imageshad.jpg

This Page has 45448viewers.

Today Date is: 25-03-19Today is Monday

آٹھ مارچ خواتین کا عالمی دن تحریر: سعدیہ ہماشیخ

  • جمعہ

  • 2019-03-06

. 8 مارچ کو عین موسم بہار میں جب ہر سو سرخ گلابوں کی مہک رچی ہوتی ہے خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا موسم بہار میں خواتین کا یہ عالمی دن ہمارے معاشرے کی خواتین کو بہار کی نوید دیتا ہے جہاں عورتوں کے ساتھ دوسرے نہیں تیسرے درجے کے شہری سا سلوک کیا جاتاہے حتی کہ دو وقت کی روٹی پہننے کو لباس اور چھت بھی اس طرح میسر کی جاتی ہے جیسے اس پر کوئی احسان کیا جاتا ہے کچھ خوش نصیب چند سال باپ کے ساۓ میں سکون کی سانس لے لیتی ہیں مگر شادی ہوتے ہی رسم و رواج کی بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں اور شوہر کے نام کی ہتھکڑیاں لگا دی جاتی ہیں شوہر مجازی خدا کی جگہ حقیقی خدا بن جاتا ہےاور سانس بھی چاہتا ہے کہ بیوی اس مرضی سے لے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس کہا جاتا ہے مگر یہاں دو وقت کی روٹی،تن ڈھانپنے کو لباس اور چھت بھی اس طرح میسر کی جاتی ہے جیسے اس پر کوئی احسان عظیم کیا جا رہا ہوں ساری زندگی وہ اسی بار تلے رہتی ہے اور مرد کمائی کے زعم میں اسے دباتا چلا جاتا ہے. اور اس سب کے بدلے میں دن رات۔کی خدمتیں،اولاد کو جننا،پھر اسے پالنا پوسنا اس پہ فرض ہو جاتا ہے وہ مانند رو بوٹ ہو جاتی ہےاور عورت اس طرح زندگی بسر کرتی ہے کہ اس کے پاؤں میں اولاد کی بیڑیاں اور ہاتھوں میں شوہر کی ہتھکڑیاں ہوتی ہیں اور مرد کو ہر طرح کی آزادی حاصل ہوتی ہے جبکہ عورت کی سانسیں بھی تنگ کر دی جاتی ہیں. یہ سلوک بلاتخصیص ہر طبقے کی عورت سے روا رکھا جاتا ہے ان پڑھ عورت اپنے حقوق سے آگہی نہیں رکھتی اس لۓ چپ۔ چاپ ظلم سہتی رہتی ہے اپنا نصیب سمجھ کر اور پڑھی لکھی عورت آواز بلند کرے اس یکطرفہ اجارہ داری پر تو باغی کا خطاب یا کسی اندھی گولی کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے ایسی صورتحال میں عورتوں کا عالمی دن منانا،سیمینارز،کانفرنسیں،تاک شوز کی کیا حثیت ہے اس دن کیا بدلا وآتا ہے وہی روٹین،وہی روزمرہ کے کام جس معاشرے میں تعلیم حاصل کرنے کی آزادی نہیں اپنی مرضی سے ملازمت نہیں کر سکتی ہاں مرد چاہے تو شمع محفل بنا دے پسند کی شادی ساری زندگی کو عبرت بنا دے وہاں عورت کا دن ایک مذاق ہے. خواتین کی زندگی میں بہار اس ایک دن کو منانے سے کیسےآ سکتی ہے ؟ ہر سال ایک دن منانا اور عملی اقدامات ندارد ، وہی تشدد مار پیٹ،سسرال کی ہرزہ رسائی اولاد نہ ہونے پر دیس نکالا کا ڈر،بیٹیاں ہیں تو بیٹا نہ ہونے کی پاداش میں سوتن کا خوف،شوہروں کا دوسری عورتوں سے سمبندھ، تعلیم ایک عیاشی،قرآن مجید سے شادی،ونی کرنا،کارو کاری اس سب کے ہوتے ہوئے کیسی بہار۔؟ کیسا دن یہ ایک مذاق ہے جو ہر سال عورت سے کیا جاتا ہے تین سو پینسٹھ دن صرف مرد کے ہیں ہر موسم مرد کا موسم ہے ہر بہار مرد کے لے ہے ...... ہاں اگر یہ دن منانا ہے تو اس کے لے ضروری ہے کہ عملی اقدامات کے جائیں انہیں تحفظ دیا جاۓ،انہیں عزت دی جائے وہ عزت جو میرے نبی نے اپنی بیٹیوں اور مسلمان عورتوں کو دی انہیں پیار دیا جاۓ وہ پیار جو میرے نبی نے اپنی ازدواج کو دیا ان کی حفاظت کی جاۓ کہ میرے نبی نے انہیں نازک آبگینےکہا ہے انہیں آبگینوں کی طرح ہی سنبھالا جاۓ گاتو تب یہ دن بہاروں کی نوید بنے گا. ابھی تو عورت شوہر اور بچوں کی زندگی کو پر بہار بنانے کے لئے اپنی ساری زندگی خزاں میں گزار دیتی ہے. زرد موسم کا تسلط ہے، ہما گلشن پر کوئ بتلاے بہاروں کی فضا کیسے ہو

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے