات پوشیدہ ہیں۔سکھ مت کا بنیادی عقیدہ انتقام اور کینہ پروری کی بجائے رحم دلی کا فروغ اور امن کے پیغام کو پھیلانا ہے،سکھ مذہب ان مذاہب میں شامل ہے جو بہت قدیم مذاہب میں شامل نہیں بلکہ حالیہ ترین مذاہب میں سے ایک ہے اور گرنتھ صاحب کی تعلیمات پر عمل کرنا ان کا مذہبی فریضہ ہے اور گرنتھ صاحب کو سکھ مذہب میں سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے بلکہ بالادستی حاصل ہے۔ گرونانک نے اپنی تعلیمات میں اس بات پر زور دیا تھا کہ تمام انسان بغیر کسی رسوم یا مذہبی پیشواؤں کے خدا تعالیٰ تک براہ راست رسائی حاصل کرسکتا ہے بھارت کے نائب صدر رونکیا نائیڈو اور بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ نے راہداری کا سنگ بنیاد رکھا یہ گرداسپور میں واقع ہے اس موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب امریندر سنگھ نے کہا کہ اب سکھ یاتریوں کو ویزے کی ضرورت نہیں رہے گی اور براہ راست زیارت ہوسکے گی،ابھی بھارتی سکھ سرحدی باڑ کی دوسری طرف سے کھڑے کھڑے زیارت کرتے ہیں۔پاکستان کی طرف راہداری کا سنگ بنیادپاکستان کے وزیر اعظم عمران خان 28 نومبر کو رکھنے کے بعد امید ہے کہ ان کی عبادت پھر گوردوارہ کے اندر ہوا کرے گی اور یہ مزہبی رواداری کی وہ شاندار روشن مثال ہے جس کی اس خطے کو اشد ضرورت ہے بشکریہ : بلجیئم ٹائمز

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے