finalishtihaartop.jpg

This Page has 64668viewers.

Today Date is: 24-05-19Today is Friday

مرحوم اداکار سلطان راہی فلمسٹار انجمن پر دل و جان سے فدا تھے ، مگر اداکارہ انجمن کس کی محبت میں ساری زندگی ڈوبی رہی ؟ ایک مست ملنگ قلمکار کی تحریر میں ناقابل یقین انکشاف

  • جمعرات

  • 2019-02-21

لاہور. سجاد جہانیہ کی ادھوری کہانیاں درحقیقت پوری کہانیاں ہیں۔ ہر کردار کی اپنی زندگی ہے اور اپنی ہی زندگی کے راز ہیں۔ سجاد جہانیہ دورانِ گفتگو کرداروں سے زندگی کے راز اُگلواتے ہیں اور ان رازوں سے پردہ بھی اٹھاتے ہیں۔سجاد جہانیہ نے زیادہ تر ایسے کرداروں کے ساتھ مکالمہ کیا ہے نامور کالم نگار محمد افضل عاجز اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ جن سے ہم عام زندگی میں سلام بھی نہیں لیتے۔ میرے خیال میں ایک بڑے کردار کا آدمی ہی ایسے کرداروں کے ساتھ میل جول رکھتا ہے۔ سجاد نے عام لوگوں کے ساتھ مکالمہ کر کے اور پھر انہیں ’’ادھوری کہانیاں‘‘ کے ذریعے ناصرف ان کرداروں کو عزت دی ہے،بلکہ خود بھی ملکی سطح پر عزت کمائی ہے اور ہمیں یہ احساس دلایا ہے کہ اس ملک کا ایک عام آدمی ہی درحقیقت خاص آدمی ہے۔ سجاد جہانیہ کی تحریروں کو مَیں بہت دلچسپی سے پڑھتاہوں، مجھے لگتا ہے کہ یہ شخص آبِ زم زم کی سیاہی اور کھجور کی ٹہنی کی قلم سے لکھتا ہے۔ لفظ سے لفظ جوڑنے کے فن کا ماہر ہے۔ زبان ایسی کہ جیسے شہد کے چشمے کے نزدیک بیٹھ کر لکھتا رہتاہے۔ مجھے حیرت ہے کہ آج کے دور میں حکمرانوں سے لے کر کوچوانوں کی زبان اوئے سے شروع ہو کر توئے پر ختم ہوتی ہے۔ ایسے معاشرے میں رہتے ہوئے سجاد جہانیہ نے ’’ادھوری کہانیاں‘‘ لکھ کر نہ صرف زبان کی عزت کو محفوظ کیا، بلکہ ہم لکھنے والوں کی آبرو کو بھی پڑھایا ہے۔ سجاد جہانیہ کا کچھ وقت لاہور میں بھی گذرا ہے۔ لاہور ایسا شہر ہے جو کسی بھی قسم کے تعصب کے بغیر ہر صاحب علم و فن کی پذیرائی کے لئے تیار رہتا ہے، مگر نجانے کیوں ایک عرصے تک لاہور میں رہنے والے سجاد جہانیہ اہل لاہور کی پذیرائی سے محروم رہے؟ میرا خیال ہے کہ اس میں اہل لاہور کا کوئی قصور نہیں ہے۔ دراصل سجاد جہانیہ نے لاہور میں رہتے ہوئے خود کو چھپائے رکھا اور لوگوں پر اپنا آپ ظاہر نہیں ہونے دیا۔۔۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ لاہور میں رہتے ہوئے اپنی ’’ریاضت‘‘ میں مصروف رہا اور حضرت داتا گنج بخش کے فیض کو اپنے سینے میں اتارتا رہا۔ علم کے دریا میں غوطے لگاتا رہا۔۔۔ اور پھر جب اس کے اندر علم ٹھاٹھیں مارنے لگا تو اس نے ملتان میں حضرت بہاؤالدین زکریا کے مزار کی چھاؤں میں پناہ لے لی۔۔۔ اور اب شاید پورے ’’اِذن‘‘ کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔سجاد جہانیہ کی ادھوری کہانیوں میں بہت سی ایسی کہانیاں ہیں،جنہیں پڑھ کر سینے میں درد کی ایک لہر اُٹھتی ہے، جس سماج میں ہم رہتے ہیں اس سماج کا ایک منفی چہرہ بھی ہمارے سامنے آتا ہے اور انسان کے آنسو گر پڑتے ہیں اور انسان سوچنے لگ جاتا ہے کہ کیا ایک انسان دوسرے انسان کے لئے اس قدر سنگ دِل بھی ہو سکتا ہے۔کتاب میں ایسی کہانیاں بھی ہیں جو پڑھ کے لطف بھی آتا ہے۔ ایسی ہی ایک کہانی فلم سٹار الطاف خان کی ہے۔ الطاف خان بتاتے ہیں کہ وہ پٹھان نہیں ’’جاٹ‘‘ ہیں، مگر اپنی گوری رنگت کی وجہ سے لوگ انہیں پٹھان سمجھتے ہیں۔ یہی الطاف خان یہ دلچسپ انکشاف بھی کرتے ہیں کہ اپنے وقت کی معروف اداکارہ انجمن پر سلطان راہی مرتے تھے، مگر انجمن مجھ پر مرتی تھی اور اس نے اعلان کر رکھا تھا کہ جس فلم میں الطاف خان شامل ہوں گے، مَیں اس فلم میں پچاس ہزار روپے کم معاوضہ لوں گی۔۔۔ کتاب میں معروف غزل گائیک غلام عباس نے یہ انکشاف کیا ہے کہ وہ نکتے والے خان ہیں۔’’خاں صاحب‘‘ نہیں۔ فرماتے ہیں کہ وہ پٹھانوں کے قبیلے ’’داور زئی‘‘ سے تعلق رکھتے ہیں، یعنی نیازی پٹھان ہیں۔ غلام عباس کے اس انکشاف کے بعد مجھے بھی معلوم ہوا کہ وہ پٹھان ہیں، حالانکہ مَیں انہیں ’’خاں صاحب‘‘ ہی سمجھتا تھا۔ کتاب پڑھ کہ مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ سجاد جہانیہ کو ’’کا کا‘‘بننے کا بہت شوق ہے۔انہوں نے نہ صرف مجھے اپنا بزرگ قرار دیا ہے، بلکہ ملک کے معروف کالم نگار عطا الحق قاسمی کے بارے میں بھی کہا ہے کہ وہ ان سے تین دہائیاں بڑے ہیں۔ میرے خیال میں سجاد جہانیہ کو اب بڑا ہو جانا چاہئے، کیونکہ عطاء الحق قاسمی، جناب مجیب الرحمن شامی، جناب عطا الرحمن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب سجاد جہانیہ کے بارے میں قطعی طور پر کہا کہ سجاد جہانیہ ’’بڑے قلم کار‘‘ ہیں اور کسی کو ان کے بڑے ’’قلم کار‘‘ ہونے کے بارے میں شک نہیں ہونا چاہئے۔ میرا خیال ہے کہ اب سجاد جہانیہ کو بھی چاہئے کہ وہ خود کوبڑا’’قلم کار‘‘ تسلیم کر لیں اور خود کو ’’کاکا‘‘ سمجھنا چھوڑ دیں۔ (ش س م) بشکریہ: (قدرت روزنامہ)

صحت و تندرستی کے لیے خاص مشورے